جھوٹے عمران خان کا ایک اور جھوٹ پکڑا گیا

لگتا ہے عمران خان نےجھوٹ بولنے میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔ ہر بات کو بڑھا چڑھا کا بیان کرنا ان کی عادت ثانیہ بن چکی ہے۔ مبالغہ آرائی میں حد سے تجاوز کرنے پر کئی بار انھیں شرمندگی کا بھی سامنا کرنا پڑا لیکن وہ اسے باز آنے کو تیار نظر نہیں آتے۔ حالیہ دنوں انھوں نے ٹوئٹر پر دعوی کیا ہے ان پر موجودہ اتحادی حکومت نے 76 مقدمات درج کروا رکھے ہیں۔ دستاویزات کے مطابق ان کا یہ دعوی بھی جھوٹا نکلا۔پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کے خلاف کل 37 مقدمات درج ہیں جن میں وہ براہ راست ملوث ہیں جبکہ خود انھوں نے سرکاری محکموں اور افراد کے خلاف بطور درخواست گزار 19 مقدمات دائر کر رکھے ہیں۔
سابق وزیراعظم عمران خان کے حد سے زیادہ مبالغہ آمیز دعووں کے برعکس انھیں ملک کے مختلف حصوں میں صرف 76 نہیں بلکہ 37 مقدمات کا سامنا ہے۔سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف درج 37 مقدمات میں قانونی چارہ جوئی، پولیس اور وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ایف آئی اے کے مقدمات اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے پی ٹی آئی سربراہ کے خلاف شروع کی گئی کارروائیاں بھی شامل ہیں۔
اس حوالے سے پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ عمران خان کی جانب سے دائر مقدمات علاج سے انکار یا حقوق پر پابندی کے خلاف ہیں تاہم ان پر قانونی چارہ جوئی حکومت کے اقدامات کی وجہ سے ہوئی۔جب پارٹی رہنما فواد چوہدری سے استفسار کیاگیا کہ جب عمران خان کےخلاف 37مقدمات ہیں تو وہ 76کا دعویٰ کیوں کرتے ہیں تو فواد چودھری کا کہنا تھا کہ 76 مقدمات میں وہ اپنے اور پارٹی کے دائر مقدمات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یعنی عمران خان، تحریک انصاف کی قیادت، اور پارٹی پر درج مقدمات کو بھی اپنے خلاف مقدمہ گردانتے ہوئے وہ فرماتے ہیں کہ مجھ پر 76 مقدمات درج ہیں۔ فواد چوہدری کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق 19مقدمات میں خود عمران خان درخواست گزار ہیں جو انھوں نے مختلف محکموں اور افراد کے خلاف درج کروا رکھے ہیں۔جبکہ مجموعی طور پر ان کیخلاف 37مقدمات ہیں جن میں وہ براہ راست ملوث ہیں ۔ عمران خان کیخلاف 21ایف آئی آرز درج کروائی گئی ہیں جن میں سے 11صرف ایک ہی دن میں درج ہوئیں ۔ جو 25مئی 2022کو درج کروائی گئیں ۔ 3اسی سال 8اگست 2022 کو درج کروائی گئیں۔
اس فہرست میں حالیہ مقدمات اور ایف آئی آرز شامل نہیں ہیں۔ عمران خان کے حکومت کیخلاف درج کروائے گئے 5مقدمات سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں ۔ عمران خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں الیکشن کمیشن کیخلاف دو مقدمات درج کرائے۔ دو مقدمات خود ان کیخلاف درج ہوئے۔ لاہور ہائیکورٹ میں عمران خان نے 6مقدمات درج کروائےجن میں چار وفاق اور دو الیکشن کمیشن کیخلاف ہیں۔تاہم لاہور ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی چیئرمین کے خلاف میں صرف دو مقدمات چل رہے ہیں۔ پشاور ہائی کورٹ میں عمران خان سے متعلق کُل تین مقدمات زیر سماعت ہیں جن میں وہ صرف ایک کیس میں درخواست گزار ہیں۔پشاور ہائیکورٹ میں درج تین مقدمات میں سے ایک مقدمے میں پی ٹی آئی سربراہ درخواست گزار ہیں ۔ ڈسٹرکٹ کورٹ اسلام آباد میں عمران خان کیخلاف تین مقدمات ہیں ۔ الیکشن کمیشن میں عمران کیخلاف 5مقدمات زیر سماعت ہیں جن میں غیر ملکی فنڈنگ، کے پی ہیلی کاپٹر کیس ، پارٹی صدارت سے ہٹانے، الیکشن کمیشن اور اس کے سربراہ کیخلاف ہتک آمیز زبان استعمال کرنے کا کیس شامل ہے ۔ ایف آئی اے میں دو کیس اور انسداد دہشتگردی عدالت میں ان کیخلاف تین مقدمات ہیں جبکہ اسلام آباد بینکنگ سرکل عدالت میں ایک مقدمہ چل رہا ہے ۔ ان میں پی ٹی آئی اور اس کے ارکان کیخلاف مقدمات شامل نہیں ہیں۔
واضح رہے کہ چند روز قبل پی ٹی آئی سربراہ نے ٹویٹر پر دعویٰ کیا تھا کہ ان کے خلاف 76 مقدمات درج ہیں۔عمران خان نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ میرے 76 اور تیزی سے بڑھتے ہوئے مقدمات میں دہشت گردی، توہین رسالت اور بغاوت کے مقدمات شامل ہیں۔ بغاوت کے مقدمے میں نہ تو افسر کا نام لیا گیا اور نہ ہی ادارے کی شناخت کی گئی ہے۔پی ٹی آئی کے سربراہ نے الزام لگایا تھا کہ ان پر درج مقدمات “مجرموں کے ایک گروپ” کو [قوم پر] مسلط کرنے کا نتیجہ ہیں جن میں “ذہانت، اخلاقیات اور اخلاقیات” کی کمی ہے۔
