کیا پتھر کھانے والی اسٹیبلشمنٹ عمران کو معاف کردے گی؟

معروف تجزیہ کار نجم سیٹھی نے دعوی کیا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان ایک بار پھر طاقتور پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطے میں آ چکے ہیں، اور انہیں مارچ 2023 میں نئے الیکشن کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عمران اسٹیبلشمنٹ کی اس یقین دہانی کا یقین کرنے کو تیار نہیں۔ اسی لیے خان صاحب نے اسٹیبلشمنٹ کو پتھر مار مار کر اس کا برا حال کر دیا ہے۔
دوسری جانب حکومتی ذرائع کہتے ہیں کہ الیکشن اگلے برس اکتوبر میں ہی ہوں گے اور اس سے پہلے عمران خان کو اپنی چوریوں اور کرپشن کا حساب دینا ہو گا جسکے نتیجے میں انکے الیکشن سے باہر ہو جانے کا قوی امکان موجود یے۔ عمران خان خود بھی جلسوں میں مسلسل اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ انہیں انتخابی سیاست سے باہر کرنے کے لیے نااہل قرار دیا جائے گا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان میں ان کی نا اہلی کے لیے دو ریفرنسز بھی زیر سماعت ہیں۔ لیکن حکومتی ذرائع کہتے ہیں کہ عمران خان سے زیادہ کوئی نہیں جانتا کہ ان کے خلاف فارن فنڈنگ اور توشہ خانہ کیسز میں خرد برد اور قانون شکنی کے ثبوت کتنے پکے ہیں لہٰذا انہیں اپنی نااہلی کا یقین ہے اور اسی لیے وہ اسے ابھی سے سازش قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
نیا دور کے پروگرام خبر سے آگے میں گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے بتایا ہے کہ عمران خان اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطے میں آ چکے ہیں اور انہیں یہ یقین دہانی بھی کروائی گئی ہے جنوری 2023 میں الیکشن کا اعلان کر دیا جائے گا اور ان کا انعقاد مارچ 2023 میں ہو جائے گا جوکہ صاف اور شفاف طریقے سے ہوں گے لیکن اہم سوال یہ ہے کہ کیا عمران اسٹیبلشمنٹ کی اس تسلی پہ یقین کریں گے۔ بظاہر ایسا معلوم نہیں ہوتا کیونکہ شدید تنقید کے باوجود عمران سیلاب میں بھی اپنی عوامی جلسے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا موڈ بہت واضح ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ جنوری 2023 تک نئے الیکشن کے اعلان کا انتظار کرتے ہیں یا پھر آخری حملہ کردیتے ہیں۔
نجم سیٹھی کے مطابق اس وقت اگر کسی کو کسی پر اعتبار ہے تو وہ اسٹیبلشمنٹ کو شہباز شریف پر اور شہباز شریف کو اسٹیبلشمنٹ پر ہے۔ اس وقت بظاہر دونوں یک جان دو قالب ہیں۔ انٹرنیشنل کمیونٹی بھی اسٹیبشلمنٹ کے ساتھ ہے، وہ نہ عمران کے ساتھ ہے اور نہ ہی موجودہ حکومت کے ساتھ ہے۔ سیٹھی کا کہنا ہے کہ اس وقت صرف ایک شخص مشکل میں ہے اور وہ عمران خان ہے جس کے لیے ستمبر بہت اہم مہینہ ہے۔ انکے بقول، نہ تو خان صاحب کو اسٹیبلشمنٹ پر اعتبار رہا یے اور نہ ہی اسٹیبلشمنٹ کو عمران پر۔ انھوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کے بارے کوئی جو مرضی کہتا رہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ اب بھی بہت پاورفل ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے بارے میں ہر قسم کی بات ہو چکی ہے، ہر قسم کی بات ہو رہی ہے، کچھ چھپا ہوا نہیں ہے۔ لوگ نام لے کر باتیں کر رہے ہیں۔ خان صاحب نے اسٹیبلشمنٹ کو پتھر مار مار کر ان کا برا حال کر دیا ہے۔
نجم سیٹھی نے عمران خان کی حالیہ تقریر میں دی گئی یہ دھمکی یاد دلائی کہ جن چار لوگوں نے میرے خلاف سازش کی میں انہیں لازمی بے نقاب کر دوں گا۔ سیھٹی کا کہنا تھا کہ محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے بھی 2007 میں دبئی سے واپس آ کر چار لوگوں کا نام لیا تھا تو کیا کسی کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا؟ حقیقیت یہ ہے کہ جہاں بھی اسٹیبلشمنٹ کا نام آ جائے تو وہاں کوئی انہیں کسی بھی واردات کے لیے ذمہ دار نہیں ٹھہراتا۔ میڈیا بھی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے کنٹرول میں ہے اس لئے میڈیا بھی ان کا بیانیہ چلاتا ہے۔ ویسے بھی جو لوگ اللہ کو پیارے ہو جاتے ہیں، انہیں بھلا دیا جاتا ہے۔ اس لئے عمران خان کو نہایت احتیاط کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

جنوبی پنجاب کا تیسری مرتبہ سیلاب میں ڈوبنے کا خدشہ کیوں؟

نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ یوکرین کے ساتھ جنگ کی وجہ سے روس پر پابندیاں لگی ہوئی ہیں ان سے تیل نہیں خرید سکتے۔ دوسری جانب خان صاحب کہہ رہے ہیں کہ روس سے تیل لینا چاہیے حالانکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اگر وہ خود بھی اقتدار میں ہوتے تو روس سے تیل نہیں خرید سکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ نئے پاکستان کی بات بھٹو صاحب نے پہلے کی تھی عمران نے تو بعد میں آ کر نئے پاکستان کا نعرہ لگایا۔ لیکن افسوس کی ہم ہر بار نیا پاکستان بناتے ہیں اور جو پاکستان رہ گیا ہے اس کے بھی ٹکڑے کر دیتے ہیں۔ انہون نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں دو ٹرننگ پوائنٹس تھے؛ پہلا بھٹو صاحب کا پاپولزم تھا اور دوسرا عمران خان کا فاشزم۔ عوام پاپولزم کے بہکاوے میں آ جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انقلاب آ گیا ہے حالانکہ یہاں آئین کو گھاس بھی نہیں ڈالا جاتا۔

Back to top button