منجمداثاثوں کی واپسی،نقصانات کاازالہ معاہدے میں شامل ہے،ایران

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکا کے ساتھ معاہدہ طے ہوجانے پر کہا ہے کہ ایران کے منجمد اثاثوں کی واپسی سمیت امریکا اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں میں ہونے والے نقصانات کا ازالہ بھی معاہدے میں شامل ہے۔
ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر جمعے کو جنیوا میں دستخط کیے جائیں گے جس سے قبل ایرانی وفود خطے کے مختلف ممالک اور ہمسایہ ریاستوں کے دورے کریں گے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ 110 روزہ جنگ کے دوران ایرانی عوام نے اپنی حکومت اور مسلح افواج کا بھرپور ساتھ دیا اور بے مثال استقامت کا مظاہرہ کیا۔
انہھوں نے ایرانی عوام کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنی قیادت، فوجی کمانڈرز اور عام شہریوں کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گا۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے اسرائیل پر لبنان اور فلسطین میں جارحیت جاری رکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ادارے صہیونی ریاست کی کارروائیاں رکوانے اور ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی حملوں کی مذمت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران ہمیشہ بات چیت اور سفارت کاری کے راستے کو ترجیح دیتا ہے تاہم معاہدے تک پہنچنے کا مطلب یہ نہیں کہ ایران اپنے نقصانات یا جنگ کے دوران ہونے والے جرائم کو بھول جائے گا۔
ان کے بقول ایران کے بیرون ملک منجمد اثاثوں کی بحالی و واپسی اور جنگی نقصانات کا معاوضہ مذاکرات کا اہم حصہ ہیں اور ایران کو یہ مطالبات کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔
اسماعیل بقائی نے بتایا کہ امریکا کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں لبنان سے متعلق نکات بھی شامل ہیں جبکہ لبنان کی خودمختاری اور سلامتی کا احترام یقینی بنایا جائے گا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل لبنان میں حملے جاری رکھے ہوئے ہے جس کے باعث معاہدے پر عمل درآمد کی صورتحال کا بغور جائزہ لیا جائے گا۔
