خیبرپختونخوا حکومت میں بغاوت، متعدد ناراض PTI اراکین کھل کر سامنے آ گئے

خیبرپختونخوا کی سیاست ایک نئے موڑ پر پہنچتی دکھائی دے رہی ہے جہاں حکمران جماعت کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آنے لگے ہیں۔ عمران خان کی رہائی کے لیے اختیار کی گئی سیاسی حکمت عملی پر سوالات اٹھاتے ہوئے بعض حکومتی ارکان نے قیادت سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اگرچہ ناراض ارکان خود کو فارورڈ بلاک قرار دینے سے انکار کر رہے ہیں، تاہم ان کے بیانات نے صوبائی سیاست میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ دوسری جانب پارٹی قیادت اور سپیکر اسمبلی نے  اختلافات ختم کرنے اور ناراض اراکین کو ساتھ لے کر چلنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکمران جماعت کے بعض ارکان کی ناراضی کھل کر سامنے آگئی ہے۔ ناراض ارکین کا کہنا ہے کہ ان کی ناراضی کسی ذاتی مفاد، گروہ بندی یا فارورڈ بلاک کی سیاست کا حصہ نہیں بلکہ وہ عمران خان کی رہائی کے لیے اختیار کی گئی حکمت عملی سے مطمئن نہیں ہیں۔ناراض گروپ کے سربراہ اور سابق اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی مشتاق غنی نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں واضح کیا کہ ان کا گروپ کسی سیاسی لابی یا فارورڈ بلاک کا حصہ نہیں۔ ان کے مطابق ان کا واحد مقصد عمران خان کی رہائی کے لیے مؤثر اور نتیجہ خیز سیاسی جدوجہد ہے۔مشتاق غنی نے موجودہ احتجاجی حکمت عملی کو ’’ہومیوپیتھک طریقہ کار‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس انداز کی سرگرمیوں سے عمران خان کی رہائی ممکن نظر نہیں آتی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر 10 جون کو پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج یا دھرنا دیا جانا ہے تو اسے علامتی اقدام کے بجائے ایک سنجیدہ سیاسی تحریک کی شکل دینی چاہیے جو اپنے مقصد کے حصول تک جاری رہے۔

ان بیانات کے بعد حکومتی حلقوں میں تشویش پیدا ہوئی اور پارٹی قیادت نے فوری طور پر ناراض ارکان سے رابطے شروع کر دیے۔ اسی سلسلے میں خیبرپختونخوا اسمبلی کے سپیکر بابر سلیم سواتی نے ایبٹ آباد میں مشتاق غنی سے ملاقات کی اور انہیں یقین دلایا کہ ان کے تحفظات کو سنجیدگی سے سنا جائے گا اور مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ذرائع کے مطابق ناراض ارکان کو حکومت اور پارٹی معاملات میں زیادہ فعال کردار دینے کے لیے کابینہ میں شمولیت کی پیشکش بھی کی گئی ہے۔ تاہم ناراض گروپ نے فوری فیصلہ کرنے کے بجائے مشاورت کو ترجیح دی اور حتمی مؤقف اختیار کرنے کے لیے وقت طلب کیا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ صورتحال محض چند ارکان کی ناراضی نہیں بلکہ پارٹی کے اندر موجود مختلف سوچوں اور حکمت عملیوں کی عکاسی کرتی ہے۔ ایک حلقہ سمجھتا ہے کہ عمران خان کی رہائی کے لیے زیادہ جارحانہ سیاسی دباؤ کی ضرورت ہے جبکہ دوسرا حلقہ قانونی اور سیاسی ذرائع سے جدوجہد جاری رکھنے کا حامی ہے۔آج ہونے والا ناراض گروپ کا مشاورتی اجلاس اس حوالے سے اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اس میں مستقبل کی حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔ اس اجلاس کے نتائج سے واضح ہوگا کہ اختلافات وقتی نوعیت کے ہیں یا پھر یہ معاملہ مزید سیاسی پیچیدگی اختیار کر سکتا ہے۔ مبصرین کے مطابق فی الوقت حکومتی قیادت کی کوشش ہے کہ تمام ارکان کو متحد رکھا جائے اور کسی بھی ایسی صورتحال سے بچا جائے جو اسمبلی میں حکومتی اکثریت یا سیاسی استحکام پر اثر انداز ہو۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ عمران خان کی رہائی کا معاملہ تحریک انصاف کے اندر ایک جذباتی اور سیاسی اہمیت رکھتا ہے، جس پر اختلاف رائے مستقبل میں مزید سیاسی بحث کو جنم دے سکتا ہے۔

Back to top button