پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کی کالا باغ ڈیم کی مخالفت، معدنیات پر یکطرفہ فیصلہ نامنظور

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) خیبر پختونخوا نے کالا باغ ڈیم منصوبے کی دوٹوک مخالفت کرتے ہوئے معدنی وسائل سے متعلق یکطرفہ فیصلوں کو بھی مسترد کر دیا ہے۔
پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر کی زیر صدارت اجلاس میں پارٹی عہدیداران نے قرارداد کے ذریعے مؤقف اختیار کیا کہ کالا باغ ڈیم زرخیز زمینوں کو ڈبونے، عوام کو بے گھر کرنے اور صوبائی تنازعات کو ہوا دینے کا سبب بنے گا، اس لیے اسے مکمل طور پر مسترد کیا جاتا ہے۔
قرارداد میں کہا گیا کہ معدنی وسائل کے معاہدوں پر بانی پی ٹی آئی کے مؤقف کو تسلیم کیا جائے، خیبرپختونخوا اسمبلی کی اجازت کے بغیر کوئی معاہدہ نہ کیا جائے اور ضم شدہ قبائلی اضلاع سمیت صوبے میں جاری منصوبوں کی جانچ پڑتال کا اختیار بھی اسمبلی کو دیا جائے۔
اجلاس میں صوبائی حکومت کے سامنے 4 نکاتی ایجنڈا بھی رکھا گیا، جس میں ضم شدہ اضلاع میں آپریشن اور ڈرون حملے بند کرنے، آرٹیکل 245 سے متعلق سپریم کورٹ میں اپیل واپس لینے، سول اتھارٹی کی بحالی، 9 مئی کے مقدمات ختم کرنے اور 8 فروری کے اقدامات پر متعلقہ افسران کو جوابدہ بنانے کے مطالبات شامل ہیں۔
مزید برآں، اجلاس میں یہ قرارداد بھی منظور کی گئی کہ بانی پی ٹی آئی کے وژن کے مطابق ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے بلین ٹری سونامی منصوبے پر دوبارہ توجہ دی جائے اور اگر وفاق نے یکطرفہ فیصلے کیے تو وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور عوام کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
