الیکشن کمیشن نے شفاف انتخابات کیلئے مزید اختیارات مانگ لئے

سپریم کورٹ کی جانب سے14مئی کو الیکشن کے حکم اور الیکشن شیڈول جاری کرنے کے بعدالیکشن کمیشن نے اپنے اختیارات میں مزید اضافے کا تقاضا کر دیا۔ الیکشن کی تاریخ اور الیکشن پروگرام میں تبدیلی سے متعلق الیکشن کمیشن کو مزید بااختیار بنانے کیلئے الیکشن کمیشن نے الیکشن ایکٹ 2017 کی 57 (1) اور 58 میں ترمیم کی سفارش کر دی۔ الیکشن کمیشن کے مطالبے پر سیکشن 57 (1) میںمجوزہ ترمیم کے بعد انتخابات کیلئے پولنگ ڈے تجویز کا اختیار الیکشن کمیشن کا ہوگا جبکہ سیکشن 58 کے تحت انتخابی شیڈول کے اجرا کا اختیار بھی الیکشن کمیشن کے پاس ہوگا۔ سیکشن 58 میں ترمیم سے الیکشن کمیشن کا کردار مضبوط ہوگا اور کوئی مداخلت نہیں کر سکے گا۔ مسودے کے مطابق صرف الیکشن کمیشن ہی عام انتخابات کیلئے تاریخ کا اعلان کرنے کا مجاز ہوگا۔ ذرائع کے مطابق الیکشن پروگرام میں تبدیلی یا نئے سرے سے الیکشن پروگرام دینے میں ابہام ختم کرنے کیلئے ترمیم کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن مختلف اسٹیجز پر الیکشن پروگرام میں تبدیلی کر سکے گا جبکہ تحریری وجوہات کے ساتھ نئی سرے سے الیکشن تاریخ اور نیا الیکشن پروگرام دے سکے گا۔ ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن نے سیکرٹری پارلیمانی افیئرز کو ترمیمی ڈرافٹ بھجوانے کیلئے تیار کر لیا ہے۔
سیکرٹری الیکشن کمیشن نے پارلیمانی افیئرز کو بھجوائے جانے والے خط میں ترامیم کے پیچھے وجوہات کا ذکر بھی کیا ہے۔خط کے متن کے مطابق الیکشن کمیشن ایک با اختیار ادارہ ہے اس لیے صاف اور شفاف الیکشن کرانا اس کی ذمہ داری ہے جبکہ انتخابات کرانے کیلئے الیکشن کمیشن کا مینڈیٹ کسی کے ماتحت نہیں۔
آئین کے مطابق الیکشن کمیشن نے طے کرنا ہوتا ہے حالات الیکشن کیلئے موقفق ہیں یا نہیں۔ اعلیٰ عدلیہ کے حالیہ فیصلوں نے الیکشن کمیشن کو 218(3) میں درج اختیارات استعمال کرنے سے محروم کیا حالانکہ قانونا الیکشن کمیشن نے 218(3) کے تحت حالات واقعات کا جائزہ لیکر الیکشن کرانے کا طے کرنا ہوتا ہے۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے ورکر پارٹی کیس اور الجہاد ٹرسٹ کیس میں الیکشن کمیشن کے کردار کو واضح کیا گیا ہے۔ ورکر پارٹی کیس کے مطابق الیکشن کرانا اور الیکشن سے قبل تمام ضروری انتظامات کرنا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، ورکر پارٹی کیس میں کہا گیا کہ آئین الیکشن کمیشن کو الیکشن سے قبل اور پولنگ ڈے انتظامات کی مکمل ذمہ داری دیتا ہے۔ الجہاد ٹرسٹ کیس کے مطابق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ چیف الیکشن کمشنر اپنی ذمہ داری پوری کرنے کیلئے کسی اتھارٹی کے ماتحت ہے۔
قومی اسمبلی تحلیل ہونے یا ٹرم ختم ہونے کے بعد صدر کے الیکشن کی تاریخ دینے کو آئین کی کوئی شق سپورٹ نہیں کرتی اس لیے الیکشن ایکٹ 2017 میں صدر کی طرف سے الیکشن تاریخ کا اعلان آئینی منشا کے خلاف ہے، اس لیے اس ابہام کو دور کرنے کیلئے 57(1) اور 58 میں ترمیم کی سفارش کی گئی ہے۔
خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے 4 اپریل کو پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات ملتوی ہونے کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست پر سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن کا 22 مارچ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا تھا اور 14 مئی کو پنجاب میں الیکشن کرانے کا حکم دے دیا۔فیصلے میں مزید کہا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن 90 دن سے آگے نہیں جاسکتا، الیکشن کمیشن کے غیر قانونی فیصلے سے 13 دن ضائع ہوئے، آئین اور قانون الیکشن کمیشن کو تاریخ میں توسیع کی اجازت نہیں دیتا، الیکشن کمیشن نے انتخابات کی 8 اکتوبر کی تاریخ دے کر دائرہ اختیار سے تجاوز کیا۔فیصلے میں کہا گیا تھا کہ صدر مملکت کی دی گئی تاریخ کا فیصلہ بحال کیا جاتا ہے، 30 اپریل سے 15 مئی کے درمیان صوبائی انتخابات کرائے جائیں۔
واضح رہے کہ 6 اپریل کو قومی اسمبلی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے 14 مئی کو پنجاب میں الیکشن کرانے کے اِس فیصلے کے خلاف قرار داد منظور کی جا چکی ہے جبکہ پنجاب میں انتخابات کے انعقاد کیلئے فنڈز کی فراہمی کا مسئلہ تاحال حل طلب ہے۔ ابھی تک حکومت نے الیکشن کمیشن کو فنڈز فراہم نہیں کئے جبکہ سینیٹ میں قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ساتھ کرانے کی قرارداد کثرت رائے سے منظوری کرلی گئی ہے اور اب الیکشن کمیشن نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کر دیا ہے۔ دوسری طرف تاحال سپریم کورٹ کی جانب سے اس حوالے سے مزید کوئی احکامات سامنے نہیں آئے۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ پنجاب میں الیکشن کا اونٹ کس کروٹ پیٹھتا ہے۔۔
