افغان طالبان TTP کو پٹہ ڈالنے پر کیسے راضی ہوئے؟

تحریک طالبان پاکستان یعنی ٹی ٹی پی کی جانب سے پاکستان میں جاری شرپسندانہ کارروائیوں کے بعد پاکستان اور افغانستان میں کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ پاکستان کی جانب سے ٹی ٹی پی کیخلاف ٹھوس اقدامات کے مطالبے میں شدت آنے کے بعدافغان حکومت نے گھٹنے ٹیکنے کا فیصلہ کرتے ہوئے جہاں ایک طرف ٹی ٹی پی کو پٹہ ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے وہیں دوسری طرف ثالثی کے ذریعے پاکستان سے تعلقات بہتر بنانے کیلئے عملی کوششوں کا بھی آغاز کر دیا ہے۔افغانستان میں برسرِ اقتدار طالبان کی عبوری حکومت کی جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کو افغانستان کے دورے کی دعوت بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی نظر آتی ہے۔

یہ دعوت ایسے وقت میں دی گئی ہے جب غیر قانونی طور پر مقیم افغان تارکینِ وطن کے انخلا اور پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں افغان سرزمین استعمال ہونے کے الزامات کے باعث اسلام آباد اور کابل میں قائم طالبان حکومت کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن کو طالبان کی جانب سے دورۂ افغانستان کی دعوت پر پاکستانی مبصرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے کے دوران سفارتی حلقوں میں پاکستان اور طالبان کے تعلقات میں بہتری کے لیے مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے ممکنہ اہم کردار پر آرا سامنے آ رہی تھیں۔جے یو آئی (ف) کے ذرائع کے مطابق پاکستان میں تحریکِ طالبان پاکستان کے حملوں کے بعد پاکستان اور افغان طالبان کے تعلقات میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے سبب مولانا فضل الرحمٰن فریقین کے درمیان تعلقات میں بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے اور افغانستان میں ٹی ٹی پی کے عہدے داروں کے ساتھ بھی بات چیت کریں گے۔ کیونکہ افغان حکومت نے بھی پاکستان میں حملوں کیلیے افغان سرزمین کے استعمال کے حوالے سے ٹھوس عملی اقدامات اٹھانے کافیصلہ کیا ہے۔ جبکہ مسئلے کا حل نکالنے اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بحال رکھنے کیلیے مولانا فضل الرحمن اور دیگر علما کو کابل کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی ہے۔

جے یو آئی سربراہ کے قریبی ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمن نے مسئلے کو حل کرنے کی افغان حکومت کی سنجیدہ کوششوں کی صورت میں ثالثی پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈی آئی خان اور دیگر علاقوں میں حملے کرنے والے شرپسندوں کے خلاف کارروائی کرنے اور مطلوبہ افراد کو پاکستان کے حوالے کرنے کے مطالبے کے بعد افغان حکومت پر دبائو بڑھ گیا ہے۔ جبکہ کچھ عناصر پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات خراب کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ جن میں ٹی ٹی پی کے لوگ بھی شامل ہیں۔

ادھر افغان طالبان کے اہم رہنمائوں میں یہ تشویش بڑھ رہی ہے کہ اگر پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کو خراب کرنے سے نہ روکا گیا تو مستقبل میں افغان طالبان کو سخت مشکلات کا سامنا ہو گا۔ کیونکہ افغانستان میں گوریلا جنگ انتہائی آسان، جبکہ شہروں کا دفاع ایک مشکل کام ہے۔ طالبان کو بخوبی علم ہے کہ وہ گوریلا جنگ کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

دوسری جانب باوثوق ذرائع نے بتایا ہے کہ افغان طالبان کے مخالف اتحادمتحدہ اپوزیشن نے پاکستان کے ساتھ روابط بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے اور بعض رہنمائوں نے امریکہ اور جرمنی کے ذریعے رابطے بھی شروع کردئیے ہیں۔ جبکہ کچھ سابق جہادیوں سے روابط دوبارہ بحال کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ جس میں استاد ربانی کے صاحبزادہ صلاح الدین ربانی، جمعیت اسلامی کے یونس قانونی، ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ، استاد سیاف، جنرل اسماعیل خان اور دیگر شامل ہیں۔

سابق جہادیوں نے حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار کو طالبان کے خلاف کرنے کی بہت کوشش کی۔ لیکن حکمت یار نے طالبان کے خلاف کسی بھی محاذ کا حصہ بننے سے انکار کر دیا ہے۔گلبدین حکمت یار نے رابطہ کار رہنمائوں سے کہا کہ ان کے طالبان کے ساتھ کئی مسائل پر اختلاف ہیں۔ جن میں خواتین کی تعلیم پر پابندی اور ملک میں دیگر اسلام پسندوں کے مطالبات پر غور نہ کرنا ہے۔ تاہم حزب اسلامی اور طالبان کا امریکہ کے خلاف یکساں موقف ہے۔ وہ طالبان کو وقتاً فوقتاً مسائل سے آگاہ کرتے رہیں گے۔ لیکن ان کے خلاف کسی مہم کا حصہ نہیں بنیں گے۔

کابل میں موجود زرائع کے مطابق امریکہ اور یورپ کو چین کی افغانستان میں سرگرمیوں پر تشویش ہے۔ کیونکہ چین بھی مستقبل میں طالبان سے وہ کام لے گا۔ جو آج کل ایران حوثیوں سے لے رہا ہے۔ چین مستقبل میں افغانستان کو فوجی اڈے کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔ جس سے آبنائے ہرمز اور بحر ہند غیر محفوظ ہو جائے گا۔

افغان اپوزیشن نے امریکی آشیرواد کے بعد طالبان کو دھمکیاں دینا شروع کر دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق طالبان کے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بحال رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اسی لیے طالبان نے فیصلہ کیا ہے کہ مولانا فضل الرحمن اور دیگر علما کے ذریعے پاکستان کے ساتھ ٹی ٹی پی کے مسئلے پر حل نکالا جائے۔

ذرائع کے مطابق کچھ عرصے سے طالبان نے اس حوالے سے کوشش شروع کر دی ہے اور ٹی ٹی پی کی جانب سے حالیہ کارروائیاں دبائو بڑھانے کا ایک حربہ ہے۔ ادھر افغانستان میں وزارت داخلہ کے ترجمان عبدالمتین قانع کا ایک اہم بیان سامنے آیا ہے کہ گزشتہ ایک برس کے دوران تحریک طالبان پاکستان کے تین درجن سے زائد لوگوں کو افغانستان میں گرفتار کیا گیا ہے۔قانع سے منسوب بیان میں کہا گیا ہے کہ اس وقت ٹی ٹی پی کے چالیس کے قریب لوگ زیرحراست ہیں جو مختلف جیلوں میں بند ہیں۔ اس سے پہلے پاکستان اور افغانستان کے بیج اہم ترین رابطے ہوئے ہیں۔ عبدالمتین قانع نے اپنے بیان میں اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ ٹی ٹی پی کے گرفتارافراد میں کوئی اہم رہنما بھی شامل ہے یا نہیں اور یہ کہ انہیں پاکستان کے حوالے کیا

وکلاء تنظیمیں چیف الیکشن کمشنر سے استعفی کیوں مانگنے لگیں؟

جاسکتا ہے یا نہیں۔

Related Articles

Back to top button