ایران جنگ سے نکلنے کی ٹرمپ کی کوششیں ناکام ہوگئی

ایران جنگ سے نکلنے کی ٹرمپ کی کوششیں ناکام، نئی جھڑپوں نے امن معاہدے کو خطرے میں ڈال دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ کا باب بند کرنا چاہتے ہیں، تاہم حالیہ میزائل حملوں اور جوابی کارروائیوں نے جنگ بندی کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹرمپ کو اب ایسے مشکل فیصلوں کا سامنا ہے جہاں نہ فوجی دباؤ مکمل کامیابی دلا سکتا ہے اور نہ ہی سفارتی راستہ فوری امن کی ضمانت بن رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کی کوششیں ایک بار پھر مشکلات کا شکار ہو گئی ہیں، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان تازہ حملوں کے تبادلے نے جنگ بندی کو کمزور کر دیا ہے اور خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھنے لگی ہے۔
امریکی میڈیا اور تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ نے ایران کے ساتھ عبوری معاہدے کو ختم قرار دیتے ہوئے نئے فضائی حملوں کا حکم دیا، جس کے بعد ایران نے بحرین اور کویت میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ یہ کارروائیاں آبنائے ہرمز میں ٹینکروں پر حملوں کے بعد امریکا کی جانب سے ایرانی اہداف پر بمباری کے ردعمل میں سامنے آئیں۔
رپورٹ کے مطابق 17 جون کو ہونے والے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے باوجود 3 ہفتوں سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی دونوں ممالک مستقل امن معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے پاس اب محدود اور پیچیدہ آپشنز رہ گئے ہیں، کیونکہ شدید فوجی کارروائی دوبارہ مکمل جنگ کا سبب بن سکتی ہے، جبکہ پسپائی اختیار کرنا ایران کو مزید مضبوط پیغام دے سکتا ہے۔
