بڑے منہ والے شوکت ترین کو کس نام سے پکارا جائے؟

اپنے بڑے منہ کی وجہ سے بچپن سے ہی محلے میں مشہور ہو جانے والے سابق وزیر خزانہ شوکت ترین شاید ہماری سیاست کا وہ واحد کردار ہیں جو اپنی سوہنی دھرتی کے خلاف ایک ہولناک سازش کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہیں لیکن موصوف کی دیدہ دلیری کا اندازہ لگائیے کہ چلو بھر پانی میں ڈوب مرنے کی بجائے انہوں نے اپنے دفاع میں یہ بیان داغ دیا کہ ان کی ٹیلی فونک گفتگو ریکارڈ کرنا ایک غیر اخلاقی حرکت اور جرم ہے۔
روزنامہ جنگ کے لئے اپنی تازہ تحریر میں سینئر صحافی اور تجزیہ کار حماد غزنوی کہتے ہیں ملک دشمنی کے تجریدی نوعیت کے الزامات تو بہت سے لوگوں پر لگتے رہے ہیں لیکن عوام دشمنی کی ایسی بیّن مثال کبھی ہمارے سامنے نہیں آئی تھی، یاد رہے کہ یہ کوئی خیالی سازش نہیں تھی، اسے منصوبے کے مطابق عملی جامہ بھی پہنایا گیا، کے پی کے وزیرِ خزانہ تیمور جھگڑا نے عمران خان کے ایما اور شوکت ترین کی ہدایت پر وہ خط لکھا بھی اور اسے آئی ایم ایف تک پہنچایا بھی۔ یہ سچ ہے کہ اگر کوئی راوی شوکت ترین کے یہ جملے ہم تک پہنچاتا تو ہم کبھی اس پر اعتبار نہ کرتے، اسے مبالغہ خیال کرتے، لیکن اب کیا کیا جائے کہ یہ ان کی اپنی آواز میں ہے اور وہ مان رہے ہیں کہ ہاں یہ میری ہی گفتگو ہے اور اس کا سیاق و سباق بھی درست ہے۔ اپنے دفاع میں "گڈے کے منہ والے” عظیم ترین شوکت ترین فرماتے ہیں کہ’ ٹیلی فون ٹیپ کرنا جرم ہے۔ آپ ذرا عذرِ گناہ ملاحظہ فرمائیں، یعنی اگر ٹیلی فون پر قتل کی منصوبہ بندی ہورہی ہو، قاتل کو ہدایات دی جا رہی ہوں، گفتگو ٹیپ ہو جائے، تو کیا عدالت میں منصوبہ ساز اور قاتل اپنے دفاع میں یہ دلیل دیں گے کہ ٹیلی فون ٹیپ کرنا جرم ہے؟ اور کیا عدالت اس دلیل کو مان کر قتل کا جرم معاف کر دے گی؟
حماد غزنوی کہتے ہیں کہ لفظ کے بطن میں معنی رکھا ہوتا ہے، لفظ پرانا ہوتا ہے تو معنی بھی زنگ آلود ہو جاتا ہے، اور سامع یا قاری کے لئے کسی حِسی تحرک کا باعث نہیں بن پاتا، ایسے لفظ کو زندہ رکھنے کا فرض شاعر و ادیب کو نبھانا ہوتا ہے، جو بحرِ لفظ کی تہہ سے معنی کے نئے موتی ڈھونڈ کر لاتا ہے، تازہ معنی لفظ کو حیاتِ نو بخشتے ہیں، یوں لفظ ہرے بھرے رہتے ہیں۔اس کے بر عکس جن الفاظ میں معنوی امکانات کی پرتیں نہ کھل سکیں انہیں آخرِ کار پھپھوندی لگ جاتی ہے، وہ فقط بازار میں لین دین کے دوران اپنے متعین اور ادنیٰ معنوں میں استعمال ہونے کے قابل رہ جاتے ہیں، موثر ترسیلِ خیال و احساس ان رگیدے ہوئے لفظوں کے بس کی بات نہیں رہتی۔ حماد کہتے ہیں کہ ’شرم کرو، بے شرم آدمی، بے حیا شخص، گھٹیا لوگ‘ اور اس طرح کے بہت سے لسّانی شہ پارے ہمارے قومی مکالمہ میں اس فراوانی سے استعمال ہوتے ہیں کہ اب نہ تو یہ کسی کو کھٹکتے ہیں نہ
آج ملک بھر میں یوم دفاع ملی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے
کوئی ان کا برا مناتا ہے۔
کثرتِ استعمال سے ان کی معنوی شدت بھی ماند پڑ چکی ہے، ٹی وی شوز میں یہی زبان ارزاں ہے اور سیاسی جلسوں میں بھی یہی لال و گہر رولے جاتے ہیں۔ اسی طرح ایک لفظ ہے ’’غدار‘‘ جس کے 75 سالہ بے محابہ استعمال نے اسے کُند کر دیا ہے، ’’غداری‘‘ کو قومی ریاستیں سب سے بڑا جُرم مانتی ہیں، لیکن ہم نے اس لفظ کو صبح شام صابن کی طرح استعمال کیا ہے جس سے اس کے معانی گُھل گئے ہیں، غداروں کی طویل فہرست کیا مرتب کرنا، آسان زبان میں بس یہ سمجھئے کہ پاکستان کا ہر مقبول سیاسی رہنما ’ریاست‘ کی نظر میں غدار قرار پایا، سب کے سب، مادرِ ملت فاطمہ جناح سے ذوالفقار علی بھٹو تک اور بے نظیر بھٹو سے نواز شریف تک۔ غداری کے یہ تمام الزامات روزِ اول سے مضحکہ خیز سمجھے گئے جس سے لفظ ’غدار‘ اور ’غداری‘ کا مفہوم بھی گہنا گیا، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب اس الزام کو معاشرے میں سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا بلکہ ہم جیسے لوگ تو غداری کے تمغے کو سیاست دانوں کے لئے اعزاز مانتے ہیں، خواہ یہ اعزاز ریاست عطا کرے یا بشریٰ بی بی اور انکا ارسلان بیٹا۔
حماد غزنوی کہتے ہیں کہ اسی پس منظر کا شاخسانہ ہے کہ ہم شوکت ترین کو ’غدار‘ نہیں کہنا چاہتے اور کہیں گے بھی نہیں، لیکن ہمیں موصوف کے لیے کوئی اور لفظ فی الحال سوجھ بھی نہیں رہا، صاحبانِ بصیرت سے درخواست ہے اس سلسلے میں راہ نمائی فرمائیں، ان صاحب کیا کہا جائے؟ شوکت ترین کی جو غکیظ ترین ٹیلیفون کالز لیک ہوئی ہیں وہ آپ نے بھی سنی ہوں گی، ان کا لب لباب یہ ہے کہ آئی ایم ایف سے پاکستان کو ملنے والی امداد رکوانے کی کوشش کی جائے، جس کے لئے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومتوں کے وزرائے خزانہ مرکز کو خط لکھیں کہ ہم آئی ایم ایف سے معاہدہ توڑ رہے ہیں، اور یہ خط آئی ایم ایف تک بھی پہنچائے جائیں۔ اس گفتگو میں ترین بڑی بے شرمی سے فرما رہے ہیں کہ اس حرکت سے اگر پاکستان کی امداد رک جائے اور کروڑوں پاکستانی مہنگائی کی دلدل میں مزید دھنس جائیں تو کوئی مضائقہ نہیں، موصوف اس کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ اس حکومت نے عمران خان کے خلاف کیسز بنائے ہیں لہٰذا ہم اس کا بدلہ حکومت سے لیں گے چاہے اس سے کروڑوں پاکستانی تباہ حال ہو جائیں۔ترین نے یہ بھی فرمایا کہ یہ فیصلہ ان کا اکیلے کا نہیں بلکہ پارٹی چیئرمین کا ہے اور پارٹی کی کور کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا ہے۔
حماد غزنوی پوچھتے ہیں کہ اب آپ ہی بتائیے کی اس رویے کو کیا کہا جائے؟ ایسی سنگ دلی، ایسی عوام دشمنی۔ یعنی عمران خان خان اور شوکت ترین جیسے ان کے حواری یہ چاہتے ہیں کہ اگر وہ بذات خود اقتدار میں نہ ہوں تو پاکستانیوں کو دو وقت کی روٹی بھی نہیں ملنی چاہئے، ملک میں افلاس اور بیماری بڑھنی چاہئے، پاکستان خاکم بدہن تباہ ہو جانا چاہئے؟ یہ تو صریحاً شقی القلبی ہے! یہ تو غیر انسانی رویہ ہے! کیا کروڑوں پاکستانی آپ کی نظر میں کیڑے مکوڑے ہیں ؟ اگر کسی شخص میں بنیادی انسانی اوصاف کی رَمق بھی باقی ہو تو وہ اپنے دشمن ملک کے معصوم عوام کے خلاف بھی ایسی سازش کا حصہ نہیں بننا چاہے گا، اور آپ اپنے ہم وطنوں کے خلاف ایسی مکروہ سازش کر رہے ہیں، جن میں آپ کے کروڑوں ووٹر بھی شامل ہیں۔
حماد غزنوی اظہار افسوس کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ شوکت ترین نے نہ صرف اپنی سازش پر مبنی گفتگو کی تصدیق کی ہے بلکہ نہایت ہٹ دھرمی سے اس کا دفاع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ’ ٹیلی فون ٹیپ کرنا جرم ہے۔ ایسے میں یہ سوال پوچھنا تو بنتا ہے کہ اگر ٹیلیفون ٹیپ کرنا جرم ہے تو کیا ملک دشمنی جرم نہیں ہے۔ لیکن الحمدللہ، یہ سفاکانہ سازش ناکام ہو گئی، حکومت پاکستان اور آئی ایم ایف کا معاہدہ طے پا گیا، اور ملک کے ڈیفالٹ کا خطرہ بھی ٹل گیا۔ مگر یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ شوکت ترین کو کس نام سے پکارا جائے؟ محبِ وطن یا۔۔۔۔۔؟
