آئی ایم ایف نے پاکستان سے ڈو مور کا مطالبہ کر دیا

معاشی اعشاریوں سے پریشان حکومت پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان قرض پروگرام کی بحالی کے امکانات معدوم نظر آتے ہیں کیونکہ آئی ایم ایف نے بجٹ 2023.24 پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان سے ’’ڈو مور ‘‘ کا مطالبہ کر دیا ہے۔ آئی ایم ایف نے ایف بی آر ٹیکس ہدف پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ٹیکس نیٹ میں اضافے اور ٹیکس وصولیاں بڑھانے کے اقدامات کا مطالبہ کر دیا ہے ۔

سینٹ قائمہ کمیٹی خزانہ کے اجلاس میں وزارت خزانہ کے اعلیٰ حکام نے بتایا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ٹیکس وصولی کے ہدف کو ناکافی اور پٹرولیم مصنوعات پر لیوی بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔وزارت خزانہ کے حکام نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ عالمی مالیاتی فنڈ نے پٹرولیم لیوی 50 روپے فی لیٹر سے بڑھاکر 60 روپے کرنے کا مطالبہ کیا ہے.

آئی ایم ایف نے 9 جائزہ مکمل کرنے کیلئے لیوی بڑھانے کی شرط عائد کی ہے، پٹرولیم مصنوعات پر لیوی نہ بڑھانے پر آئی ایم ایف تاحال مطمئن نہیں ،آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ پر عدم اطمینان ، ایف بی آر ٹیکس ہدف پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہےآئی ایم ایف نے قرار دیا ہے کہ ایف بی آر ٹیکس وصولی کی کوششیں اور ٹیکس نیٹ میں اضافے کے اقدامات ناکافی ہیں، آئی ایم ایف نے پاکستان کو ٹیکس وصولیاں بڑھانے کے اقدامات کرنے کا کہا ہے۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ایف بی آر کا ٹیکس ہدف 9200 ارب مقرر کیا گیا ہے۔ وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف نے 869 ارب کی لیوی جمع کرانے کیلئے لیوی کا ریٹ بڑھانے کا بھی مطالبہ کیا ہے، وزارت خزانہ کے جوائنٹ سیکریٹری بجٹ نے کمیٹی کو بتایا کہ آئی ایم ایف بجٹ کے اعداد وشمار سے مطمئن نہیں ہے، اس لیے آئندہ مالی سال کےلیے پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کا ہدف 869ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ رواں مالی سال نظر ثانی شدہ ہدف 542ارب روپے ہے، ارکان کمیٹی نے فنانس بل میں دی گئی اس ترمیم کی مخالفت کی کہ پارلیمنٹ سے منظوری کے بغیر حکومت کو پیٹرولیم لیوی میں اضافے یا کمی کے اختیارات حاصل ہو جائیں .

 دوسری طرف وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے کہا ہےکہ  آئی ایم ایف نے بجٹ کےحوالے سے بعض چیزوں پر وضاحت مانگی ہے اور انہیں اخراجات ،ٹیکسوں کے معاملے پر تشویش ہے۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عائشہ غوث پاشا نے کہا کہ آئی ایم ایف نے بہت سی چیزوں پر سوال اٹھائے ہیں جس پر اسحاق ڈار نے آئی ایم ایف مشن چیف ناتھن پورٹر کے ساتھ ورچوئل بات چیت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف نے بجٹ کےحوالے سے بعض چیزوں پر وضاحت مانگی ہے، آئی ایم ایف کو اخراجات اور ٹیکسوں کے معاملے پر تشویش ہے، ہم نے آئی ایم ایف کوبجٹ کی حکمت عملی اور وژن سے آگاہ کیا ہے، آئی ایم ایف سے کہا ہے کہ بجٹ کا مقصد معاشی گروتھ لانا ہے تاہم عالمی ادارے کے ساتھ اسٹریٹیجک لیول پر بات چیت ہورہی ہے۔وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ اخراجات سمیت دیگر اعداد و شمار پر مزید تکنیکی بات ہوگی، آئی ایم ایف پاور ڈویژن اور اسٹیٹ بینک حکام سے بھی بات چیت کرے گا، ایکسچینج ریٹ اورپالیسی ریٹ پر آئی ایم ایف اسٹیٹ بینک سے بات کرے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت معاشی استحکام کے علاوہ کوئی قدم نہیں اٹھائے گی، پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا فیصلہ نہیں کیا، صرف قانون میں گنجائش رکھی

عمرانڈو بلوائیوں کے ساتھ جیلوں سے 88 لاکھ قیدی بھی رہا ہوں گے؟

ہے، اگرضرورت پڑی تو پیٹرولیم لیوی کی شرح میں اونچ نیچ کریں گے۔

Back to top button