صدارتی ایوارڈ کے بعد تنقید کا شکار معروف شخصیات کون؟

مختلف شعبہ ہائے زندگی میں شاندار کارکردگی دکھانے والوں کو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے مختلف سرکاری اعزازات سے نوازا گیا، جس پر بہت سی شخصیات کی واہ واہ ہوئی تو بہت سی شخصیات تنقید کی زد میں آ گئیں۔

جمعرات کو ایوان صدر اسلام آباد میں ہونے والی اس تقریب میں 10 مختلف کیٹگریز میں سِول اعزازات تقسیم کیے گئے جن میں نشانِ امتیاز، تمغۂ امتیاز، ہلالِ امتیاز، ہلالِ قائداعظم، ستارۂ شجاعت، ستارۂ امتیاز، صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی، تمغۂ شجاعت اور تمغہ خدمت شامل ہیں۔

سوشل میڈیا پر جن ناموں پر زیادہ تنقید ہو رہی ہے، ان میں تمغۂ شجاعت حاصل کرنے والے آئی جی پولیس اسلام آباد ڈاکٹر اکبر ناصر خان اور ڈی اینٹی کرپشن پنجاب سہیل ظفر چٹھہ بھی شامل ہیں، ان دونوں افسران کو تمغے ملنے پر زیادہ تر تنقید تحریک انصاف کے حامی ٹوئٹر صارفین کی جانب سے کی جا رہی ہے۔

ایک ٹوئٹر صارف عبدالجبار نے لکھا مقدموں پر تمغہ شجاعت، صدر عارف علوی بھی کمال ہیں، عمران خان پر درجن سے زائد مقدمات درج کرنے والے آئی جی اسلام آباد اکبر ناصر کو تمغہ شجاعت عطا کیا۔

فوزیہ صدیقی نے تمغۂ شجاعت حاصل کرنے والے ایک اور افسر ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب سہیل ظفر چٹھہ کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا یہ جس خوشی میں اس کو تمغۂ امتیاز دیا گیا ہے، اس کی تفصیل تو ضرور جان لو پاکستانیو۔ سہیل ظفر چٹھہ بدنام زمانہ اِنکاؤنٹر سپیشلسٹ پولیس افسر حمزہ شہباز کے کلاس فیلو بتائے جاتے ہیں۔

دوسری جانب کچھ صارفین ان کی تعریف بھی کرتے دکھائی دیئے، محمد حسنین نسیم نے لکھا کہ ڈاکٹر اکبر ناصر خان اور ڈی آئی آپریشنز سہیل ظفر چٹھہ کو دوران سروس عوام کے جان و مال اور ملکی سلامتی کے لیے اعلیٰ خدمات کے اعتراف میں جناب صدر پاکستان نے تمغہ شجاعت سے نوازا جو اسلام آباد کیپیٹل پولیس کیلئے ایک فخر کی علامت ہے۔

عامر کوہی نامی ٓصارف نے الزام عائد کرتے ہوئے لکھا ’نت نئے اور امتیازی طریقوں سے کرپشن کرنے اور پی ٹی آئی کارکنوں پر شیل مارنے کے صلے میں سہیل ظفر چٹھہ کو بھی تمغۂ شجاعت سے نوازا گیا ہے۔

اداکار بہروز سبزواری کو ستارۂ امتیاز سے نوازا گیا، ان کا نام سامنے آںے کے بعد سوشل میڈیا پر ان کی موجودہ حکومت اور وزیراعظم شہباز شریف کے خلاف کی گئی گفتگوؤں کا حوالہ دیا جانے لگا، عامر ایچ قریشی نے لکھا چور چور کی گردان کرنے والے بہروز سبزواری نے گردن آگے کر کے میڈل وصول کر لیا۔

سکورپیئس نامی ٹویپ نے طنز کرتے ہوئے لکھا کہ بہروز سبزواری بہت غیرت مند اور بااصول شخص ہیں، انہوں نے چوروں سے یہ ایوارڈ غلطی سے لے لیا ہے، وہ گھر جاتے ہی اسے واپس بھجوا دیں گے، ایک صارف وقاص امجد نے سوال اٹھایا کہ صحافی ’جاوید چوہدری کو کن خدمات پر تمغے سے نوازا جا رہا ہے؟

ان کا ٹویٹ شیئر کر کے منصور احمد قریشی نے لکھا صدر صاحب تو آپ کے ہیں جنہوں نے جاوید چوہدری صاحب کو تمغہ دیا ہے، اُن سے پوچھیں، وسیم ملک نے لکھا اگر جاوید چوہدری کو صحافتی خِدمات پر صدارتی ایوارڈ دیا جا سکتا ہے تو اُستاد چاہت علی خان کو موسیقی کے میدان میں ان کی خِدمات کے صِلے سے کیوں محروم رکھا گیا ہے۔

گورنر سندھ کامران ٹیسوری کو بھی تمغہ امتیاز سے نوازا گیا، وہ بھی سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں ہیں، کامران ٹیسوری کا تعلق ایم کیو ایم پاکستان ہے۔ کچھ عرصہ قبل جب انہیں گورنر سندھ مقرر کیا گیا تھا، اس وقت بھی ان پر کافی تنقید کی گئی تھی۔

صحافی فیض اللہ خان نے کامران ٹیسوری کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا گورنر سندھ کامران ٹیسوری کو بھی اعلیٰ قومی اعزاز سے نوازا گیا، بہت مبارک ہو مگر کوئی جانتا ہے کہ انہیں آخر کس کارکردگی کی بنیاد پہ یہ اعزاز ملا؟ ایک صارف شفقت چوہدری نے لکھا کہ صدارتی تمغہ امتیاز آج پھر مذاق بن کر رہ گیا جب یہ گورنر سندھ کامران ٹیسوری جیسے بندے کو دیا گیا۔

جہاں اعزازات حاصل کرنے والے کئی افراد پر تنقید کی جا رہی ہے وہیں کچھ شخصیات کے بارے صارفین کا خیال ہے کہ وہ اعزاز کے حقیقی مستحق تھے۔کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ ڈاکٹر سعید اختر کو شعبہ طب میں خدمات پر ستارۂ امتیاز سے نوازا گیا تو سوشل میڈیا پر سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو صارفین یاد کرنے لگے۔

عثمان چوہان نے لکھا ستارۂ امتیاز ڈاکٹر سعید اختر، سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اس شخص کے خلاف از خود نوٹس لیا تھا، ایک ٹویپ امتیاز نے لکھا ’ ڈاکٹر سعید اختر پورے قد سے عزت و وقار سے کھڑا ہے لیکن ثاقب نثار تاریخ کے اندھے کنویں میں پڑا ہے۔

پاکستان کے دشمن اور عمران خان ایک پیج پر کیوں؟

Back to top button