عمران خان مولانا کی چاپلوسی کیوں کرنے لگے؟

ماضی میں مولانا فضل الرحمن کو مختلف القابات سے پکارنے والے عمران خان نے اب ان کی عزت و توقیر شروع کر دی ہے۔ عمران خان نہ صرف انھیں برے القابات سے پکارنا بند کر چکے ہیں بلکہ تقریر میں ان کا پورا نام بھی احترام سے پکارتے نظر آتے ہیں۔ حالانکہ ماضی میں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان اپنے جلسوں اور تقریروں میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کو خوب تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں اور ان کا نام بگاڑ کر مولانا ڈیزل کے لقب سے پکارتے رہے ہیں۔

اپنے جلسوں میں عوام سے ڈیزل ڈیزل کے واشگاف نعرے بھی لگواتے ہوئے نظر آتے تھے، یعنی زبان زدِ عام مولانا کو ڈیزل پکارا جانے لگا، مگر گزشتہ دنوں سب کو اس وقت حیرت ہوئی جب عمران خان نے وکلا سے ملاقات کے دوران بات کرتے ہوئے مولانا ڈیزل کے بجائے مولانا فضل الرحمن کا پورا نام لیا اور یہ بھی کہا کہ وہ مولانا صاحب سے مذاکرات کے لیے بھی تیار ہیں۔یعنی جس فرد کو عمران خان ایک آنکھ نہیں دیکھ سکتے تھے اور نام بگاڑنے پر فخر محسوس کرتے تھے اب اسی فرد کا ناصرف نام عزت سے لیا جارہا ہے بلکہ مذاکرات کی آمادگی بھی ظاہر کردی ہے۔

پی ٹی آئی چیئرمین تقریباً 13 سال تک مولانا فضل الرحمٰن کومولانا ڈیزل پکارتے رہے ہیں۔ جلسوں میں ان کی مختلف انداز میں نقلیں بھی اتاری جاتی رہی ہیں۔ عمران خان سے ملاقات میں شریک ایک وکیل کا کہنا تھا کہ آج کل عمران خان نے اپنے غصے پر قابو پانا شروع کردیا ہے، جب بھی ملاقات ہوتی ہے تو وہ کسی کا نام بگاڑ کر نہیں لیتے بلکہ سب کو احترام سے نام لے کر پکارتے ہیں اور عمران خان نے مولانا فضل الرحمٰن کو بھی ڈیزل کہنا چھوڑ دیا ہے اور وہ انہیں مولانا صاحب کہہ کر بات کرتے ہیں شاید انہیں اس بات کا ادراک ہوگیا ہے کہ نام بگاڑنے سے کچھ نہیں ہوتا۔

خیال رہے کہ عمران خان جب وزیراعظم تھے تو اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے انہیں کہا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن کو ڈیزل نہ کہا کریں بلکہ انہیں ان کے پورے نام سے پکارا کریں، بے شک آپ ان پر تنقید کریں جس کے جواب میں عمران خان نے کہا تھا کہ یہ میں نہیں کہتا بلکہ عوام نے مولانا کا نام ڈیزل رکھا ہوا ہے۔ تاہم عمران خان نے اس نصیحت کھ باوجود اگلے ہی جلسے میں ڈیزل ڈیزل کے نعرے لگائے تھے۔

عمران خان بطور وزیراعظم اوورسیز کنونشن میں خطاب کرنے گئے تو جب مولانا فضل الرحمٰن کا ذکر ہوا تو ہال میں بیٹھے شرکا نے مولانا ڈیزل کے نعرے لگانے شروع کردیے جس پر عمران خان نے وضاحت دی کہ مولانا کا نام ڈیزل انہوں نے نہیں بلکہ مسلم لیگ (ن) نے رکھا تھا کیونکہ مولانا فضل الرحمٰن ڈیزل کے پرمٹ سے پیسے بناتے تھے۔ تاہم اب عمران خان اپنے کئے پر شرمندہ ہو کر مولانا کو مختلف القابات دینے سے پیچھے ہٹنے دکھائی دیتے ہیں۔

دوسری طرف اس پیشرفت بارے مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ انھیں نہ عمران خان کی جانب سے کسی شر سے کوئی خطرہ ہے اور نہ ہی وہ عمران سے کسی خیر کی امید رکھتے ہیں۔ عمران خان نے جو کیا ہے اسے وہ بھگتنا پڑے گا۔عمران خان کے ساتھ مذاکرات پہلے بھی نہیں کر رہے تھے اور اب بھی نہیں کر رہے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا کہ عمران خان کے ساتھ مذاکرات سے متعلق ان کا بیان ہی پی ڈی ایم کا مؤقف ہے۔آئندہ انتخابات سے متعلق سوال پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ماضی میں بھی پی ڈی ایم اختلاف رائے ہونے کے باوجود اتفاق رائے پر پہنچی اور انتخابات کے معاملے پر بھی متفقہ فیصلہ ہی کریں گے۔

مولانا فضل الرحمان سے سوال کیا گیا کہ تحریک لبیک کے پرتشدد مظاہرے میں بھی پولیس اہلکار ہلاک ہوئے تھے لیکن ان کے خلاف اتنی سخت کارروائی نہیں ہوئی تھی تو کیا نو مئی کے واقعات میں ملوث افراد کو بھی معاف کر دیا جائے گا، اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تحریک لبیک کے مظاہرے سیاسی نوعیت کے تھے اور قانون کے اندر رہتے ہوئے کیے تھے اور نہ ہی کسی ریاستی ادارے پر حملہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عسکری اور ریاستی اداروں پر حملہ کیا ہے تو آرمی ایکٹ عمل میں آئے گا اور وہ بھی ایک قانون ہے جس کی اپنی حیثیت ہے، لیکن اس کے فیصلے کے خلاف عام عدالتوں میں اپیل بھی ہو سکتی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف پر پابندی لگانے سے متعلق سوال پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ’پابندی کا فیصلہ عدالتوں نے کرنا ہے

جنرل باجوہ کو فرانس میں ننگی گالیاں کس نے دیں؟

اور اگر عدالت سمجھتی ہے کہ پابندی لگنی چاہیے تو خس کم جہاں پاک۔‘

Back to top button