پاکستان میں بنگلہ دیش اور نیپال جیسا انقلاب کیوں نہیں آ سکتا؟

 

جب سری لنکن عوام حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکلے تھے تو تحریک انصاف کے پروانوں نے پاکستان میں بھی عوامی انقلاب کی نوید سنانا شروع کر دی تھی لیکن عملا ایسا کچھ نہ ہو پایا کیونکہ وہاں پر فیصلہ سازی فوج کے ہاتھ میں آ گئی۔ اس کے بعد بنگلہ دیشی طلبہ نے حسینہ واجد کے خلاف مظاہرے شروع کیے تو یوتھیوں نے شور مچا دیا کہ اب تو یہاں انقلاب آ کر رہے گا۔ تاہم بنگلہ دیش میں فوج نے وزیراعظم کو استعفے پر مجبور کیا جس کے بعد سے فوج کی بنائی گئی ایک عبوری حکومت نظم و نسق چلا رہی ہے۔ اب نیپال میں نوجوانوں نے پر تشدد مظاہروں سے حکومت کو گھر بھیجا ہے تو وہاں بھی فوج نے کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ لیکن پاکستانی سوشل میڈیا پر یوتھیے یہ شور مچا رہے ہیں کہ انقلاب ایک بار پھر ہمارے در پر دستک دے رہا ہے حالانکہ ایسا کچھ نہیں ہونے والا۔ تحریک انصاف نے جو انقلاب لانا تھا وہ 9 مئی 2023 کو اپنے انجام سے دوچار ہو چکا جس کے نتیجے میں آج عمران خان جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند ہیں۔

یاد رہے کہ سب سے پہلے سری لنکا کے ڈیفالٹ کر جانے کے بعد لوگوں نے ایوان صدر کی طرف مارچ کیا اور اپنے صدر کو ملک سے بھاگنے پر مجبور کر دیا تھا۔ اس کے بعد وہاں حکومت تبدیل ہوئی لیکن فیصلہ سازی فوج کے ہاتھ میں آ گئی۔ لیکن تحریک انصاف کے سوشل میڈیا بریگیڈ نے پاکستان کو سری لنکا بنانے کا بیانیہ بنانا شروع کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سری لنکا بن جائے گا اور یہاں سری لنکا جیسے حالات پیدا ہو جائیں گے۔ لیکن یوتھیوں کی امیدوں کے برعکس نہ تو پاکستان نے ڈیفالٹ کیا اور نہ ہی پاکستان سری لنکا ہی بنا۔

اسکے بعد جب پچھلے برس بنگلہ دیش میں حالات خراب ہوئے اور نوجوانوں نے کوٹہ سسٹم کے خلاف مظاہرے کیے تو حسینہ واجد کا اپنا رشتہ دار آرمی چیف ان کے خلاف کھڑا ہو گیا اور انہیں اقتدار چھوڑ کر انڈیا بھاگنا پڑا۔ ایسے میں پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا بریگیڈ نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے کی رٹ شروع کر دی۔ تحریک انصاف نے یک دم اپنے نوجوانوں کے ونگ کو متحرک کرنا شروع کرتے ہوئے یہ بیانیہ بنانا شروع کر دیا کہ پاکستان میں بھی بنگلہ دیش جیسے حالات ہیں۔ اس لیے یہاں بھی انقلاب آ جائے گا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اب نیپال میں سیاسی بدامنی شروع ہوئی ہے تو تحریک انصاف والے ایک بار ہھر پاکستان میں بھی نیپال جیسے انقلاب کی نوید سنا رہے ہیں۔ پاکستان اور نیپال کا فرق سمجھے بغیر پاکستان میں نیپال جیسے حالات پیدا ہونے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے کیوں کہ امید پر دنیا قائم یے۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اور نیپال میں بہت فرق ہے۔ ویسے بھی نیپال میں جو ہوا ہے وہ جمہوریت یا سول بالادستی کے لیے نہیں ہوا ہے۔ وہاں سوشل میڈیا پر پابندیاں عائد کیے جانے کے خلاف پرتشدد مظاہروں کے دوران سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ سمیت جمہوریت کی تمام تر نشانیاں جلا دی گئی ہیں اور یہ خیال ظاہر کیا جا رہا یے کہ اب وہاں بادشاہت واپس آجائے گی۔ جلا وطن بادشاہ واپسی کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ اسی لیے نیپال کے آرمی چیف نے قوم سے خطاب کیا تو ان کے پیچھے بیک گراونڈ میں نیپال کے پہلے بادشاہ کی تصویر لگی ہوئی تھی حالانکہ وہاں 2008 میں بادشاہت ختم کر کے جمہوریت قائم کر دی گئی تھی۔ اب دوبارہ بادشاہت کی بحالی کی بات ہو رہی یے اور اس سازش میں فوج شامل ہے۔

دوسری جانب بھارت بھی نیپال کے حالات سے خوش نہیں ہے اور وہ حکومت کی تبدیلی کا سارا الزام پاکستان پر لگا رہا ہے۔ یاد رہے کہ پاک بھارت جنگ میں نیپال بھارت کے ساتھ تھا۔ نیپال کی حکومت نے بھارت کی کھلم کھلا حمایت کی تھی۔ اس لیے نیپال میں حکومت کی تبدیلی بھارت کے لیے نیک شگون نہیں۔ اس سے پہلے بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کی حکومت بھی بھارت نواز حکومت سمجھی جاتی تھی اور وہاں حکومت کا جانا بھی بھارت کے مفادات کے خلاف تھا۔ بنگلہ دیش کی طرز پر نیپال میں بھی ایک عبوری حکو مت قائم کر دی گئی ہے اور سابق خاتون چیف جسٹس کو عبوری سربراہ بنا دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے بنگلہ دیش میں معروف بینکر محمد یونس کو عبوری حکومت کا سربراہ بنا دیا گیا تھا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بات قابل ذکر ہے کہ نیپال اور بنگلہ دیش میں نوجوانوں کی تحریکوں کے نتیجے میں وہاں کی افواج نے اپنی مرضی کے سیٹ اپ بنائے ہیں۔ بنگلہ دیش میں بھی یونس فوج کی مدد سے بیٹھے ہیں اور نیپال میں بھی فوج اپنی مرضی کا سیٹ اپ لائی ہے۔ اس لیے دونوں جگہ دیکھا جائے تو اصل فاتح فوج ہی نظر آتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نیپال میں مودی حکومت کے خلاف ویسی ہی نفرت موجود تھی جیسے بنگلہ دیش میں مودی حکومت کے خلاف نفرت موجود تھی۔ بنگلہ دیش میں بھی یہی رائے تھی کہ مودی کے سرمایہ کار بنگلہ دیش کو لوٹ رہے ہیں، اور یہ کہ وہاں حکومت بھارت کی ڈمی حکومت ہے، اسی طرح نیپال کا نوجوان بھی بھارت کی معاشی بالا دستی سے تنگ نظر ہے۔ بھارت کے خلاف نفرت بنگلہ دیش اور نیپال دونوں ممالک کے نوجوانوں میں نظر آئی۔ دونوں ملکوں کا نوجوان یہی کہہ رہا ہے کہ بھارت کا سرمایہ کار ہمیں لوٹ رہا ہے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ پاکستان میں بنگلہ دیش اور نیپال جیسا انقلاب آبا اس لیے ممکن نہیں کہ یہاں کی حکومت بھارت نواز نہیں بلکہ بھارت مخالف ہے جس نے حالیہ جنگ میں انڈین فوج کو ناکوں چنے چبوائے ہیں۔

Back to top button