سندھ اسمبلی نے ہمیشہ نئے صوبوں کے قیام کی مخالفت کی ہے: مراد علی شاہ

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ اسمبلی نے ہمیشہ نئے صوبوں کے قیام کی مخالفت کی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ صوبوں کی تقسیم کے معاملے پر کسی کو انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔نئے صوبوں کے قیام کا طریقہ کار آئین میں واضح ہے، جس کے تحت دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ اسمبلی متعدد مرتبہ نئے صوبوں کے قیام کی مخالفت کر چکی ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے، لیکن اس کے لیے مقررہ طریقہ کار پر عمل ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق انتظامیہ سے اجازت لے کر احتجاج کیا جا سکتا ہے، تاہم عوام کو مشکلات میں ڈالنا مناسب طرزِ عمل نہیں۔

علاوہ ازیں وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ صوبائی کابینہ نے 5 لاکھ ٹن گندم کی خریداری کی منظوری دی ہے، جبکہ 10 لاکھ ٹن تک خریداری کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے تاکہ مقامی کسانوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

اس سے قبل مائننگ ٹیکنیکل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تھر کول منصوبے کی کامیابی مقامی آبادی، سرمایہ کاروں اور حکومت کے باہمی تعاون کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق چینی کمپنیوں اور مقامی افراد کی شراکت داری نے تھر میں ایک کامیاب ماڈل قائم کیا، جبکہ مقامی آبادی کو ساتھ لیے بغیر معدنی منصوبوں کی کامیابی ممکن نہیں۔

 

عمران خان کے بیٹوں کا والد کی صحت پر اظہار تشویش

مراد علی شاہ نے کہا کہ تھر کا یہ ماڈل پاکستان کے دیگر معدنی منصوبوں میں بھی اپنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کانفرنس کے نتائج سے معدنی شعبے میں مزید سرمایہ کاری اور عالمی دلچسپی کو فروغ ملے گا۔

Back to top button