ایک بار پھر الیکشن کو ملتوی کرنے کی سازش تیار؟

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے ملک میں عام انتخابات کی تاریخ دینے اور شیڈول کا اعلان کرنے کے باوجود یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا 8 فروری کو عام انتخابات کا انعقاد ممکن ہو سکے گا یا نہیں؟ سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے 8 فروری کو پتھر پر لکیر قرار دیتے ہوئے اسی روز پولنگ کرانے کے احکامات دے رکھے ہیں مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے اس سب کے باوجود لوگوں کو انتخابات کے التوا کا خدشہ کیوں ہے۔

انگریزی کا مقولہ ہے کہ کپ کے ہاتھ سے ہونٹوں تک پہنچنے میں کئی ’جاں گسل‘ مراحل درپیش ہوتے ہیں اور ایسا ہی کچھ نظر آتا ہے پاکستان میں 8 فروری کو مجوزہ عام انتخابات کے معاملے میں جہاں سپریم کورٹ آف پاکستان اس کوشش میں ہے کہ 8 فروری کو عام انتخابات کی راہ سے تمام رکاوٹوں کو دور کیا جائے تو دوسری طرف ایسی کوششیں بھی نظر آتی ہیں جن کا بظاہر مقصد عام انتخابات کے انعقاد کو روکنا ہے۔

15 دسمبر کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے فوری ایکشن لیتے ہوئے نے لاہور ہائیکورٹ کے ایک ایسے حکمنامے کو معطل کیا جو نہ کیا جاتا تو انتخابات کا انعقاد مشکل میں پڑ جاتا۔ مذکورہ حکم نامے کے ذریعے پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے درخواست گزار کی استدعا پر ریٹرننگ افسران کے تقرر سے متعلق حکم امتناع جاری کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے حکمنامہ معطل کرتے ہوئے ساتھ ہی ساتھ زبانی طور پر لاہور ہائیکورٹ کے جج کی گوشمالی بھی کی اور عام انتخابات کے انعقاد میں رکاوٹیں ڈالنے والوں کو انتباہ بھی کر ڈالا کہ ایسی کاوشوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔بعد ازاں بلوچستان میں حلقہ بندیوں کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچا تو سپریم کورٹ نے بلوچستان ہائیکورٹ کا حکم امتناع معطل کر دیا اور قرار دیا کہ الیکشن میں التواء ہرگز نہیں ہونے دینگے۔

جہاں ایک طرف سپریم کورٹ آف پاکستان ہر حال میں 8 فروری کو عام انتخابات کرانے پر کمربستہ ہے، تو دوسری طرف الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ساکھ پر اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں اور اب پاکستان بار کونسل نے چیف الیکشن کمشنر پر عدم اعتماد جبکہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایسشن نے ان سے استعفے کا مطالبہ کر دیا۔ دونوں بڑی وکلا تنظیموں نے کہاکہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر کے زیر انتظام آزادانہ اور منصفانہ انتخابات نہیں ہو سکتے۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر عابد زبیری نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی موجودہ قیادت نے جو پریس ریلیز جاری کی ہے وہ اپنے لیڈر احسن بھون کی خاطر یہ سب کر رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ حافظ آباد میں ایک نیا حلقہ تشکیل دیے جانے کے لیے چونکہ احسن بھون کی درخواست مسترد ہوئی ہے اس لیے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے یہ پریس ریلیز جاری کی۔

دوسری طرف سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر کامران مرتضٰی کے مطابق سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور پاکستان بار کونسل کی جانب سے ایک ہی جیسی پریس ریلیز کا اجرا محض اتفاق نہیں ہو سکتا۔کامران مرتضٰی نے کہاکہ جو بھی ہو انتخابات لازمی طور پر 8 فروری کو ہی ہونا چاہییں کیونکہ اس وقت ملک میں منتخب نمائندوں کی حکومت نہیں جو کہ آئین کے دیباچے میں طے کیے گئے اصولوں کی خلاف ورزی ہے، انتخابات کے ذریعے سے اپنے حکمران منتخب کرنا عوام کا حق ہے اور جو کوئی اس میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرے گا وہ عوام کے حق کے خلاف ہوگا۔دوسری جانب سابق سیکرٹری الیکشن کمشن کنور دلشاد کے مطابق ہر صورت اور 100 فیصد 8 فروری کو انتخابات ہونے چاہییں۔ حلقہ بندیوں کے معاملے پر اٹھنے والے اعتراضات کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس بارے میں آپ سب لوگوں کو مطمئن نہیں کر سکتے۔ ایک کا اعتراض دور کریں گے تو دوسرا اعتراض کر دے گا۔

دوسری جانب فری اینڈ فیئر الیکشن کے حوالے سے صورتحال کو مانیٹر کرنے والے ادارے فافن کے نمائندے مدثر رضوی نے  بتایا کہ اگر لوگوں کی خواہشات پر چلنے لگیں تو انتخابات کا انعقاد ناممکن ہے، لیکن ہماری رائے یہ ہے کہ انتخابی عمل کو کسی صورت بھی نہیں رکنا چاہیے۔پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر پر اٹھائے گئے اعتراضات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مدثر رضوی نے کہاکہ سپریم کورٹ چیف الیکشن کمشنر کو نہیں ہٹا سکتی، اس کے لیے متعلقہ فورم سپریم جوڈیشل کونسل ہے اور جن لوگوں کو چیف الیکشن کمشنر پر اعتراض ہے انہیں وہاں ریفرنس دائر کرنا چاہیے۔حلقہ بندیوں پر اٹھنے والے اعتراضات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حلقہ بندیوں کا عمل سیاسی کے بجائے قانونی بنیادوں پر کیا جاتا ہے اور گو کہ حلقہ بندیوں کے بارے میں 10 فیصد کے اصول کا اطلاق نہیں کیا گیا اور کچھ اعتراضات ضرور ہیں لیکن ایک حلقے کی حلقہ بندی کو تبدیل کر کے دوسری پارٹی کو اعتراضات دائر کرنے کے لیے ایک مہینے کا وقت دینے کا مطلب ہے کہ انتخابی عمل روک دیا جائے۔انہوں نے کہاکہ اس بات کی بھی کوئی ضمانت نہیں کہ حلقہ بندیوں سے اگر فریق متفق ہو گا تو دوسرا ناراض نہیں ہو گا۔ اور اس طرح سے اعتراضات کا لامتناہی سلسلہ چلتا رہے گا۔ مدثر رضوی نے کہا کہ وکلا تنظیمیں سیاسی بنیادوں پر استوار ہو چکی ہیں لیکن سیاسی جماعتیں ہوں، پروفیشنل باڈیز یا وکلا تنظیمیں، ان کو انتخابی عمل میں رکاوٹ کا موجب

ملک بھر میں بجلی 1 روپے 15 پیسے فی یونٹ مہنگی

نہیں بننا چاہیے۔

Related Articles

Back to top button