عمران کے ایما پر صحافی وقار ستی کے خلاف توہین مذہب کا کیس

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے ایما پر پنجاب پولیس نے جیو نیوز سے وابستہ سینئر صحافی وقار ستی کے خلاف راولپنڈی میں توہینِ مذہب کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ وقار ستی نے عمران خان سے منسوب مذہبی نوعیت کی ایسی باتوں پر مبنی ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جو کہ سابق وزیر اعظم نے نہیں کیں۔ تاہم وقار ستی کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے کوئی توہین مذہب نہیں کی بلکہ اُنھوں نے صرف عمران خان کی ماضی کی تقاریر کے مختلف کلپس نکال کر ایک ویڈیو بنائی تھی جسے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس ویڈیو میں صاف نظر آتا ہے کہ صرف عمران خان کی اپنی زبان سے کی گئی باتوں کو اکٹھا کیا گیا ہے اور انہوں نے اپنی طرف سے کوئی بات نہیں کی لہذامذہب کا کیس تو عمران خان پر بنتا ہے، مجھ پر نہیں۔
دوسری جانب اسی معاملے پر پنجاب کے وزیرِ پارلیمانی امور اور پی ٹی آئی رہنما راجہ بشارت نے وقار ستی کے خلاف درج ہونے والے کیس کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا اندراج بالکل جائز ہے اور وقار ستی نے توہین مذہب کرتے ہوئے لوگوں کے جذبات ابھارنے کی کوشش کی۔ اپنے ٹوئٹر پیغام میں اُنھوں نے کہا کہ ’سیاسی پوائنٹ سکورنگ‘ کے لیے ’مذہبی منافرت‘ کو ہوا دینا کسی صورت قابلِ قبول نہیں اور پی ٹی آئی کی پنجاب حکومت یہ ’وبا‘ پھیلنے نہیں دے گی۔
واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر گذشتہ کئی روز سے جیو نیوز سے وابستہ وقار ستی کے خلاف اور حمایت میں ٹویٹس کی جاتی رہی ہیں۔ وقار ستی کی جانب سے چند دن قبل جب عمران خان کی مختلف تقاریر کے کلپس پر مبنی ویڈیو پوسٹ کی گئی تھی تب سے ہی پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کی جانب سے ٹوئٹر انتظامیہ سے کہا جا رہا ہے کہ وہ وقار ستی کا اکاؤنٹ بند کر دیں۔ بعد میں وقار ستی نے خود بھی یہ ٹویٹ ڈیلیٹ کر دی تھی۔
سابق رکنِ قومی اسمبلی فرح ناز اصفہانی نے اس معاملے پر ٹوئٹر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ایک سینئر صحافی کے خلاف توہینِ مذہب کے الزام پر کیس درج کرنا ایک خطرناک کھیل اور پاگل پن کا مظاہرہ ہے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے ہمدرد ایک صارف عمر آفتاب بٹ نے ٹوئٹر پر لکھا کہ وقار ستی نے جو کیا وہ غلط تھا اور حکومت نے جواباً جو کیا ہے وہ اس سے بھی زیادہ برا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ توہینِ مذہب کے یہ الزامات اب بند ہونے چاہییں ورنہ اس شر سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا، ‘نہ آپ کام کی جگہ پر، نہ آپ کے بچے تعلیمی اداروں میں، نہ آپ کے دوست، کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔’
کیا عمران خان نو بالز سے حکومت کو آؤٹ کر پائیں گے؟
اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے سینئر صحافی مرتضیٰ سولنگی نے ٹوئٹر پر لکھا کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ کو اس کیس کا از خود نوٹس لے کر آئی جی پنجاب اور چیف سیکریٹری کو طلب کر کے اس جعلی ایف آئی آر کو خارج کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے وقار ستی کے خلاف توہین مذہب کا کیس درج کر کے ان کی جان خطرے میں ڈال دی ہے اور وہ پاکستان جیسے معاشرے میں غیر محفوظ ہو گئے ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان میں توہینِ مذہب ایک سنگین مسئلہ ہے جس پر سخت قوانین موجود ہیں۔ تاہم اس کے باوجود ملک کے مختلف علاقوں میں اس الزام پر کئی افراد مشتعل ہجوم کے ہاتھوں قتل ہو چکے ہیں کیونکہ توہین مذہب کے الزام کو اپنے مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
