عمران کو ”پلے بوائے“ سے "پنگا بوائے” بننا مہنگا کیسے پڑا؟

میدان کرکٹ کے ہیرو عمران خان نے بطور پلے بوائے بلاشبہ ایک بھرپور زندگی گزاری۔ اس دوران انہوں نے درجنوں لڑکیوں کے ساتھ تعلقات بنائے اور انہیں استعمال کرنے کے بعد بریک اپ کرتے رہے۔ بعد ازاں وہ میدان سیاست میں آئے تو اسٹیبلشمنٹ نے انہیں گود لے کر وزیراعظم کے منصب تک پہنچا دیا۔ لیکن معاملہ تب الٹا پڑ گیا جب انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کو استعمال کرنے کے بعد اس سے بریک اپ کرنے کی کوشش کی۔ یوں ماضی کے پلے بوائے نے پنگا بوائے بننے کی کوشش میں سب کچھ گنوا دیا۔
وہ زمانہ اور ان میدانوں کے چلن کچھ اور تھے جنھیں خان صاحب آج تک نہیں بھولے۔ بلاشبہ وہ تیز ترین گیندیں کرواتے، بہترین بلے باز کہلاتے، ایک دنیا ان کی دیوانی تھی۔ دوسری طرف ان کی شخصیت کا کرشمہ کچھ ایسا تھا کہ ایک سے ایک حسین اور طرحدار عورتیں ان کے ارد گرد منڈلاتی نظر آتیں۔۔اور پھر کرکٹر کے ساتھ ساتھ ”پلے بوائے“ کی حیثیت سے بھی ان کا چرچا ہونے لگا۔ عمران اپنے انٹرویوز میں تسلیم کرتے ہیں کہ جن دنوں وہ کاؤنٹی کھیلا کرتے تھے، ان کی شامیں اکثر نائٹ کلبز میں گزرا کرتی تھی۔ انگریز اور ہندو عورتوں سے ان کے معاشقے بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں، سیتا وائیٹ سے بھی ان کی ملاقات ایک نائٹ کلب میں ہی ہوئی تھی جس کے بعد یہ ان کے ساتھ راتیں بھی گزارنے لگے۔ جس ٹریان وائیٹ کو یہ اپنی بیٹی تسلیم نہیں کرتے وہ سیتا ہی کے بطن سے ہیں۔
کہتے ہیں کرکٹر عمران خان کی زندگی کی کہانی مختلف ہوتی اگر وہ پاکستان کے لئے 1992 کا ورلڈ کپ جیت کر نہ لاتے۔ اس جیت نے انھیں عزت اور شہرت کی ایک نئی راہ پر لا کھڑا کیا اور انھوں نے اس غیر معمولی پذیرائی کو کیش کرنے کا پلان بنایا۔ ایک بار پھر لوگوں نے انھیں ہاتھوں ہاتھ لیا۔ وہ شوکت خانم ہسپتال کے لئے چندہ جمع کرنے کیا نکلے، لوگوں کے ردعمل نے انھیں حیران کر دیا۔
اب خان صاحب نے سوچا کہ وہ تو سیاستدانوں سے کہیں زیادہ مجمع لگا لیتے ہیں تو کیوں نہ یہی گُر سیاسی میدان میں بھی آزمایا جائے۔ کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر خان صاحب ”ڈی ٹریک“ نہ ہوتے تو شاید اب تک کسی مہان سماجی گُرو کا روپ دھار چکے ہوتے۔ خیر خان صاحب نے اپنی سیاسی جماعت کا اعلان کر دیا۔ اب سیاست ٹھہری ایک نظریے، کمٹمنٹ اور بیانیے کا دوسرا نام۔۔مگر خان صاحب نے شاید اسے بھی نائٹ کلب سمجھ لیا جہاں وہ پلے بوائے بنے گھومتے پھریں گے. لیکن یہ یورپ نہیں پاکستان ہے جہاں کی سیاست بھی الگ ہے اور جہاں پلے بوائے کا کانسپٹ بھی جُدا ہے۔۔پھر خان صاحب کی غلط فہمیاں، کھوکھلی ٹیم، تاریخی یوٹرن، جھوٹے نعرے، اسٹیبلشمنٹ سے پنگے اور شادیوں پر شادیاں انھیں لے ڈوبیں۔ وہ یہ بھول گئے کہ یہاں طاقت ور لوگ ان جیسوں کو جتنی جلدی سر پر بٹھاتے ہیں اتنی ہی تیزی سے زمین پر پٹخ بھی دیتے ہیں۔ خان صاحب کو یہ بات دیر سے سہی مگر اب سمجھ آ چکی ہے۔ چنانچہ اس سے پہلے کہ پانی پلوں کے نیچے سے بہہ جائے اور ان کے ووٹرز کسی دوسری جماعت کا رُخ کر جائیں موصوف کو چاہیئے کہ سیاسی دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی بچی کھچی جماعت کو "ری آرگنائز“ کریں ورنہ کچھ بعید نہیں کہ انہیں نہ خدا ملے اور
عمران کے کرتوتوں نے اسٹیبلشمنٹ کو دوبارہ طاقتورکیسے بنایا؟
نہ ہی وصالِ صنم!!
