پی ٹی آئی کے اقتدار کیلئے امریکہ کی منتیں ترلے جاری

اقتدار سے بے دخلی کے بعد امریکہ پر اپنی حکومت گرانے کی سازز کا الزام لگانے والے عمران خان نے اب ملک میں جمہوریت کے تحفظ کے بہانے ترلے منتیں کرتے ہوئے امریکہ سے براہ راست مدد طلب کر لی ہے۔پی ٹی آئی کی کوشش ہے کہ ایک سو اراکین کانگریس کے دستخطوں والے خط کے زریعے امریکی وزیر خارجہ سے مدد طلب کی جائے۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہےکہ پی ٹی آئی کی اس کوشش کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوتے نظر نہیں آتے۔ پی ٹی آئی کے اس اقدام کو کئی حلقوں میں ہدف تنقید بنایا جا رہا ہے اور یہ سوال بھی کیا جارہا ہے کہ آیا اس کا کوئی فائدہ بھی ہو گا۔ پی ٹی آئی کی درخواست پر پاکستانی امریکن پولیٹیکل ایکشن کمیٹی نے ایک سو اراکین کانگریس سے رابطہ کیا ہے تاکہ پاکستان میں انسانی حقوق اور جمہوریت کے حوالے سے امریکی حکومت کو خط لکھا جا سکے۔
اس کمیٹی کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ امریکی کانگریس میں پاکستانی مفادات کے حوالے سے کام کرتی ہے۔ انگریزی روزنامہ ڈان نے کمیٹی کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صرف پاکستان میں جمہوریت کی مضبوطی کے لیے کام کر رہی ہے اور یہ کہ وہ کسی سیاسی پارٹی یا گروپ کی مخالفت یا حمایت نہیں کرتی۔
پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کے معتمد خاص ڈاکٹر شہباز گل نے اس حوالے سے منگل کو اس کمیٹی کی سالانہ عشائیے سے خطاب بھی کیا اور پاکستان میں ان لوگوں کے لئے حمایت کی اپیل کی جو ملک میں آئینی جمہوریت کو برقرار رکھنے کے لئے کوشش کر رہے ہیں. یہ خط 28 اپریل کو سیکرٹری آف سٹیٹ انٹونی بلنکن کو بھجوایا جائے گا۔ ڈان کے مطابق اس خط پر اب تک ڈیموکریٹ اورریپبلکن دونوں پارٹیوں کے نوے اراکین کانگریس دستخط کر چکے ہیں۔
پی ٹی آئی اس بارے میں ابھی تک کی پیشرفت کو ایک بڑی کامیابی قرار دے رہی ہے اور اس کا دعوٰی ہے کہ بین الاقوامی برادری جمہوری قوتوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ امریکہ اور یورپ کا ہمیشہ پاکستان میں ایک کردار رہا ہے۔ پارٹی کے ایک رہنما اور سابق مشیر برائے فوڈ سکیورٹی جمشید اقبال چیمہ نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو کو بتایا،”یہ بہت بڑی بات ہے کہ امریکی کانگریس کے نوے ارکان نے ایک ایسے خط پر دستخط کر دیے ہیں جو پاکستان میں انسانی اور جمہوری حقوق کے حوالے سے ہے. اس حکومت کی پہلے ہی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ بین الاقوامی سطح پر اور امریکی کانگریس کے اراکین کی طرف سے جب جمہوری اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے سوالات اٹھائے جائیں گے، تو اس حکومت کی پوزیشن مزید کمزور ہوگئی۔‘‘
جمشید اقبال چیمہ کادعویٰ ہے کہ ان سرگرمیوں کی وجہ سے حکومت مجبور ہوگی کہ وہ عوامی مطالبات مانے اور بروقت انتخابات کرائے۔پاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی اہم جغرافیائی حیثیت اور اس کے پاس جوہری ہتھیاروں کی موجودگی کی وجہ سے اس کی ایک مسلمہ عالمی اہمیت ہے۔ انہوں نے بتایا، ”دنیا اس حوالے سے فکر مند رہتی ہے کہ پاکستان میں کوئی ایسی صورت حال نہ پیدا ہو جائے کہ جس کی وجہ سے یہ ملک افراتفری یا انتشار کی طرف چلا جائے۔ لہذا پی ٹی آئی اگر امریکی کانگریس سے رابطہ کرتی ہے تو اس کا ممکنہ طور پر اثر تو ہو سکتا ہے۔‘‘
شمشاد احمد خان کے مطابق انتخابات کرانا اور انتخابات میں حصہ لینا کسی بھی ملک کی عوام کا جمہوری حق ہے. ”پاکستان نے اقوام متحدہ میں خود اس حق کو خود اس وقت تسلیم کیا جب سابق بھارتی وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے کشمیر میں استصواب رائے کرانے کا وعدہ کیا اور اب پاکستان کے عوام کے حق خود ارادیت کا مسئلہ ہے کیونکہ انہیں حکومت منتخب کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔‘‘
تاہم بین الاقوامی امور کے کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ اس حوالے سے تحریک انصاف کی کوئی خاص مدد نہیں کر سکتا۔ اسلام آباد میں قائم ایک نجی یونیورسٹی پریسٹن کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات سے وابستہ ڈاکٹر امان میمن کا کہنا ہے کہ امریکہ کے پاکستان کی طاقتور اسٹیبلشمنٹ سے ہمیشہ مظبوط تعلقات رہے ہیں اوراسٹیبلشمنٹ اس وقت موجودہ حکومت کے پیچھے کھڑی ہے۔ انہوں نے بتایا، ” تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واشنگٹن ایسی صورت میں پی ٹی آئی کی مدد کرے گا۔ میرے خیال میں بالکل نہیں۔‘‘
خیال رہے کہ پی ٹی آئی پنجاب اور کے پی میں نوے دنوں میں انتخابات کا انعقاد چاہتی ہے لیکن کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ نہ صرف حکومت بلکہ جی ایچ کیو بھی نوے دن کے اندر انتخابات کے حق میں نہیں۔ امان میمن کے مطابق ”واشنگٹن نے ہمیشہ جی ایچ کیو کو اہمیت دی ہے اور کیونکہ جی ایچ کیو اس وقت عمران خان کے ساتھ نہیں ہے، تو اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ امریکہ عمران خان کی کوئی مدد کرے۔‘‘
واضح رہے کہ شہباز گل نے امریکہ میں اپنی ملاقاتوں میں یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ پی ٹی آئی امریکہ مخالف نہیں لیکن ناقدین کا خیال ہے کے عمران خان کی جانب سے اپنی حکومت کے خاتمے کے لیے امریکہ کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بعد سے وہ واشنگٹن کا اعتماد کھو چکے ہیں۔ امان میمن کے مطابق عمران خان نے امریکہ کو سازشی قرار دیا۔ ”واشنگٹن نے عمران خان کی ساری تقاریر اور سرگرمیوں پر نظر رکھی اور ان کی نظر میں عمران خان کوئی قابل بھروسہ رہنما نہیں ہے۔ تو عمران کی امریکہ مخالف تقاریر بھی کسی بھی مدد کے راستے میں حائل ہوں گی۔‘‘
امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی امان میمن کی اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی پچیس سالہ امریکہ مخالف تاریخ رہی ہے، جو اس وجہ سے تبدیل نہیں ہو سکتی کہ کچھ امریکی پاکستانیوں نے اپنے کانگریس کے نمائندوں سے ملاقاتیں کی ہیں۔ انہوں نے بتایا، ” پاکستانی سیاسی جماعتوں نے ماضی میں بھی امریکی کانگریس کے اراکین کے ساتھ لابی کی ہے۔ لیکن امریکہ میں نہ تو پاکستانی کمیونٹی کا ووٹ بینک بڑا ہےاور نہ ہی وہ سیاسی جماعتوں کو بھاری چندہ دے سکتی ہے لہذا ان ملاقاتوں کا کوئی خاص اثر نہیں ہوتا۔ سوائے اس کے کہ اس سے پاکستان میں ہیڈ لائنز بن جاتی ہیں۔‘‘
