ٹیکس فری بجٹ نہیں ہوگا،ترقیاتی بجٹ کا حجم 1100 ارب رکھنے کی تجویز

وفاقی حکومت نے ٹیکس فری بجٹ سے معذرت کرلی ۔جبکہ ترقیاتی بجٹ کا حجم 1100ارب رکھنے کی تجویز سامنے آ گئی۔

 وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے کہا ہے کہ آئندہ بجٹ میں مہنگائی کنٹرول کرناسب سے بڑا چیلنج ہے۔ معیشت کا بگاڑ ٹھیک کرنے میں مزید کئی ماہ لگیں گے،  آئندہ بجٹ ٹیکس فری نہیں دے سکتے، ٹیکس آمدن نہ بڑھائی تو خسارہ بے قابو ہوجائے گا۔پاکستان آئی ایم ایف کے پروگرام میں ہے، بحیثیت قوم اب اسی راستے پر چلنا ہے، نویں جائزے کے مکمل ہونے کےلیے پرُ امید ہیں۔وزیر اعظم کی ایم ڈی آئی ایم ایف سے بات چیت کے مثبت نتائج آنے کاامکان ہے، اسٹاف لیول معاہدے کے بعد حالات بہتر ہوں گے، آئندہ بجٹ میں مہنگائی کنٹرول کرناسب سے بڑا چیلنج ہے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت اجلاس  آج ہوگا جس میں سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی ترقیاتی بجٹ کی منظوری دے گی۔وزارت خزانہ نے وفاقی ترقیاتی بجٹ 900 ارب روپے تک رکھنے کی اجازت ہے جب کہ جی ڈی پی گروتھ کا ہدف 3.5 فیصد رکھنے کی تجویز ہے۔ کمیٹی کی سفارشات منظوری کےلیے قومی اقتصادی کونسل میں پیش کی

بھارتی گلوکارہ لائیو شو کے دوران گولی لگنے سے زخمی

جائیں گی۔

Back to top button