عمران خان کو کس نشے نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا؟

عمران خان پر نشئی ہونے کا الزام کافی پرانا ہے۔ ان کی دوسری اہلیہ ریحام خان اور رانا ثنا اللٰہ کے الزامات سے بہت پہلے ان کے قریبی دوست نجی محفلوں میں اکثر ان کہ نشے کی عادت بارے بتایا کرتے تھے۔ عمران کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا تھا کہ وہ بہت ٹف ایکسرسائز کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ نشے کی زیادتی کے باوجود ایکٹو نظر آتے ہیں۔ ریحام خان نے تو اپنی کتاب میں یہاں تک لکھا کہ منشیات کے بکثرت استعمال نے ان کی ازدواجی زندگی کو بھی متاثر کیا تھا۔ تاہم حالیہ سیاسی رسہ کشی اور اسٹیبلشمنٹ کے دوٹوک  بیانیے نے عمرانی نشے کے حوالے سے ایک نیا پینڈورا باکس کھول دیا ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ذہنی تناؤ اور سٹریس عمران کو نشہ آور اشیاء کے بے تحاشا استعمال پر مجبور کرتا ہے۔ بقول مریم نواز، خان صاحب ہر فیصلہ نشے میں دھت ہو کر کرتے ہیں۔

ایسے میں سوال یہ بھی ہے کہ کیا ضرورت سے زیادہ خوش فہمی کا نشہ انھیں لے ڈوبا ہے؟ اس کا جواب بہت سیدھا ہے۔ دراصل عمران خان بائیس سالہ سیاسی جدوجہد کے باوجود فکری اور عملی طور پر اتنے پختہ نہیں ہوئے تھے کہ ملک کے اندرونی اور بیرونی چیلنجز سے نمٹ سکتے ۔۔ یعنی اسٹیلشمنٹ کی راہداری سے ہوتے ہوئے وہ وزیراعظم ہاؤس میں تو داخل ہو گئے لیکن سیاسی، اقتصادی، قانونی اور حکومتی معاملات کو نمٹانے کے لئے ہوم ورک صفر تھا، یعنی بشریٰ بی بی، عثمان بزدار، فرح گوگی، توشہ خانہ اور آئی ایم ایف ایک بہانہ تھے، یہ سب نہ بھی ہوتے تو اسٹیبلشمنٹ کی بس ہو چکی تھی اور عمران خان اپنا اعتماد کھو چکے تھے۔ بہرحال انھوں نے ہاتھ میں فقط ایک ڈائری پکڑی اور وزیر اعظم آفس سے نکل گئے اور یہی وہ  خوش قسمت گھڑی تھی جس نے عمران کی ڈوبتی کشتی کو سہارا دیا اور وہ نوجوانوں، عورتوں، مردوں حتیٰ کہ بچوں کی ایک بڑی تعداد کو یہ چورن بیچنے میں کامیاب ہو گئے کہ ان کے خلاف سازش ہو گئی ہے۔

عوام کا ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا جو ان کی ہر بات پر ایمان لے آیا۔ شاید یہ بغض معاویہ تھا کہ شریف اور زرداری خاندان کی نسلیں حکومت کر رہی ہیں، یہ پاکستان سے کماتے ہیں اور باہر لگاتے ہیں تو ایک ایسے شخص کو بھی موقع ملنا چاہیئے جس نے باہر سے کمایا اور اپنے ملک میں انویسٹ کیا۔ چنانچہ عام لوگ تو ایک طرف،  پڑھی لکھی اور ایلیٹ کلاس بھی ان کی گرویدہ ہو گئی۔ ان کی یہ مقبولیت دیکھ کر ملک کی دیگر بڑی سیاسی جماعتوں میں بھونچال آ گیا، عمران خان اس کہاوت کی جیتی جاگتی تصویر بن گئے کہ زندہ ہاتھی لاکھ کا اور مردہ سوا لاکھ کا۔۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ کچھ عرصہ اور حکومت میں رہتے تو شاید ان کی ساری پلاننگ اور سیاست اپنی موت آپ مر جاتی۔ خیر عمران خان کو ”عمرانڈوز“ یا دوسرے لفظوں میں اپنے فالورز کا نشہ ایسا چڑھا کہ سب نشوں پر بھاری ثابت ہوا۔ وہ اتنے بہک گئے کہ  زبان و انداز میں تال میل نہ رہا، کبھی فوج کو للکارتے اور کبھی امریکہ کو آنکھیں دکھاتے۔۔ پہلے مقبولیت کے نشے میں چور پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی اسمبلیاں توڑ کر اپنے پر کاٹے پھر گالم گلوچ، بدزبانی اور نافرمانی کا کلچر فروغ دے کر اپنے ہی ملک کے اداروں پر حملہ آور ہو گئے اور اب تو یہ خبر بھی نئی نہیں رہی کہ زمان پارک سے عمرانڈوز کے اڑان بھرتے

بھارتی اداکار ظہیر اقبال کا سوناکشی سے حیران کن اظہار محبت

ہی کم از کم عمران خان کا یہ نشہ تو ہرن ہو گیا ہے!!

Back to top button