تحریک انصاف بیوروکریسی کی زیرنگرانی الیکشن کیخلاف کیوں؟

سپریم کورٹ کی طرف سے عدالت عالیہ کے حکم کی معطلی کے باوجود لاہورہائیکورٹ میں بیوروکریسی سے ریٹرننگ آفیسرز اور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسرز کی تعیناتی کیخلاف درخواست دائر کرنے پر تحریک انصاف تاحال تنقید کی زد میں ہے اور پی ٹی آئی کی اس درخواست اور آر اوز سے متعلق تحفظات کو دوسری سیاسی جماعتوں نے ’الیکشن سے بھاگنے‘ کے مترادف قراردے رہی ہیں۔

تاہم تحریک انصاف کی جانب سے انتخابی عمل بارے تحفظات کا اظہار کوئی نئی بات نہیں پاکستان کی حالیہ تاریخ میں سنہ 2013 اور 2018 دونوں ہی انتخابات میں دھاندلی کی گونج سنائی دیتی رہی ہے۔ سنہ 2013 کے انتخابات میں تو پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی جانب سے اسے ’آر اوز کا الیکشن‘ قرار دیا گیا تھا جبکہ خود تحریکِ انصاف کی جانب سے اس سلسلے میں اسلام آباد کے ڈی چوک پر کئی ماہ پر محیط دھرنا دیا گیا تھا۔ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آر اوز اور ڈی آر اوز کے پاس ایسے کون سے اختیارات ہوتے ہیں جن کے باعث انھیں الیکشن کے عمل میں اتنی اہمیت حاصل ہوتی ہے اور کیا پی ٹی آئی کے اس حوالے سے خدشات میں واقعی جان ہے یا نہیں؟

خیال رہے کہ الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن پچاس کے تحت ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسرز اور اسی قانون کے سیکشن 51 کے تحت الیکشن کمیشن ریٹرننگ افیسرز اور ایڈیشنل ریٹرننگ آفیسرز تعینات کرتا ہے۔ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر اہمیت کا حامل ہوتا ہے جو ڈی آر او کہلاتا ہے اور وہ پورے ضلع میں الیکشن کا نگران ہوتا ہے۔ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر صوبائی الیکشن کمشنر کو رپورٹ کرتا ہے۔ ضلعی سطح پر ڈی آر او کے ماتحت الیکشن کے انعقاد کے لیے جو عملہ کام کر رہا ہوتا ہے یہ افسر دراصل ان کے اورالیکشن کمیشن کے مابین رابطے کا کردار ادا کرتا ہے۔ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر اپنے ماتحت ریٹرننگ آفیسر سے الیکشن کے نتائج حاصل کر کے الیکشن کمیشن تک پہنچاتا ہے۔

اس دوران ڈی آراو الیکشن کے قواعد و ضوابط پر عمل کروانے کا پابند ہوتا ہے۔ ڈی آراو اس ضمن میں الیکشن کے قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے کو سزااور جرمانہ کر سکتا ہے۔ڈی آر او کے بعد آر او یعنی ریٹرننگ آفیسرز آتے ہیں۔ یہ انتخابی نتائج کو جمع کر کے ڈی آر او کو بھیجتے ہیں۔ پولنگ سٹیشنز کا عملہ آر او کا ماتحت ہوتا ہے۔ان کا دائرہ اختیار اپنے اپنے حلقوں میں پولنگ کی نگرانی کرنا ہوتا ہے۔ آر او کو پریزائڈنگ آفیسر نتائج جمع کر کے مہیا کرتا ہے۔ریٹرننگ آفیسر کو جہاں ضرورت پڑے وہ مجسٹریٹ کے اختیارات کو بھی استعمال میں لا سکتا ہے۔

اگر اس وقت زمینی حقائق پر نظر دوڑائی جائے تو پاکستان تحریکِ انصاف اس وقت اپنے کرتوتوں کی وجہ سے عتاب کا شکارہے۔ پی ٹی آئی کے اہم رہنما یا جیل میں ہیں یا پھر روپوش ہو چکے ہیں جبکہ کارکنان کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔اسی طرح مقامی سطح پر صوبائی اور قومی اسمبلی کے امیدوار یا تو روپوش ہیں یا گرفتار کیے جا چکے ہیں اور جو اپنے حلقے میں موجود ہیں وہ سیاسی سرگرمیوں سے گریز کر رہے ہیں۔سیاسی ماہرین کے مطابق ماضی میں پاکستان کا انتخابی عمل دھاندلی کے الزامات سے اس قدر دھندلا چکا ہے کہ انتخابی عملہ چاہے عدلیہ سے لیا جائے یا انتظامیہ سے اس پر ہمیشہ سے ہی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

ایسے میں پی ٹی آئی ایگزیکٹیو افسران کے بطور الیکشن عملہ تعیناتی پر اس قدر معترض کیوں ہے اور اس حوالے سے عدلیہ سے ہی کیوں انتخابی عملہ لینا چاہتی ہے؟اس سوال کے جواب میں پی ٹی آئی رہنما شعیب شاہین دعویٰ کرتے ہیں کہ ’انتظامیہ الیکشن کمیشن اور نگران سیٹ اپ ملا ہوا ہے۔‘’یہی انتظامیہ ہمارے کارکنان کو پکڑ رہے ہیں، اُن کے خلاف مقدمات ہو رہے ہیں، ہم کیسے مان جائیں کہ یہ شفاف الیکشن کروائیں گے؟‘انھوں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’عدلیہ میں بھی کچھ لوگ کمپرومائز کرنے والے ہوتے ہیں مگر اُن کی نگرانی میں الیکشن ہوئے تو قدرے شفاف ہو سکتے ہیں۔‘

پی ٹی آئی کی موجودہ الیکشن حکمتِ عملی پر نظر دوڑائی جائے تو اس وقت جماعت کی جانب سے وکلا برادری کو زیادہ سے زیادہ سامنے لا کر نچلی سطح پر پھیلے ہوئے خوف کو کسی حد تک ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اس تناظر میں پی ٹی آئی کو جماعت کی ’مقبولیت‘ کی بنیاد پر ووٹرز کے گھروں سے نکلنے کی اُمید ہے اور یہی وجہ ہے انھیں خدشہ ہے کہ کیونکہ انھیں الیکشن سے پہلے ’لیول پلیئنگ فیلڈ‘ نہیں مل رہی تو الیکشن کے روز بھی کہیں ان کا راستہ روکنے کی کوشش نہ کی جائے۔

اس بارے میں سیاسی تجزیہ کار رسول بخش رئیس کا کہنا ہے کہ ’پی ٹی آئی کی بیوروکریٹس کے حوالے سے تشویش سو فیصد جینوئن ہے۔ پارٹی پر مقدمات ہیں، انتظامیہ میں اُن کے اپنے لوگ ہیں۔‘انھوں نے کہا کہ ’الیکشن کے لیے ہمیشہ لوگ عدلیہ سے آتے رہے ہیں، عوام کے اندر جو بظاہر مقبول رہنما ہے وہ اور اس کی سیاسی جماعت کے اقتدار میں آنے کے تمام راستے طاقت کے بَل پر بند کیے جا رہے ہیں۔‘

دوسری جانب سابق وفاقی سیکریٹری برائے الیکشن کمیشن کنور دلشاد کا خیال اس کے برعکس ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’پی ٹی آئی کی تشویش کا کوئی جواز نہیں ہے۔ ماضی کے انتخابات کو دیکھیں تو وہ متنازع ہی ٹھہرے ہیں، چاہے ریٹرننگ آفیسرز جہاں سے مرضی لیے جائیں۔‘انھوں نے کہا کہ ’2013 کے الیکشن مکمل طور پر عدلیہ کے زیر اہتمام ہوئے تھے مگر پاکستان تحریکِ انصاف نے بعد میں انھیں دھاندلی زَدہ قرار دے کر دھرنا دیا۔‘ٗکنوردلشاد کہتے ہیں کہ ’1988 سے انتخابات عدالتی افسران کی نگرانی میں ہوتے چلے آ رہے ہیں مگر اُن کے کردار پر ہمیشہ سوالات ہی اُٹھتے رہے ہیں۔‘

اس بارے میں تجزیہ کار ضیغم خان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کی انتخابی تاریخ میں متاثرہ جماعتوں کی جانب سے انتخابی عملہ پر شک و شبہ میں وزن ہوتا ہے۔‘’پاکستان میں ضلعی انتظامیہ کے ملازمین ریاست کے ملازمین ہوتے ہیں لیکن وہ بظاہر سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ میں بھی آ جاتے ہیں۔‘انھوں نے کہا کہ ’ضلعی انتظامیہ کے ملازمین کے مفادات بھی ہوتے ہیں لہٰذا یہ خود بھی جانبدار اور سیاسی ہو جاتے ہیں۔ تحریک انصاف متاثرہ ہے اور اس کی شکایات جائز ہیں۔‘ضیغم خان کا مزید کہنا تھا کہ ’تحریک انصاف نے پہلے ایسی ہی صورتحال سے فائدہ اٹھایا۔ ڈسکہ انتخابات کی مثال آپ کے سامنے ہے لہٰذا تحریک انصاف کو معلوم ہے کہ انتظامیہ کو کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘انھوں نے کہا کہ ’لیکن بات یہ ہے کہ انتخابات ریاست کے ملازمین ہی کروا سکتے ہیں ان کے علاوہ اور کون آئے گا، ساری دنیا میں ایسا ہی ہوتا ہے۔’پاکستان میں عدلیہ کے افسران کو بھی لا کر ایک تجربہ کیا گیا لیکن وہ بھی متنازعہ رہا۔ اس میں ایک مسئلہ یہ بھی آتا ہے کہ

اداکارہ صنم سعید کو بچپن سے ہی اپنا نام کیوں ناپسند ہے؟

عدلیہ جب خود انتخابات کروائے گی تو اس کے خلاف شکایت کون سنے گا۔‘

Related Articles

Back to top button