فوج نے جارحانہ حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیوں کیا؟

عسکری قیادت نے سانحی 9 مئی میں ملوث شرپسندوں اور ان کے سہولتکاروں کو انجام تک پہنچانے کا فیصلہ کر ملک دشمن قوتوں کو پریشانی سے دوچار کر دیا ہے۔ فوج کی جانب سے 7جون کو فارمیشن کمانڈر کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے کو مبصرین کافی سخت اور تحریکِ انصاف کے لیے واضح پیغام قرار دے رہے ہیں۔
فوج نے اپنے اعلامیے میں متحد ہونے کا پیغام دینے کے ساتھ ساتھ نو مئی کے واقعات کے ذمے داروں کو انجام تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔فوجی اعلامیے میں کسی سیاسی جماعت کا نام تو نہیں لیا گیا البتہ یہ کہا گیا ہے کہ ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف سیاسی مقاصد کے تحت نفرت پھیلانے اور بغاوت کے منصوبہ سازوں کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کا وقت آ گیا ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ فوجی اعلامیے میں نو مئی کے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کا پیغام دیا گیا ہے۔ لیکن پی ٹی آئی کی حمایت کرنے والے مبصرین کہتے ہیں فارمیشن کمانڈر کانفرنس کا اعلامیہ بغیر تحقیقات کے ایک ہی جماعت کو موردِالزام ٹھہرا رہا ہے اور اس عمل سے عوام اور فوج میں فاصلے پیدا ہوسکتے ہیں۔فوج کی جانب سے اعلامیہ ایسے موقع پر آیا ہے جب وفاقی حکومت نو مئی کے واقعات کا منصوبہ ساز چیئرمین تحریکِ انصاف عمران خان کو قرار دے رہی ہے۔
واضح رہے کہ نو مئی کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد ہونے والے ہنگاموں میں مشتعل افراد نے فوج کے راولپنڈی میں واقع جنرل ہیڈکوارٹر جی ایچ کیواور لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس سمیت کئی تنصیبات اور املاک کو نقصان پہنچایا تھا۔ بعدازاں ان واقعات پر فوج اور حکومت کی جانب سے شدید ردِ عمل سامنے آیا تھا۔
دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر ریٹائرڈ حارث نواز کہتے ہیں فوج کے اعلامیے میں اگرچہ کسی سیاسی جماعت کا نام نہیں لیا گیا لیکن سب کو معلوم ہے کہ ان واقعات میں کون ملوث ہے۔انہوں نے کہا کہ فوج نے اپنے اعلامیے میں پیغام دیا ہے کہ نو مئی کے واقعات میں ملوث افراد کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا اور ان تمام افراد کے خلاف ملٹری کورٹس میں مقدمے چلائے جائیں گے۔
بریگیڈیئر ریٹائرڈ حارث نواز کہتے ہیں فوج کے اعلامیے میں ایک اہم پیغام جو دیا گیا ہے وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا معاملہ تھا جو ایک سیاسی جماعت کی طرف سے لگاتار اٹھایا جارہا ہے۔انہوں نے پی ٹی آئی کا نام لیے بغیر کہا کہ ایک سیاسی جماعت کی طرف سے خواتین کو جیلوں میں ڈالے جانے کے معاملے کو اٹھایا جا رہا ہے اور اس ضمن میں امریکی کانگریس کے ارکان کی آوازوں کو بھی شامل کیا جا رہا ہے۔
حارث نواز نے کہا کہ امریکہ یا برطانیہ میں وہاں کی حکومتوں کے خلاف جو کچھ ہوا اور اس کے بعد جو ریاستی ردعمل آیا تو کس نے دوسرے ملک سے مدد مانگی؟ لیکن یہاں دوسرے ملکوں سے مدد مانگی جارہی ہے جس پر فوج نے واضح پیغام دیا ہے کہ انسانی حقوق کا نام لے کر جرائم کی پردہ پوشی نہیں کی جاسکتی۔فوج کے خلاف سوشل میڈیا پر جاری مہم کے بارے میں حارث نواز نے کہا کہ اس وقت فوج کی ٹرولنگ پر کام کیا جارہا ہے، ایک سیاسی جماعت کی قیادت کو بھی کہا گیا ہے کہ اپنے ٹرولنگ سیکشن کو سنبھالیں، اس طرح کی مہم چلانے سے ملک بدنام ہورہا ہے اور ایسی کسی بھی مہم کو ہر صورت ناکام بنایا جائے گا۔
دوسری جانب سینئر صحافی اور اینکر پرسن صابرشاکر کے خیال میں فارمیشن کمانڈر کانفرنس میں پیغام سخت دیا گیا ہے لیکن یہ سب باتیں بغیر تحقیقات کی جارہی ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کا مطالبہ رہا ہے کہ نو مئی کے واقعات پر باقاعدہ عدالتی کمیشن بنا کر ان معاملات کی تحقیقات کی جائےلیکن یہاں نظر آرہا ہے کہ مکمل تحقیقات کے بغیر ہی ایک جماعت کو نشانہ بنایا جارہا ہے جو کسی صورت درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت لگ رہا ہے کہ فوج جارحانہ موڈ میں ہے لیکن زمینی حقائق کا جائزہ نہیں لیا جارہا۔ موجوہ صورتِ حال کو عوام ہضم نہیں کرپارہے۔ چیزیں کنٹرول میں نہیں آرہیں اور ایک کے بعد ایک غلطی کی جارہی ہے۔
فوج کے اعلامیے کے بعد سوشل میڈیا پر تبصروں کا سلسلہ جاری ہے۔سینئر صحافی کامران خان فوجی اعلامیے کے بعد ایک ٹوئٹ میں کہتے ہیں الوداع الوداع عمران خان الوداع۔ اب عمران خان سیاست کو کوئی معجزہ ہی بچا سکتا ہے۔
وفاقی وزیرِ داخلہ رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان کی اپنی آواز میں ایسی شہادتیں موجود ہیں جنہیں اگر عدالت میں پیش کیا گیا تو کہنا پڑے گا کہ عدالت میں ان پر ان کیمرہ سماعت کی جائے۔رانا ثنااللہ نے مقامی ٹی وی جیونیوز سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ پی ٹی آئی کی دوسرے اور تیسرے درجے کی قیادت کے کچھ لوگ نو مئی کے واقعات میں شد و مد سے شامل تھے لیکن نو مئی کے آرکیٹکٹ اور ماسٹر مائنڈ
کیا سنسرڈ فلم ’’ککڑی‘‘ پاکستان میں مقبولیت حاصل کر پائے گی؟
چیئرمین پی ٹی آئی ہیں۔
