نگراں وزیر اعظم کاکڑ کی تعیناتی کا اصل فیصلہ ساز کون؟

نگران وزیراعظم کی تعیناتی کا فیصلہ بلاشبہ آنے والے فیصلوں کی خبر دے رہا ہے۔ فیصلے کسی اور کے ہونگے، قلم کسی اور کا اور دستخط کسی اور کے؟ ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی عاصمہ شیرازی نے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کیا ہے۔ عاصمہ شیرازی کا مزید کہنا ہے کہ نگران وزیراعظم کی تعیناتی میں کیا سرپرائز ہے؟ ایسا کیا ہوا ہے جس کی توقع نہ تھی۔ کیا یہ غیر متوقع ہے کہ نگران وزیراعظم کا فیصلہ راجہ ریاض اور شہباز شریف کے ہاتھوں ہوا ہے؟ یا یہ کہ یہ فیصلہ خود اُن کے لیے بھی توقع کے خلاف تھا؟ بات مقتدرہ کے اختیار کی نہیں بلکہ سیاسی خانوادے کے انحصار کی ہے۔
عاصمہ شیرازی کے بقول حیرانگی کی وجہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ آخر ایسا کیا کام ہے جو انوارالحق کاکڑ نہ کر سکیں گے جو عمران خان اور شہباز شریف نے نہیں کیا؟ کاکڑ صاحب اسٹیبلشمینٹ کے حامی ہیں تو اس وقت اسٹیبلشمینٹ مخالف کون ہے؟ ن لیگ خوش ہے تو تحریک انصاف بھی غیر مطمئن نہیں، پیپلز پارٹی چُپ ہے تو جے یو آئی ایف خاموش اور اے این پی راضی۔۔۔ صرف بی این پی مینگل ٹھہرے پانی میں پتھر مار رہی ہے۔
عاصمہ شیرازی کا مزید کہنا ہے کہ کاکڑ صاحب میں وہ سب کچھ ہے جو باقیوں میں بھی تھا۔ جملہ اوصاف کچھ بڑھ کر یہ ہیں کہ خوش اخلاق، پڑھے لکھے اور متوسط طبقے سے بھی ہیں۔ آخر کوئی متوسط طبقے سے بھی وزیراعظم بن ہی گیا بھلے ’نگران‘ ہی سہی۔ عاصمہ شیرازی کے مطابق مینگل صاحب کا اعتراض کہ نون لیگ نے مشاورت نہیں کی اور اسٹیبلشمینٹ کا ’مہرہ‘ اوپر لا بٹھایا جبکہ چُپ چُپ سی پیپلز پارٹی دبے لفظوں میں خودکلامی کر رہی ہے کہ ہم نے تو اتفاق نہ ہونے کے بعد معاملہ ن لیگ کے سپرد کیا تھا، نہیں معلوم تھا کہ ن لیگ کاکڑ صاحب کو منتخب کرے گی۔
نگراں وزیر اعظم کے تقرر سے پہلے اسلام آباد کے چائے خانوں، بیٹھکوں اور آستانوں پر الگ ہجوم رہا مگر قرعہ فال وہیں سے آیا جہاں کی مہر کے بعد سب کی مُنہ پر مہر لگ گئی۔ ن لیگ خوش کہ بالآخر قرعے میں اُن کی حاجت بھی رکھ لی گئی۔قائد ایوان یعنی وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کی طویل نشستیں، دکھاوے کی مشاورت اور نظارے کے اہتمام برقرار رہا۔ راجہ ریاض بھی ’اِندر‘ اور شہباز شریف بھی صاحبِ پرواز۔۔۔ سب اپنی اپنی جگہ راضی مگر پنڈی لے گیا بازی۔
عاصمہ شیرازی کھ بقول مسلم لیگ نواز کے تقریباً تمام حامی ششدر ہیں کہ ن لیگ نے نظریہ ضرورت کے تحت سینیٹر انوار الحق کاکڑ کی تعیناتی کا فیصلہ کیا یا نظریہ سہولت کے تحت کیونکہ پیش منظر میں بظاہر بلوچستان کی نشستیں اور ممکنہ اتحاد کی جھلک نظر آرہی ہے۔یوں بھی بلوچستان کا سیاسی مستقبل ہمیشہ محفوظ ہاتھوں میں ہی رہا ہے نہ صرف یہ بلکہ ’باپ‘ کی ضمانت کے بغیر حکومتِ پاکستان کا تحفظ بھی اب ناممکن نظر آتا ہے۔
عاصمہ شیرازی کا کہنا ہے کہ جانے اختر مینگل سرپرائز کیوں ہوئے حالانکہ وہ ن لیگ کے پرانے واقف کار ہیں۔ بہرحال اُن کا شکوہ اپنی جگہ کہ بلوچستان میں اُن کی سیاست کے دروازے بند جبکہ اسٹیبلشمینٹ کی حامی جماعت کے لیے دروازے پختہ کر دیے گئے ہیں۔نگران وزیراعظم کاکڑ کی جگہ کوئی اور بھی آ جاتا تو بھی سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ ن لیگ نے یہی پالیسی اختیار کرنا تھی تو پانچ سال پہلے کر لی ہوتی۔ ن لیگ سیاست کے گرداب میں اُسی محور پر آ پہنچی ہے جہاں مصلحت کے نام پر سیاسی مفاد حاصل کیا جاتا ہے؟ شاید مسلم لیگ نواز کی جمہوریت پسندی کا پیمانہ ختم ہو چکا یا ووٹ کو عزت دے دے کر تھک گئے۔
عاصمہ شیرازی کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں کی قانون سازی اور فیصلوں نے سیاست کو وہیں لاکھڑا کیا، جہاں تیس سال پہلے تھی، نا چہرے بدلے ہیں نا سیاست کا انداز۔۔۔ کوئی کیوں کر حساب لگائے گا کہ کیا کھویا اور کیا پایا۔
