چیف جسٹس بندیال اور حکومت کے تعلقات میں بہتری

باخبر ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ وفاقی حکومت اور چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے مابین معاملات بالآخر بہتری کی جانب گامزن ہوگئے ہیں اور چیف جسٹس نے اپنی غلطی کا ادراک کرتے ہوئے اپنی کرسی بچانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اہم پیش رفت کے بعد چیف جسٹس بندیال کے خلاف حکومت کی جانب سے نااہلی کا ریفرنس لانے کے امکانات بھی معدوم ہوگئے ہیں۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ اب تمام اسمبلیوں کے الیکشن بھی اکٹھے ہی ہوں گے۔
دوسری جانب سینئر صحافی اور تجزیہ کار غریدہ فاروقی کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت بدترین سیاسی، معاشی، آئینی، اور سلامتی کے بحرانوں کا شکار ہے، لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ ان مسائل کے حل کے بجائے نئے مسائل سامنے آجاتے ہیں۔ انکے مطابق اس وقت جس صورت حال کا سامنا پاکستان کر رہا ہے وہ انتہائی سنجیدہ اور حل طلب ہے۔ایک طرف سیاسی افراتفری ہے، تو دوسری جانب قومی سلامتی کا اہم مسئلہ بھی درپیش ہے۔آئینی بحران کی بات کی جائے تو اس وقت سب سے اہم معاملہ جو ملکی سیاست میں گذشتہ کئی دنوں سے زیر بحث ہے وہ سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبر پختونخوا میں الیکشن سے متعلق ازخود نوٹس کیس کا ہے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں غریدہ فاروقی کا مزید کہنا یے کی ازخود نوٹس کیس آغاز سے ہی متنازع ہوگیا تھا جب نو رکنی لارجر بینچ میں سے چار ججز علیحدہ ہو گئے۔اس کے بعد پانچ رکنی بینچ نے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی اور 2-3 کی نسبت سے الیکشن کے جلد ازجلد انعقاد کا فیصلہ جاری کیا۔ لیکن فیصلے کے آنے بعد کیس مزید متنازع ہوگیا۔ حکومتی ارکان نے فیصلے میں سابقہ سماعتوں میں جاری دو ججز کے اختلافی نوٹ کی بنا پر فیصلے کو 3-4 کی نسبت سے اپنے حق میں قرار دے دیا۔اس کے بعد ایک اور سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل جو ازخود نوٹس بینچ سے علیحدہ ہوگئے تھے، نے ریمارکس دیے کہ فیصلہ 3-4 کی نسبت سے ہے۔ جس کے بعد فیصلے سے متعلق شکوک شبہات میں مزید اضافہ ہو گیا۔اب حال ہی میں اسی بینچ کے متعلق جسٹس اطہر من اللہ کا اختلافی نوٹ منظر عام پر آیا ہے جس میں ان کے نوٹ سے سپریم کورٹ کے اپنے اندر اختلافات کی شدت میں اضافہ دکھائی دیا۔جسٹس اطہر من اللہ کے اپنے نوٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ فیصلہ 3-4 کی نسبت سے آیا۔ اور ان کے نوٹ میں ملکی سیاسی و آئینی صورتحال سے متعلق سخت ریمارکس شامل ہیں۔ اختلافی نوٹ میں انہوں نے معاملے پر فل کورٹ کی تجویز کا اظہار بھی کیا ہے۔اس ساری صورت حال سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ملک کی اعلیٰ عدلیہ میں اختلافات انتہائی شدید سٹیج پر پہنچ چکے ہیں اور اس وقت پاکستان میں عدلیہ کا کردار بھی کافی متنازع ہوچکا ہے۔ان حالات میں حکومت اور عدلیہ کے درمیان ہونے والی محاذ آرائی بھی کافی شدت اختیار کرچکی ہے۔
غریدہ فاروقی کھ بقول جہاں سب سے پہلے حکومت نے سپریم کورٹ میں ازخود نوٹس کے حوالے سے قوانین کے متعلق قانون سازی کرکے چیف جسٹس کے اختیارات کو محدود کر دیا وہیں حال ہی میں الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے حکم کے خلاف پنجاب میں الیکشن کی تاریخ کو 30 اپریل کو ہونے والے صوبائی انتخابات کو آٹھ اکتوبر تک موخر کر دیا تھا۔الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ نے درخواست کی سماعت کی اور اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا اور ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ الیکشن کی تاریخ بھی دے دی۔سپریم کورٹ نے پنجاب میں الیکشن کے لیے 14 مئی کی تاریخ رکھ لی اور الیکشن کمیشن کی معاونت کے لیے متعلقہ اداروں کو ہدایات بھی جاری کر دیں۔سپریم کورٹ کی جانب سے پنجاب میں الیکشن کے التوا کے خلاف اس کیس میں بھی متنازع پانچ رکنی بینچ میں سے دو ججز نے سماعت سے معذرت کر لی۔جس پر حکومت نے فل کورٹ کی استدعا بھی کردی لیکن چیف جسٹس نے درخواست مسترد کر لی اور بقیہ تین ججز کے ساتھ ایک طویل سماعت کے بعد مندرجہ بالا فیصلہ سنا دیا۔سپریم کورٹ کی جانب سے انتخابات کے اعلان کے بعد ن لیگ اور ان کے اتحادیوں نے نہ صرف اس فیصلے کو ماننے سے انکار کر دیا بلکہ تین رکنی بینچ کے خلاف قومی اسمبلی سے قرارداد بھی منظور کر لی اور فل کورٹ کی تشکیل کا مطالبہ بھی کردیا۔
غریدہ فاروقی کا مزید کہنا ہے کی اس سارے منظرنامے میں ایک اورچیز واضح ہے کہ اس وقت پاکستان میں سیاستدان رہنماؤں سے لے کر اب اہم عدالتی اشخاص بھی انتہائی متنازع ہوچکے ہیں۔حتیٰ کہ نواز شریف نے بھی چیف جسٹس عمر عطا بندیال سمیت تین رکنی بینچ کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ اب ان کے اس مطالبے پر عمل ہوگا یا نہیں یہ تو وقت بتائے گا۔
غریدہ فاروقی کے بقول اس وقت یہ بات بھی زیربحث ہے کہ آیا سپریم کورٹ کے پاس انتخابات کے اعلان کا اختیار ہے بھی یا نہیں؟دوسری اہم چیز ہے کہ وفاقی کابینہ بشمول پارلیمان نے سپریم کورٹ کا فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا ہے۔اب اس انکار کے بارے میں آئین کیا کہتا ہے اور اگر یہ عمل قانون کے منافی ہے تو کیا اس صورت میں وزیراعظم شہباز شریف سمیت ان کی کابینہ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ہو سکتی ہے؟اگر توہین عدالت کی کارروائی ہوتی ہے تو کیا شہباز شریف کی نااہلی کا بھی امکان ہے یا نہیں؟جسٹس اطہر من اللہ کے اختلافی نوٹ نے ن لیگ کے ججز مخالف بیانیے میں بھی جان ڈال دی ہے۔ایک طرف نواز شریف، مریم نواز، رانا ثنااللہ سمیت تقریباً تمام لیگی قیادت بشمول وزیراعظم شہباز شریف سپریم کورٹ کے ججز پر مسلسل تنقید کر رہے تھے تو دوسری جانب چیف جسٹس سمیت ججز کے خلاف ریفرنس کی باتیں بھی زیر گردش آ رہی تھیں، اس اختلافی نوٹ کے آنے کے بعد ن لیگ نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال صاحب سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ن لیگ کا بھی یہی کہنا ہے کہ چیف جسٹس صاحب اس وقت کافی متنازع ہوچکے ہیں بہتر ہے وہ استعفیٰ دیں۔اس وقت ملک میں عدلیہ کا کردار انتہائی متنازع ہو چکا ہے اور اس کی غیر جانبداری پر مسلسل سوالات اٹھ رہے ہیں۔اتنی ساری باتوں کے بعد بھی اب تک اس بات کی کھل کر وضاحت نہیں ہوئی کہ ازخود نوٹس کیس کے فیصلے کی نسبت چار تین ہے یا تین دو؟جسٹس اطہر من اللہ کے اختلافی نوٹ کا فیصلے پر اثر کیا پڑے گا؟کیا الیکشن کے انعقاد پر فل کورٹ کی تشکیل کا جواز بنتا ہے اور کیا اس پر عمل بھی ہوگا؟کیا حکومت کی جانب سے چیف جسٹس صاحب سے استعفے کا مطالبہ جائز ہے؟
غریدہ فاروقی کا مزید کہنا ہے کہ اس وقت یہ سوال بھی اہم ہے کہ سپریم کورٹ میں سیاسی کیسز میں مخصوص ججز کے بینچز کیوں تشکیل دیے جارہے ہیں؟ اکثر اہم کیسز میں سینیئر ترین ججز کی غیر موجودگی صورت حال کو مزید متنازع کر رہی ہے۔یہ بات بھی گردش میں ہے کہ سپریم کورٹ میں ایک سیاسی جماعت کو فائدہ پہنچانے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔اب ان باتوں میں حقیقت ہے یا نہیں یہ الگ بات ہے لیکن اس وقت اعلیٰ عدلیہ ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ متنازع نظر آرہی ہے اور ججز کے اندرونی اختلافات بھی لوگوں کے سامنے ہیں۔
دوسری جانب اسلام آباد میں اندر کی خبر رکھنے والے ذرائع کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے صورتحال کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اس حوالے سے پیش رفت چند دنوں میں سامنے آنا شروع ہو جائے گی۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پارلیمنٹ کی جانب سے آنے والے سخت ترین ردعمل کے بعد چیف جسٹس بندیال کو اپنی غلطی کا ادراک ہو چکا ہے اور وہ اس کا ازالہ کرنے کا ذہن بھی بنا چکے ہیں، لہازا اس حوالے سے ان کے اہم ترین فیصلے دنوں میں سامنے آنا شروع ہو جائیں گے جس کے بعد تمام اسمبلیوں کے الیکشن اکتوبر میں ہی ہوں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بندیال کی جانب سے انصاف کے ترازو کے دونوں پلڑے برابر کئے جانے کی یقین دہانی کے بعد حکومت بھی ان کے خلاف نااہلی کا ریفرنس لانے سے ٹل جائے گی۔
