پاکستان کے دشمن اور عمران خان ایک پیج پر کیوں؟

سینئر سیاسی تجزیہ کار  حفیظ الله نیازی نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سے بدلہ لینے اور اسے  کمزور کرنے کے لئے اگر پاکستان کا نقصان ہو جائے تو بھی یہ عمران خان کے لئے گھاٹے کا سودا نہیں ہے . عمران خان اور  پاکستان دُشمنوں کے مفادات ایک ہو چکے بلکہ دونوں ایک صفحہ پر براجمان ہیں، اپنے کالم میں حفیظ الله نیازی لکھتے ہیں کہ وازشریف حکومت کو جب زمیں بوس کیا تو وہم و گمان میں نہ تھا کہ سی پیک قصۂ پارینہ بن جائے گا۔ سیاسی بحران کی کوکھ سے معاشی اَبتری اور لاقانونیت کا جنم لینا فطری عمل تھا۔ ایف اے ٹی ایف  اور IMF کے شکنجے پہلے سے تیار تھے۔ عمران خان یا موجودہ حکومت کی ناکامی کی وجوہات ذاتی اغراض اور بد نیتی ہیں اب  وطن عزیز امریکی مگرمچھ کے جبڑے میں پھنس چکا ہے۔

’’پروجیکٹ عمران خان‘‘کی تباہ کاریاں کیا گُل کِھلا تیں؟ امریکہ کا بحران کو اپنی مرضی و منشاکے مطابق استعمال میں لانا ہمیشہ سے طے تھا ۔ افواج پاکستان کے سائز پر گفتگو، پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کا خبروں کی زینت بننا،پاکستانی سیاست میں امریکی دخل در معقولات کا سلسلہ جاری ہے ۔آج بحران سے نکلنے کے راستے بند ہے بلکہ بحران کو بڑھانے کے نئے نئے جتن سامنے آ رہے ہیں ۔ اس سے بڑا حادثہ کیا ہوگا اگر آئین اور قانون کی پاسداری اور سیاسی معاملات میں عمل داری ممکن بنائیں تو انارکی منتظر ہےجب کہ ماؤرائے آئین اقدامات ، تباہی و بربادی کے لئے اکسیر ثابت ہونے کو ہیں۔

حفیظ الله نیازی کہتے ہیں کہ جنرل باجوہ کے 6 سال مملکت کے لئےڈرائونا خواب ثابت ہوئے۔ آج کے پروجیکٹ عمران خان کی بنیاد جنرل کیانی کے زمانے میں رکھی گئی، خدوخال راحیل شریف کے دور میں سنوا رے گئے اور  پایۂ تکمیل تک پہنچانے کا سہرا جنرل باجوہ کی ٹیم کے سر  ہے ۔ عمران خان کے اقتدار میں آتے ہی سی پیک کا ٹھپ ہونا اور امریکہ کا کروفر سے دوبارہ آن دھمکنا ایک منطقی نتیجہ تھا۔ اگرچہ عمران خان کو اقتدار سے نکالنے کے لئے جمہوری راستہ اختیار کیا گیا تاہم  عمران خان نے شاطرانہ طریقے سےاُس کو اپنے خلاف امریکہ اور اسٹیبلشمنٹ کی ملی بھگت قرار دے دیا اس طرح  اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بیانیے کوپذیرائی ملنا قابلِ فہم ہے اور اہم یہ بھی کہ مقبول رہنما کے مفادات اور پاکستان دُشمنوں کے مفادات ایک ہو چکے بلکہ ایک صفحہ پردونوں براجمان ہیں۔

حفیظ الله نیازی کا کہنا ہے کہ عمران خان کے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ میں رفعتیں اور پذیرائی ضرور ہیں مگر  ایک سُقم یہ ہے کہ الیکشن پر خِط تنسیخ لگ گیا  ۔عمران خان کے لئے  اسٹیبلشمنٹ سے انتقام کی آگ بجھانا پہلی ترجیح بن گئی ۔ عمران خان کی شخصیت کا ایک پہلو ہمیشہ سے رچا بسا ہے کہ بدلہ لینے کے لئے اگر اسٹیبلشمنٹ کو کمزور کرنے میں وطن عزیز کا نقصان ہو بھی جائے تو گھاٹے کا سودا نہیں ۔ یہ درست ہے کہ 10 اپریل سے 25 مئی تک ہونے والے لانگ مارچ کے دوران یہ کوشش کی جاتی رہی کہ دباؤ ڈال کر معاملہ فہمی سے شاید الیکشن کا انعقاد ممکن ہو جائے۔

مگر 25 مئی کو  لانگ مارچ کی ناکامی کے بعد یہ  یقین ہو گیا کہ  الیکشن والاباب بند ہو چکا ہے۔ آج کل اُس کا برملا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ الیکشن ممکن نہیں رہے ۔ دلچسپ پہلو یہ ہے  کہ موجودہ حکومت ، اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان تینوں فریقین کے لئے الیکشن کا انعقاد ناممکن ہے۔اسٹیبلشمنٹ کے لئےبُری خبر یہ ہے کہ عمران خان اپنے مشن کو خوش اسلوبی سے پایۂ تکمیل تک پہنچا چُکے ہیں۔ ملک کی کثیر رائے عامہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف منظم اور ہموار ہو چکی ہے۔مملکت میں چار سُو افراتفری ہے ، ایسے میں عمران خان جئے یا مرے، ریاست ناقابل استعمال ہو چکی ہے ۔ اب عمران خان کے علاوہ کسی کے لئے بھی جائز حکومت کرنا ناممکن ہے۔

حفیظ الله نیازی کہتے ہیں کہ عمران خان کا عفریت اسٹیبلشمنٹ نے خود بڑی  محنت سے تیار کیا جو  ادارے کا پوسٹر بوائے اور برانڈ بن کو اُبھرا ۔ اسے مافوق الفطرت انسان کے طور پر پیش کیا گیا ۔ اُس کے مد مقابل سیاسی قوتوں کو دھونس دھاندلی سے ہٹادیا گیا ۔ اکلوتے عمران خان کے لئے خالی میدان مہیا کیا گیا ۔ جنرل باجوہ اور اُس کی ٹیم کی حماقتوں سے آج مملکت منہ کے بل اوندھی کھائی میں گری ہوئی ہے۔

بد قسمتی یہ ہے کہ عمران خان کو ہینڈل کرتے ہوئے اُس کی مقبولیت اور کمزوریوں کا مکمل  احاطہ نہیں کیا گیا ۔ عمران خان کی میڈیا ہینڈلنگ ، عوام الناس تک رسائی، تقریر اور انداز گفتگو غیر معمولی ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا ، مین اسٹریم میڈیا ، جلسے جلوس، انٹرویوز وغیرہ کا موثر استعمال کیا۔ بذریعہ سوشل میڈیا عمران نے اسٹیبلشمنٹ پرقیامت ڈھا رکھی ہے ۔ پچھلے ایک سال سے جس بہتات سے ٹی وی اسکرین عمران خان کو میسر رہی ہے ، 26سالہ سیاسی زندگی کا ٹوٹل اس سے کم ہے . عمران خان کا دوسرا وصف یہ ہے  لڑنے بھڑنے کے لئے جو خوبیاں درکار وہ بدرجہ اُتم ان میں  موجود ہیں یعنی دلیری، خطرے کو بھانپنے کی صلاحیتیں اور جارحانہ انداز کی وجہ سے عوامی رائے عامہ کو قدم بہ قدم ساتھ رکھنا۔

حفیظ الله نیازی کے مطابق  آج موجودہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ دونوں لڑائی میں عمران خان کے سامنے بے دست و پانظر آ رہے ہیں، عمران خان کی کمزوری کا فائدہ نہیں  اُٹھایا گیا۔ عمران خان سیاست سے یکسر نابلد بلکہ سیاسی حکمت عملی وضع کرنے کے لئے معمولی سوچ سمجھ سے بھی عاری ہے۔ 27برسوں سے اس کی ایک حکمت عملی ایسی نہیں جو ہزیمت، شرمندگی یا پریشانی کا باعث نہ بنی ہو۔ عمران خان کی کمزوری توجاہ کا مرکز نہ رہی، یہ مقابلہ تھا ہی نہیں کہ وہ سیاست اور سیاسی حکمت عملی میں نوازشریف زیر کر سکتا۔ نواز شریف کو سیاسی میدان سے باہر کر دیا گیا، اس وقت حکومتی حلقے، اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کے حلقے ، سب متفق ہیں کہ مملکت ہاتھ سے نکل چکی، عمران خان کی کامیابی میں مملکت خدادادِ اسلامیہ کا مستقبل تاریک ہے اور ماورائے آئین کوئی قدم بھی  تباہی و بربادی ہے  ۔باقی رہے نام اللّٰہ کا۔

اداکارہ یشماگل کب اور کس سے شادی کرینگی؟

Back to top button