تحریک انصاف ضمنی الیکشن میں بھر پور حصہ لےگی

تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی پنجاب کے ضمنی الیکشن میں بھر پور حصہ لے گی۔
شاہ محمود قریشی کا پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کےاجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ اجلاس کے دوران ملک کی معاشی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، کور کمیٹی اجلاس میں متعدد فیصلے کیے گئے ہیں، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ پنجاب کے 20 حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی بھرپور طریقے سے حصہ لے گی، ہمارے علم میں ہے کہ پنجاب حکومت اپنی من مانی کرتے ہوئے انتظامیہ اور پولیس کو استعمال کرکے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کا منصوبہ بنا چکی ہے۔

عمران خان کا ‘بندہ ایماندار ہے’ کا بت کیسے پاش پاش ہوا؟

انہوں نے کہا الیکشن کمیشن پر ذمےداری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان ضمنی انتخابات کو صاف و شفاف بنائے، اگر الیکشن کمیشن ان ضمنی انتخابات کو شفاف بنانے میں ناکام دکھائی دیا تو ملک میں عنقریب ہونے والے عام انتخابات پر سوالیہ نشان کھڑا ہوجائے گا، ضمنی انتخابات میں پارٹی کے ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے موصول ہونے والی درخواستوں پر غور و خوض اور فیصلے کے لیے کل دن ایک بجے پارلیمانی بورڈ کا اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں ٹکٹوں کی تقسیم کا فیصلہ کیا جائے گا،سپیکر قومی اسمبلی نے پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی کو خطوط لکھے کہ وہ 6 جون سے 10 جون تک اسمبلی میں پیش ہوکر استعفوں سے متعلق اپنا بیان ریکارڈ کرائیں۔

سابق وزیر خارجہ کا کہنا تھا پی ٹی آئی کا مؤقف یہ ہے کہ ہم اپنے استعفے پیش کرچکے، اس وقت کے پریذائڈنگ افسر قاسم سوری ان استعفوں کو قبول کرچکے ہیں، انہیں نوٹیفائی کرچکے ہیں، اس لیے اب اسپیکر قومی اسمبلی کے سامنے پیش ہونے کی ضرورت نہیں ہے، پی ٹی آئی نے فیصلہ کیا ہے کہ پارٹی کا کوئی ایم این اے اسپیکر راجا پرویز اشرف کے سامنے پیش نہیں ہوگا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا رانا ثنااللہ کے دھمکی آمیز بیانات اور ان کی غیر سیاسی گفتگو پوری قوم نے سنی جس کے باعث لوگوں میں اضطراب بھی ہے جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ وہ سابق وزیراعظم اور ملک کی سب سے مقبول سیاسی جماعت کے سربراہ عمران خان کو گرفتار کرنے کا ادارہ رکھتے ہیں،پی ٹی آئی کی کور کمیٹی سمجھتی ہے کہ اس سے بڑی سیاسی حماقت ہو نہیں سکتی، اگر حکومت اور وزیر داخلہ کا یہ ارادہ ہے تو پی ٹی آئی کی کور کمیٹی یہ باور کرانا چاہتی ہے کہ اس اقدام کا شدید رد عمل آئے گا، کوئی سمجھتا ہے کہ قوم یا پی ٹی آئی کے کارکنان اس کو خاموشی سے برداشت کریں گے تو وہ غلط فہمی کا شکار ہے۔

سابق وزیر خارجہ نے پی ٹی آئی کارکنوں کو پیغام دیا کہاگر انہیں میڈیا یا سوشل میڈیا کے ذریعے اس طرح کی اطلاعات ملیں کہ یہ مسلط شدہ امپورٹڈ حکومت اس طرح کا اقدام کرنے کا ادراہ رکھتی ہے تو کارکنان نے فوری طور پر اپنا پر امن سیاسی رد عمل دینا ہے، اس موقع پر کارکنان اور مہنگائی کی چکی میں پستے عوام کسی کال کا انتظار نہ کریں اور اپنے طور پر اپنے جذبات کا اظہار کریں۔

انہوں نے بتایا کہ اس کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی کور کمیٹی نے ملک کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا، اس وقت معاشی صورتحال کے حوالے سے تشویش کی لہر ملک بھر میں دکھائی دیتی ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں 60 روپے اضافہ کردیا گیا ہے، بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 8 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے جب کہ گیس کی قیمت می 45 فیصد اضافے کی نوید بھی سنادی گئی ہے، جب سے یہ تجربہ کار مسلط شدہ حکومت آئی ہے اس وقت سے اب تک گھی کی قیمت میں 200 روپے تک کا اضافہ ہوگیا ہے، پنجاب جو دوسرے صوبوں کو گندم فراہم کرنے والا صوبہ ہے وہاں 20 کلو آٹے کا تھیلا 1600 روپے میں فروخت ہو رہا ہے، اس کے علاوہ تمام اشیائے خورنوش کی قیمتیں بے قابو ہیں، اس حکومت کے اقدامات کے اثرات کے تحت 10 جون سے قبل ملک میں مہنگائی کا ایک اور نیا طوفان آنے والا ہے، ماہرین سمھتے ہیں کہ افراط زر ملک کی تاریخ کی بلند ترین شرح کو چھونے والا ہے۔

انکا کہناتھاحکومت کی سازشوں کو بھانپتے ہوئے پی ٹی آئی نے اپنی حکومت کے خلاف ہونے والی سازش کے بارے میں نیشنل سیکیورٹی پر نظر رکھنے والے با اثر اور اہم سرکلز کو اس سازش کے بارے میں بتایا تھا، ہم سمجھتے ہیں کہ نیشنل سیکیورٹی کی تعریف میں اکنامک سیکیورٹی، فوڈ سیکیورٹی، واٹر سیکیورٹی اہم عوامل ہیں،اس وقت پورے پنجاب میں پانی کا بحران ہے، کسان بے حد پریشان ہے، بجلی کے نرخ بڑھ گئے ہیں، ٹیوب ویل چلا نہیں سکتا، زیر زمین پانی کڑوا ہے، نہریں بند پڑی ہیں،ہماری حکومت میں معیشت ترقی کر رہی تھی، صنعتیں لگ رہی تھیں، سرمایہ کاری ہو رہی تھی، ہم نے شرح سود کو قابو میں رکھا، گیس اور بجلی کی مستحکم قیمت مقرر کی، آئی ایم ایف کے دباؤ کے باجود تیل اور بجلی کی قیمتیں کم کیں، ہم نے روس کے ساتھ سستے تیل، گندم اور گیس کے حصول کے لیے گفتگو کا آغاز کیا، مگر یہ حکومت اب روس سے گفتگو کرنے سے کترا رہی ہے۔

شاہ محمود نے کہا ملک کی معاشی صورتحال سے ملک کا ہر طبقہ پریشان ہے، اس حکومت کے معاشی ماہرین کے پاس ملک کے معاشی مسائل کا کوئی حل بھی نظر نہیں آتا، یہ حکومت کنفیوژن کا شکار ہے، ایک فیصلہ صبح کرتے ہیں، شام کو دوسرا فیصلہ کرتے ہیں، ایک قدم آگے لیتے ہیں تو دو قدم پیچھے پٹتے ہیں، ملک کی معیشت کی حالت بگڑتی چلی جا رہی ہے، یہ حکومت ایسے فیصلے کرنے اور عوام پر معاشی بم گرانے کا استحقاق نہیں رکھتی، جب ملک میں امن کے لیے، افغانستان اور پاکستان کے استحکام کے لیے، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات ہو رہے تھےتو وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے بہت تنقید کی تھی جب کہ آج وہ خاموش دکھائی دیتے ہیں، آج یہ حکومت ان مذاکرات کے لیے وفود کابل بھیج رہی ہے تو پوچھنا چاہتا ہوں کہ اس حکومت کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے اپنے مؤقف پر نظر ثانی کی ہے یا اعتراف کیا ہے کہ جو راستہ اختیار کیا جا رہا تھا اس میں ملک کی بہتری تھی،25 مئی کو جسطرح سے پولیس نے گھروں پر چھاپے مارے، خواتین پر تشدد کیا، آنسو گیس کی شیلنگ کی، لاٹھی اور ربر بلٹ کا استعمال کیا گیا، ماضی قریب کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی، کسی سیاسی حکومت میں ہم نے ایسے مناظر پہلے نہیں دیکھے جس میں ایسی ہٹ دھرمی اور غیر سیاسی عمل کا مظاہرہ کیا گیا ہو، ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اس طرح کی کارروائیوں میں ملوث پولیس اہلکاروں کی نہ صرف نشاندہی کریں گے بلکہ ان کے خلاف کارروائی بھی کریں گے۔

انہوں نے کہااس طرح کی کارروائیوں میں ملوث پولسی افسران اور اہلکاروں کے خلاف مقدمے درج کرائیں گے، جیسا کہ لاہور کی سیشن کورٹ نے سی سی پی او اور ڈی آئی جی آپریشنز پر مقدمے کا فیصلہ دیا ہے، جس جس تھانے کے ایس ایچ او نے ہمارے کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارے، ان کے دروزارے توڑے، ان کی دہلیز پھلانگی، اپنے گھروں پر سونے والے کارکنوں پر بلا وجہ تشدد کیا، ان کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہاسینیٹ کی کمیٹی اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرے گی اور آئی جی اسلام آباد اور دیگر پولیس افسران کو طلب کریں گے، اس طرح پنجاب میں بھی اسپیکر چوہدری پرویز الہیٰ بھی ذمے دار افسران سے اس بربریت سے متعلق سوال پوچھیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ خواتین پر تشدد کے خلاف ہماری خواتین اراکین اسمبلی اسلام آباد یا راولپنڈی میں احتجاج کا فیصلہ کریں گی،بیرونی مداخلت پر صدر مملکت نے سپریم کورٹ کو خط لکھا، جو احکامات قومی سلامتی کمیٹی نے دیے جس کے تحت سفارتی رد عمل بھی دیا گیا تو جس وقت یہ سب کچھ ہو رہا تھا، جب پاکستان کے معاملات میں سیاسی مداخلت کا واضح اعتراف کرلیا گیا تو پاکستان کے محافظوں کو اس پر نوٹس لینا چاہیے تھا، میڈیا کے کچھ ادارے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں، لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کرکے ان کو گمراہ کر رہے ہیں، سما ٹی وی کی جانب سے پی ٹی آئی کے خلاف باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ایک مہم چلائی جا رہی ہے، فیصلہ کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کا کوئی نمائدہ سما کے کسی ٹاک شو یا پروگرام میں شرکت نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہاالیکشن کمیشن کی جانب سے کی جانے والی نئی حلقہ بندیوں پر بھی پارٹی میں سوالات اٹھائے گئے، ہم سمجھتے ہیں کہ کچھ خاص انداز میں حلقوں کو توڑا گیا ہے، یہ سب کس کی ایما، کس کی مشاورت اور کس کے ارادوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے یہ نئی منصوبہ کی جارہی ہے، آئندہ انتخابات میں اپنی پسند کے نتائج حاصل کرنے کے لیے یہ عمل کیا گیا ہے جب کہ ملک میں نئی مردم شماری بھی نہیں ہوئی تو ہم نے الیکشن کمیشن کے اس عمل کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے،الیکشن کمیشن کی جانب سے لوگوں کے ووٹوں کو ایک حلقے سے دوسرے حلقے میں منتقل کیا گیاہے، اس پر بھی پارٹی نے نوٹس لیا ہے اور عمران خان نے پی ٹی آئی کے ایم این ایز، ایم پی ایز اور کارکنان سے اپیل کی ہے کہ وہ 8300 پر جاکر اپنا ووٹ چیک کریں کہ ان کا ووٹ جہاں تھا وہیں موجود ہے یا نہیں۔

مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا ہم گفتگو اور مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں، سیاست دان کبھی ڈائیلاگ سے پیچھے نہیں ہٹتا مگر مذاکرات اور بات چیت ان کے ساتھ کی جاتی ہے جن کے پاس عوام کا مینڈیٹ ہو، مسلط کیے گئے لوگوں سے کیا مذاکرات کیے جا سکتے ہیں،موجودہ حکومت اپنے اقدامات کی ذمے داری ہم پر ڈالنا چاہتی ہے، حکومت آئی ایم ایف کے سامنے اتنی لاچار کیوں نظر آرہی ہے، اگر ہم نے معاہدہ کیا تھا اور وہ معاہدہ اس حکومت کو پسند نہیں تو کہہ دے کہ ہم اس معاہدے کو نہیں مانتے، ایسا کرنے سے اس حکومت کو کس نے روکا ہے، نیب قوانین میں ترامیم کے بعد نیب کو معطل کردیا گیا ہے، حکومت کی جانب سے نیب قوانین میں ترامیم کے بعد اس ادارے کی نہ ضرورت رہی اور نہ یہ کوئی فعال ادارہ رہا ہے،اس حکومت کے مظالم اور اقدامات کے خلاف بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بھی متحرک کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے.

Back to top button