شہبازشریف ، حمزہ شہباز کی یکم فروری تک ضمانت منظور

منی لانڈرنگ کیس میں اپوزیشن لیڈر پنجاب حمزہ شہباز اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی یکم فروری تک ضمانت منظور کر لی گئی ہے، لاہور کے سپیشل جج سینٹرل کی عدالت میں کیس کی سماعت ہوئی۔
قائد حزب اختلاف شہباز شریف کرونا مثبت ہونے کے باوجود عدالت آئے اور اپنی گاڑی میں بیٹھے رہے، عدالت نے ایف آئی اے کو شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی گرفتاری سے روکتے ہوئے یکم فروری تک عبوری ضمانت منظور کر لی ہے۔
مقامی عدالت نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو 2،2 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کر دی، شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے عدالت کو بتایا کہ شہباز شریف کینسر کے مریض ہیں اور ڈاکٹروں نے کہا ہےکہ اگر کرونا منفی بھی آ جاٸے تو اس کے بعد بھی 7 دن آرام کرنا ہے۔
اس سے قبل شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز نے ایف آئی اے کی جانب سے منی لانڈرنگ کے مقدمے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس کو سماعت کے لیے مقرر کردیا گیا تھا۔
کیا برطانوی حکومت نواز شریف کو تحفظ دے رہی ہے؟
درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ ایف آئی اے کی تحقیقات میں اب تک شہباز شریف کا کوئی بے نامی اکاونٹ سامنے نہیں آیا، منی لانڈرنگ کا کیس احتساب عدالت میں زیر سماعت ہے لہٰذا ایک ہی الزام پر دو کیس نہیں بنائے جا سکتے۔
