عمران کے توہین عدالت کیس میں کھوتا کھو میں جا گرا

ایک خاتون جج کو دھمکی دینے کے الزام پر توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے والی اسلام آباد ہائی کورٹ 31 اگست کو عمران خان کی جانب سے داخل کروائے گئے جواب پر دفاعی پوزیشن میں چلی گئی اور سابق وزیراعظم کو ایک اور موقع دیتے ہوئے دوبارہ سے جواب داخل کرنے کی ہدایت کر دی۔ کیس کی کارروائی دیکھنے والوں کا کہنا ہے کہ کسی بھی لمحے ایسا محسوس نہیں ہوا کہ عمران خان کو توہین عدالت میں طلب کیا گیا ہے کیونکہ چیف جسٹس اطہر من اللہ معذرت خواہانہ لہجہ اپنائے ہوئے تھے اور سابق وزیر اعظم سے مہمان خصوصی والا برتائوکیا جا رہا تھا۔ اطہر من اللہ نے عمران کو باربار ایک بڑے سیاسی قد کاٹھ والا لیڈر قرار دیتے ہوئے بالآخر ایک ہفتے کی مہلت دے دی اور کیس کی سماعت 8 ستمبر تک ملتوی کردی۔ عدالتی کارروائی دیکھنے والے کورٹ رپورٹرز کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ پھر ثابت ہوا کہ عمران خان لاڈلے تھے اور لاڈلے رہیں گے اور ان کے خلاف کیسوں میں انصاف کا دہرا معیار اپنایا جاتا رہے گا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 31 اگست کو کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ نے بار بار عمران خان کی مقبولیت اور ان کے سیاسی قد کاٹھ کا حوالہ دے کر اس تاثر کو مضبوط کیا کہ اگر توہین عدالت کرنے والے طلال چوہدری، دانیال عزیز، اور نہال ہاشمی ہوں تو ان کو معافی مانگنے کے باوجود نااہل قرار دے دیا جائے گا لیکن اگر جج کو دھمکی دینے والا عمران خان ہو گا تو اس کے ساتھ ہمیشہ کی طرح گنجائش برتی جائے گی۔
سانس لینے میں دشواری پرشہباز گل جیل سے ہسپتال منتقل
یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے توہین عدالت کا نوٹس موصول ہونے کے بعد عمران خان نے اپنے جواب میں معافی مانگنے سے انکار کر دیا تھا اور عدالت کے دائرہ کار پر سوال اٹھایا تھا۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اصول اور ضابطے کے مطابق چلا جاتا تو آج عدالت کو عمران خان پر فرد جرم عائد کر دینی چاہیے تھی۔ لیکن شاید چیف جسٹس اطہر من اللہ نے عمران کے ساتھ اپنے پرانے تعلقات کا پاس رکھتے ہوئے ان کے ساتھ ضرورت سے زیادہ نرمی برتی اور انہیں دوبارہ سوچ سمجھ کر جواب داخل کرنے کے لیے ایک ہفتے کا وقت دے دیا۔ عمران خان کے وکلا کا یہ موقف تھا کہ اگر انہوں نے کمزوری دکھائی اور معافی مانگ لی تو ہو سکتا ہے کہ انھیں بھی تین مسلم لیگی رہنمائوں کی طرح سزا دے دی جائے لہٰذا بہتر یہی ہوگا کہ خود پر توہین عدالت کے الزام کا دفاع کیا جائے اور معافی مانگنے کی گنجائش رکھی جائے۔ عمران کے جانب سے یہ موقف اپنائے جانے کے بعد عدالت میں اتنی جرّات نہیں تھی کہ وہ خان پر فرد جرم عائد کرتی لہٰذا انہیں دوبارہ سے غور کرنے کے لیے ایک ہفتے کا وقت دے دیا گیا۔
31 اگست کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب، جسٹس طارق محمود جہانگیری اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل 5 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے عمران خان کے وکیل حامد خان سے کہا کہ آپ نے عمران خان کے ایما پر جو جواب داخل کیا ہے، مجھے اس کی توقع نہیں تھی، حامد خان آپ صرف عمران خان کے وکیل نہیں عدالت کے معاون بھی ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے توقع یہی تھی کہ آپ یہاں آنے سے پہلے ماتحت عدلیہ سے ہو کر آئیں گے، آپ کے تحریری جواب سے مجھے دکھ ہوا، جس ماتحت عدلیہ کے خلاف بات کی گئی وہ عام آدمی کی عدالت تھی، انہوں نے توہین عدالت کے الزام میں طلب کردہ عمران خان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے جوڈیشل کمپلیکس بنایا، شاید یہ ریمارکس دیتے ہوئے اطہر من اللہ بھول گئے کہ وہ اس وقت چیف جسٹس کی سیٹ پر بیٹھے تھے، عمران کے جلسے میں نہیں۔ اطہر من اللہ نے کہا کہ گزرا ہوا وقت اور زبان سے کہی ہوئی بات واپس نہیں آ سکتی، مجھے توقع تھی کہ خان صاحب کی جانب سے کہا جائے گا کہ مجھ سے غلطی ہوئی ہے، میں پوچھتا ہوں کہ عمران جیسے آدمی کو کیا ایسا جواب دینا چاہیے تھا۔ یہ گفتگو کرتے ہوئے چیف جسٹس بھول چکے تھے کہ وہ منصف کی کرسی پر بیٹھے ہیں اور عمران خان کے وکیل نہیں جو توہین عدالت کی کارروائی چھوڑ کر ملزم کے مشورہ نویس بنے ہوئے تھے۔
اس کے بعد جرات کرتے ہوئے اطہر من اللہ نے کہا وکیل کی جانب سے جمع کروائے گئے جواب سے لگتا ہے کہ عمران خان کو احساس ہی نہیں کہ انہوں نے کیا کہا ہے؟ دوران سماعت ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر خان جدون کے بولنے پر چیف جسٹس نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ آپ اس سائیڈ پر آجائیں اور خاموش ہو جائیں، یہ معاملہ عدالت اور توہین عدالت کے مرتکب کا ہے آپ بیٹھ جائیں۔ چیف جسٹس کے اس عمل سے یہ تاثر ملا کے شاید وہ نہیں چاہتے کہ کوئی شخص عدلیہ کی توہین کرنے والے عمران کی توہین کرے۔ اس کے بعد چیف جسٹس نے کہا کہ جب عمران خان نے آدھی رات کو عدالتیں کھولنے کا گلا کیا تو انہوں نے کافی مناسب الفاظ استعمال کیے لیکن خاتون جج کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے احتیاط نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی لیڈر کی بہت حیثیت ہوتی ہے۔ لیکن اس عدالت کے کسی جج پر کوئی اثرانداز نہیں ہو سکتا، سوشل میڈیا کو سیاستدانوں نے خراب کیا ہوا ہے، اس کورٹ نے کبھی پرواہ نہیں کہ اس کورٹ کے بارے میں کیا کہا جا رہا ہے۔ عمران خان کے وکیل حامد خان نے کہا کہ مجھے جواب کو واضح کرنے کا موقع دیا جائے، میں نے درخواست کے قابل سماعت نہ ہونے کا نکتہ بھی اٹھایا ہے، اس کے علاوہ بھی باتیں کی ہیں، اس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ توہین عدالت کو ہم غلط استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ حامد خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا کہ وہ جوڈیشل افسر کے بارے میں یہ کہیں۔ بعد ازاں عدالت کی جانب سے عمران خان کے وکلا کو دوبارہ جواب جمع کرانے کی ہدایت دے دی گئی۔
عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ معاملے کی سنگینی کو سمجھیں، دانیال عزیز، طلال چوہدری اور نہال ہاشمی کیسز میں سپریم کورٹ کے فیصلے دیکھ لیں۔ ان تینوں کو معافی مانگنے کے باوجود نااہل کردیا گیا تھا۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ ہم عدالتی کارروائی کو شفاف رکھیں گے، توہین عدالت کیسز پر سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل لازم ہے۔انہوں نے کہا کہ آپ کو جواب داخل کرانے کا ایک اور موقع دیا گیا ہے، آپ دوبارہ سوچیں اور پھر سے جواب داخل کریں۔ اس کے بعد کیس کی سماعت 8 ستمبر تک ملتوی کردی گئی۔
