دیوار سےلگایا گیا تو سب بول دوں گا

چیئرمین تحریک انصاف وسابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میں ابھی صرف اس لئے خاموش ہوں کہ کہیں میرے ملک کا کوئی نقصان نہ ہو جائے ، اگر ہمیں دیوار سے لگایا گیا تو مجبور ہو کر سب کچھ قوم کے سامنے رکھ دوں گا۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتےہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو سے کئی اختلافات ہو سکتے ہیں مگر وہ ملک کو آزاد خارجہ پالیسی دینا چاہتا تھا، جس کا مقصد عوام کی بہتری ہو، پاکستان کا جو جمہوری عمل تھا وہ اب رک گیا ہے، جس سے ملک کا نقصان ہوا ہے، مارشل لا آیا اس کے بعد جمہوری نظام آیا اور اب پھر سے وہ عمل رک گیا ہے، پہلے اور اب جو کچھ ہوا ہے، اس میں ایک ہی چیز یہ ہوئی ہے کہ پاکستان کی آزاد خارجہ پالیسی پر امریکا خوش نہیں ہے کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ حکم ملے اور پاکستان ان کی جنگ میں شامل ہو جائے اور پاکستان 80 ہزار جانیں ان کے لیے قربان کر دے۔

انہوں نے کہا پہلے نواز شریف اور دیگر نے ملک سے چوری کی اور پرویز مشرف سے این آر او لیا اور پھر یہ 10 سال حکومت میں آئے اور پھر سے چوری کی، ان کو ہمارے اوپر مسلط کرنے کا مقصد این آر او ٹو لینا تھا،جو لوگ قوم کو یہ کہہ کر آئے تھے کہ ہم مہنگائی کم کریں گے، انہوں نے مہنگائی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور آج ساری قوم جانتی ہے کہ کبھی بھی پاکستان میں اتنے تھوڑے وقت میں اتنی مہنگائی نہیں ہوئی۔

انکا کہنا تھا ہماری حکومت میں معیشت اچھی سمت میں جا رہی تھی اور تمام شعبوں میں اچھی ترقی ہو رہی تھی تو اچانک ملک میں حکومت گرانے کی سازش ہوئی جس پر قوم نے ردعمل دیا، جس کا مجھے بھی اندازہ نہیں تھا کہ اس طرح قوم سڑکوں پر نکلے گی، موجودہ حکومت میں بیٹھے لوگوں کا پاکستان سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، یہ غدار ہیں جن کا نظریہ فقط پیسہ ہے جو بیرون ممالک رکھا ہوا ہے اور یہ لوگ اپنا پیسہ بچانے کے لیے اسرائیل کو بھی تسلیم کر سکتے ہیں اور ان کو موقع ملے تو کشمیریوں کی قربانیوں کو بھی نظرانداز کرکے بھارت سے دوستی کرلیں اور پیسے کے خاطر پھر کسی امریکی جنگ میں شامل ہو سکتے ہیں اور روس کا تیل بھی نہیں لیں گے کہ امریکا ناراض نہ ہو جائے۔

سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا اس وقت جس طرح کا خوف پھیلایا جا رہا ہے میں نے پاکستان میں کبھی بھی اس طرح کی فاشزم نہیں دیکھی، پرانے دور میں معلومات روکنا یا خبر روکنا آسان تھا مگر اب دور بدل گیا ہے، سوشل میڈیا کا منہ بند نہیں کیا جا سکتا مگر یہ لوگ ملک کو انارکی کی طرف لے جا رہے ہیں۔

عمران خان نے صحافی ایاز امیر پر حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ان کو سب جانتے ہیں کہ ان کو کنٹرول نہیں کیا جا سکتا اور اس کو لفافہ نہیں دیا جا سکتا کیونکہ کہ وہ ایک نڈر اور پڑھا لکھا انسان ہے اور اس عمر میں ان کے ساتھ جو کچھ کیا گیا یہ پوری قوم کے لیے شرم ناک واقعہ ہے، جو ٹی وی چینل چوروں کی حمایت کرتے ہیں ان ک ریٹنگ سب کے سامنے ہے جبکہ جو حق و سچ کی بات کرتے ہیں ان کی ریٹنگ سب سے زیادہ ہے، اسی طرح صحافی عمران ریاض کو لوگ دیکھتے ہیں کیونکہ وہ حق اور سچ کی بات کرتا ہے اور یوٹیوب پر ایسے ہی لوگ ان کو فالو نہیں کرتے۔
انہوں نے کہا صحافی ارشد شریف کے ضمیر کی کوئی قیمت نہیں ہے اس کا تعلق فوجی گھرانے سے ہے مگر اس پر بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے اور صابر شاکر بھی ملک چھوڑ کر چلا گیا ہے اور صحافی جمیل فاروقی کے بھی پیچھے لگے ہوئے ہیں، معید پیرزادہ سمیت متعدد صحافیوں کو ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے اور ہماری سوشل میڈیا ٹیم کے سرگرم رکن ارسلان کے گھر میں چلے گئے اور ان کے اہل خانہ کو ہراساں کیا گیا۔

سابق وزیر اعظم نے کا میں آج اپنی عدلیہ اور عوام سے سوال کرتا ہوں کہ کیا پاکستان میں بنیادی حقوق منسوخ ہو گئے ہیں، پہلے ہی بتا دیتے کہ یہاں مارشل لا نافذ ہو گیا ہے، کون سا آئین ان چیزوں کی اجازت دیتا ہے،25 مئی کو جب ہم ایک پرامن احتجاج کے لیے نکلے تو اس رات ہمارے لوگوں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے اور ایک چھوٹی بچی اپنی ماں کے ساتھ رو رہی تھی کہ ان کے گھر میں پولیس آئی ہے، اسی طرح ایک 11 سالہ بچے کو پولیس اس لیے پکڑ کر لے گئی کہ اس کا والد گھر میں موجود نہیں تھا، کیا یہ مقبوضہ کشمیر ہے یا یہ فلسطین ہے۔

انکا کہنا تھا ہماری کوئی انتشار کی تاریخ نہیں ہے، ہم ہمیشہ قانون پر رہے ہیں، جب پورے خاندان ہمارے احتجاج میں شرکت کرتے ہیں تو کیا ہم ان کو انتشار کے لیے بلاتے ہیں، ان لوگوں پر 25 مئی کو پاکستان کی پولیس اور رینجرز نے ظلم کیا اور ان پر آنسو گیس پھینکے تو ایسی کیا قیامت آ گئی تھی کہ لوگوں پر انتا ظلم کیا گیا، ڈرانے دھمکانے کے جو حربے استعمال کیے جا رہے ہیں یہ ان لوگوں کو ہم پر مسلط کرنے کے لیے ہو رہے ہیں، یہ لوگ ہر دور کے یزید بن کر لوگوں پر ظلم کرنے آتے ہیں، میرے اوپر 15 مقدمے درج کیے ہوئے ہیں اور ہماری پوری قیادت پر دہشت گردی کے مقدمے درج کیے گئے ہیں۔

عمران خان نے کہا میں یہ سب دیکھنے کے باوجود بھی اس لیے چپ ہوں کہ صرف میرے ملک کو کوئی نقصان نہ پہنچے لیکن میں نے ایک وڈیو ریکارڈ کی ہوئی ہے اور وہ محفوظ جگہ پر رکھی ہے، اگر مجھے کچھ ہوتا ہے تو وہ بھی عوام کو پتہ چلے کہ کس نے کیا کیا، اگر اسی طرح ہمیں دیوار سے لگایا گیا تو میں مجبور ہو کر بولوں گا اور پھر سب کچھ قوم کے سامنے رکھوں گا کہ کیا کچھ ہوا۔

شہباز شریف کا پرنسپل سیکرٹری توقیرشاہ متنازعہ کیوں ہے؟

انہوں نے کہا ہمارے خلاف فیصلوں پر رات کو عدالتیں کھولی جاتی ہیں مگر دو مہینوں سے حمزہ شہباز کے خلاف فیصلہ کیوں نہیں ہو رہا کہ کیا یہ آئینی طور پر وزیر اعلیٰ بن سکتا تھا یا نہیں، یہ طریقہ ہے کہ انتظامیہ سمیت الیکشن کمیشن کو ساتھ ملا لیں کیا یہ الیکشن ہے، ملک میں جس طرح سندھ کے بلدیاتی انتخابات میں جو کچھ ہوا ہے وہ بھی سب کے سامنے ہے کہ 15 فیصد لوگ کھڑے ہی نہیں ہوئے۔

سابق وزیر اعظم نے کہا میں پوری قوم کو کہتا ہوں کہ پنجاب میں جو 20 حلقوں پر ضمنی انتخابات ہونے ہیں اس میں گھروں سے نکل کر ووٹ دیں اور ان لوگوں کی دھاندلی کے باوجود ان کو شکست دینی ہے کیونکہ یہ پاکستان کی جنگ ہے کوئی سیاست نہیں ہو رہی ہے۔

Related Articles

Back to top button