ملکہ برطانیہ کے تابوت کو 30 برس پہلے کیوں تیار کیا گیا؟

پچھلے ہفتے 96 برس کی عمر میں انتقال کرجانے والی ملکہ الزبتھ دوئم کی میت کا تابوت تین دہائیوں قبل تیار کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جس کی تیاری میں نایاب بلوط کی لکڑی کے ساتھ سیسے کا بھی استعمال کیا گیا ہے تاکہ تابوت میں نمی اور ہوا داخل نہ ہو سکے، اور میت کو زیادہ عرصے تک محفوظ رکھا جا سکے۔ برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق ملکہ برطانیہ نے اپنی میت کے لئے تابوت کی تیاری کا حکم سال 1992 میں دیا تھا لیکن اس کے بعد وہ مزید 30 برس زندہ رہیں۔
برطانوی اخبار ’ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق ملکہ الزبتھ کا تابوت کم از کم 32 برس پہلے بلوط کے درخت کی لکڑی سے تیار کیا گیا تھا، بلوط کا یہ درخت برطانیہ کے مشہور ترین درختوں میں سے ایک ہے، یہ لکڑی آج کل بہت نایاب ہے جبکہ برطانیہ میں زیادہ تر تابوت امریکی بلوط کی لکڑی سے بنائے جا رہے ہیں۔برطانیہ کی شاہی روایات کے مطابق تابوت کو سیسہ سے تراشہ گیا ہے جس کی بدولت تابوت کو دفنانے کے بعد لاش زیادہ دیر تک محفوظ رہتی ہے، سیسے کی مدد سے بنایا گیا تابوت، نمی اور ہوا کو اندر جانے سے روکتا ہے لیکن سیسے کی موجودگی کی وجہ سے تابوت کے وزن میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ملکہ کے تابوت کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے لیے 8 افراد کی نفری درکار ہوگی، ایسا ہی ایک تابوت ملکہ الزبتھ کے شوہر شہزادہ فلپ کے لیے بھی بنایا گیا تھا، یاد رہے کہ شہزادہ فلپ گزشتہ سال انتقال کر گئے تھے، ملکہ الزبتھ کو بھی شہزادہ فلپ کے قریب دفنایا جائے گا۔
افغان حکومت کامسعود اظہرکی افغانستان میں موجودگی سے انکار
لیورٹن اینڈ سنز 1991 سے شاہی خاندان کے لیے کفن بنانے کا کام کر رہے ہیں، نے برطانوی اخبار ’ٹائمز‘ کو بتایا کہ ملکہ کو یہ تابوت وراثت میں ملے تھے، انہیں یاد نہیں کہ یہ تابوت کن لوگوں نے تیار کیے تھے، اینڈریو لیورٹن نے برطانوی اخبار کو بتایا کہ یہ تابوت بلوط کے درخت کی لکڑی سے بنائے گئے ہیں، جو کافی مشکل کام ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں لگتا کہ اب ہم بلوط کے درخت کی لکڑی کو تابوت کے لیے استعمال کر سکتے ہیں، کیونکہ یہ لکڑی اب بہت مہنگی ہوچکی ہے، تابوت کو خاص طور پر اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ اس کے ڈھکن پر قیمتی سامان محفوظ رہ سکے۔ برطانوی اخبار کے مطابق تابوت پر پیتل کے ہینڈل بھی شاہی خاندان کے لیے منفرد انداز میں بنائے گئے ہیں، یہ ہینڈل برمنگھم کی ایک کمپنی کی جانب سے بنائے گئے تھے، لیورٹن کا کہنا تھا کہ شاہی تابوت کوئی ایسی چیز نہیں جسے آپ ایک ہی دن میں تیار کرلیں۔
