عمران خان نے آٹھ ہزار ارب روپے کیسے بیرون ملک منتقل کروائے؟

سینئر صحافی اور کالم نگار حذیفہ رحمٰن نے کہا ہے کہ عمران خان نے زمان پارک میں بیٹھ کر جو کچھ پاکستان کی معیشت کے ساتھ کیا ،اس کا عشر ِعشیر بھی وہ وزیراعظم ہاؤس میں بیٹھ کر نہ کرسکے. خفیہ اداروں کے محتاط اعداد و شمار کے مطابق عمران خان کی انتشار پسندانہ سیاسی حکمت عملی اور جھوٹ پر مبنی پراپیگنڈہ کی وجہ سے ایک سال کے دوران 7سے8 ہزار ارب روپیہ پاکستان سے باہر منتقل ہوا اور یوں پاکستان کی معاشی بنیادیں ہل کر رہ گئیں۔ اس سے آئی ایم ایف کو ایک بہانہ مل گیا کہ وہ پاکستان کو قرض کی قسط جاری نہ کرے اور اب آئی ایم ایف براہ راست عمران خان کی مدد کے لئے برملا میدان میں کود پڑا ہے۔ اپنے ایک کالم میں حذیفہ رحمٰن لکھتے ہیں کہ پاکستان میں آج کاروبار مکمل زبوں حالی کا شکار ہے۔
انڈسٹریز سے رئیل اسٹیٹ تک ہر شعبہ سسکیاں لے رہا ہے۔ ذخیرہ اندوزی کا دھندہ عروج پر ہے، آج سمجھا جاتا ہے کہ عمران خان کے ساڑھے تین برسوں نے معیشت کو اس حال پر پہنچا یا ہے مگر حقائق یہ ہیں کہ اتنا نقصان عمران خان کے دورِ اقتدار میں معیشت کو نہیں پہنچا ،جتنا عمران خان نے گزشتہ ایک سال میں معیشت کو پہنچایا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ انہوں نے زمان پارک میں بیٹھ کر جو کچھ پاکستان کی معیشت کے ساتھ کیا ،اس کا عشر ِعشیر بھی وہ وزیراعظم ہاؤس میں بیٹھ کر نہ کرسکے۔پاکستان جیسی ترقی پذیر معیشت میں سب سے اہم کردار یہاں کے مقامی سرمایہ داروں اور بزنس مینوں کا ہوتا ہے۔ معیشت میں ان سرمایہ داروں کا پیسہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ٹیکس کا نظام کمزور ہونے کی وجہ سے ریاست انہی سرمایہ داروں کے پیسے کی روز مرہ ٹرانزکشن کے ذریعے بلواسطہ یا بلاواسطہ ٹیکس وصول کرکے معیشت چلاتی ہے۔انہی سرمایہ داروں کے پیسے سے صنعتیں اور رئیل اسٹیٹ کا کاروبار چلتا ہے۔اس سے نہ صرف روزگار کے مواقع میسر آتے ہیں بلکہ ملک میں معاشی استحکام کی راہ بھی ہموار ہوتی ہے۔
حذیفہ رحمان کہتے ہیں کہ عمران خان جب تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں وزیراعظم ہاؤس سے بے دخل ہوئے تو انہوں نے پنجاب حکومت کی واپسی کی یقین دہانی کے بعد لاہور زمان پارک کو اپنا مستقل مسکن بنا لیا۔زمان پارک میں ان کی باقاعدہ یہ روٹین رہی کہ وہ روزانہ کی بنیادوں پر کاروباری حضرات اور بڑے صنعتکاروں سےملتے تھے ۔عمران خان کی ابلاغ کی صلاحیتوں سے تو سب واقف ہیں۔جس طرح وہ پراعتماد انداز میں روز اپنی بائیس سالہ جدوجہد کا تذکرہ کرتے ہیں،اسی طرح وہ پورے اعتماد سے تمام کاروباری حضرات کو پاکستان کے دیوالیہ ہونے کی نوید سناتے تھے۔
عمران خان دلیل سے بھرپور لیکچر میں سامنے بیٹھے کاروباری اشخاص کو یہ یقین دلادیتے تھے کہ آئندہ چند روز میں پاکستان کے ڈیفالٹ کو کوئی نہیں روک سکتا اور اس کے بعد ڈالر کئی سو روپے اوپر چلا جائے گا اور روپیہ بوریوں میں بھر کر بکے گا۔اس ساری بریفنگ میں حماد اظہر،شوکت ترین او ر اسد عمرجلتی پر تیل کا کام کرتے اور بطور سابق وزیر خزانہ مختلف اعدادو شمار کے ذریعے عمران خان کے دعوئے کو عملی جامہ پہناتے تھے۔ جب وہ کاروباری شخص زمان پارک سے واپس اپنے گھر پہنچتا تھا تو سب سے پہلے تو وہ گلوکوز کی ڈریپ لگواتا اور پھر ہوش و حواس میں آکر سوچتا کہ اب اسے کیا کرنا چاہئے۔یہ کام عمران خان صاحب اور انکی ٹیم نے سو سے ڈیڑھ سو کاروباری افراد کیساتھ کیا۔
یہ سب وہ کاروباری افراد تھے جن میں سے ہر ایک کی 80سے 100ارب روپے کی حیثیت تھی۔ ان سب کاروباری افراد نے اپنا پیسہ مختلف انداز سے بینکوں سے نکالا اور بڑے مارجن پر ہنڈی والوں کے ذریعے ملک سے باہر بھیج دیا اور وہاں تمام سرمایہ کاری فارن کرنسی میں منتقل کردی اور کچھ سرمایہ داروں نے یہیں پر ڈالر اور سونا خرید لیا اور عمران خان کے بقول دیوالیہ ہونیوالے پاکستانی روپےسے اپنی جان چھڑ و ا لی . ایسا کرنے سے دو نقصان ہوئے،ایک تو اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی ڈیمانڈ بڑھ گئی اور ڈالر راتوں رات تیسری سنچری بھی مکمل کرگیا جبکہ دوسرا ملک کی رئیل اسٹیٹ مکمل ڈوب گئی۔
حذ یفہ رحمان کہتے ہیں کہ انٹیلی جنس اداروں کے محتاط اعداد و شمار کے مطابق ایک سال کے دوران 7سے8ہزار ارب روپیہ پاکستان سے سے باہر منتقل ہوا اور یوں پاکستان کی معاشی بنیادیں ہل کر رہ گئیں۔جبکہ معیشت کی رہی سہی کسر عمران خان صاحب کی انتشار پسندانہ سیاسی حکمت عملی نے پوری کردی۔آئی ایم ایف جیسے ادارے کو ایک بہانہ فراہم کردیا کہ پاکستان میں سیاسی استحکام تک آئی ایم ایف کوئی قسط جاری نہیں کرے گا اور گزشتہ ایک ہفتے کے دوران تک آئی ایم ایف براہ راست عمران خان کی امداد کے لئے برملا میدان میں کود پڑا۔
پاکستان میں ہمیشہ سیاسی جماعتوں اور سیاسی رہنماؤں میں اختلافات رہے ہیں۔ایک دوسرے کے خلاف انتقامی کاروائیاں بھی کوئی نئی بات نہیں ہے۔لیکن ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ایک شخص کو اقتدار واپس نہیں دیا گیا تو وہ ملکی معیشت سمیت ہر چیز تباہ کرنے پر تیار ہے ۔ پی پی پی اور مسلم لیگ ن ایک دوسرے کی شدید مخالف رہی ہیںلیکن کبھی کسی جماعت نے اقتدار کے حصول کی خاطر ملکی معیشت سے نہیں کھیلا۔اگر عمران خان اس ملک میں واقعی حقیقی سیاست کرنا چاہتے ہیں تو انہیں یہ ضرور سوچنا چاہئے کہ دیوالیہ نواز شریف یا شہباز شریف کو نہیں ہونا بلکہ دیوالیہ اس پاکستان کو ہونا ہے جس کے وہ دوبارہ وزیراعظم بننے کا خواب
وہی ہونے جا رہا ہے جس کا ڈر تھا؟
دیکھ رہے ہیں۔
