یونان کشتی حادثہ،پاکستانیوں کے ساتھ کیا بیتی؟

یونان کے پانیوں میں ڈوبنے والی کشتی کے بارے میں دل سوز اور روح کو لرزا دینے والے حقائق سامنے آ گئے ہیں سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق پاکستانی تارکین وطن کو زبردستی کشتی کے سب سے نچلے حصے میں جانے پر مجبور کیا گیا، جب کشتی ڈوبنے لگی تو باہر نکلنے کی کوشش کے دوران عملے نے پاکستانی مسافروں سے نہ صرف بد سلوکی کی بلکہ انھیں زدوکوب بھی کیا۔برطانوی اخبار ’ دی گارڈین‘ کے مطابق بدھ کو یونان کے ساحل کے قریب ڈوبنے والی کشتی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ زنگ آلود اور انتہائی بوسیدہ کشتی تھیرپورٹ کے مطابق جب یہ سوالات اٹھنا شروع ہوئے ہیں کہ آیا یونانی ساحلی محافظوں نے اس سارے سانحے میں اپنے کردار کو ’چھپانے‘ کی کوشش کی؟ اس بارے میں سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق حادثے میں بچ جانے والوں نے جو اعداد و شمار بتائے ہیں ان کے مطابق اب بھی تقریباً 500 افراد لاپتہ ہیں
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کشتی میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے جن کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ کشتی کے عملے نے انہیں ایک جگہ بند کر کے ان کی نقل و حرکت پر پاپندی عائد کر دی تھی اور یہ کہ کچھ ممالک کے شہریوں کو کشتی کے سب سے خطرناک حصے میں بند کر دیا گیا تھا۔دی گارڈین کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کشتی کے حادثے میں زندہ بچ جانے والے عینی شاہدین کے مطابق پاکستانی تارکین وطن کو کشتی کے سب سے نچلے اور خطرناک حصے میں جانے پر مجبور کیا گیا تھا جہاں سے باہر نکلنے اور کشتی کے ڈوب جانے کی صورت میں بچ نکلنے کے امکانات بہت محدود تھےجبکہ دیگر ممالک کے شہریوں کو سب سے اوپر والے حصے میں رہنے کی اجازت دی گئی تھی جہاں کشتی کے ڈوبنے کے نتیجے میں ان کے بچنے کے امکانات بہت زیادہ تھے۔
دی گارڈین کے مطابق بچ جانے والے افراد کی شہادتوں سے پتہ چلتا ہے کہ عملے نے اوورلوڈ کشتی پر مردوں سے خواتین اور بچوں کو محفوظ بنانے کے لیے ایک الگ جگہ بند کر دیا تھا ۔دی گارڈین نے آبزرور کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ’معلوم ہوا ہے کہ پاکستانی شہریوں کو کشتی کے سب سے نچلے حصے میں رکھا گیا اور یہ کہ جب کشتی کو حادثہ پیش آنے لگا تو ان پاکستانیوں نے بچنے کے لیے کشتی کے اوپر والے حصے میں آنے کی کوشش کی لیکن عملے کے ارکان نے ان کے ساتھ بدسلوکی بھی کی ۔
واضح رہے کہ اس وقت تک کی رپوٹس میں زندہ بچ جانے والوں میں کوئی خاتون یا بچہ شامل نہیں ہے جب کہ ہفتے کے روز پاکستانی حکام نے جزیرہ نما پیلوپونیز میں زنگ آلود اور بوسیدہ کشتی کے ڈوبنے سے اپنے سینکڑوں شہریوں کے جاں بحق ہونے کا امکان ظاہر کیا تھا۔مقامی میڈیا رپوٹس کے مطابق اس حادثے میں کم از کم 298 پاکستانی جاں بحق ہوئے جن میں سے 135 کا تعلق آزاد کشمیر سے بتایا جارہا ہے۔تاہم دی گارڈین کے مطابق ایک اندازے کے مطابق جہاز میں تقریبا 400 پاکستانی سوار تھے لیکن پاکستان کی وزارت خارجہ نے اب تک اس بات کی تصدیق کی ہے کہ زندہ بچ جانے والے 78 افراد میں سے صرف 12 کا تعلق پاکستان سے تھا۔شہادتوں سے پتا چلتا ہے کہ کشتی کی حالت اتنی خراب تھی اور اتنی اوور لوڈ تھی کہ ڈوبنے سے قبل ہی اس پر سوار 6 لوگ پانی نہ ملنے کی وجہ سے ہلاک ہو گئے تھے۔
ادھر مراکشی نژاد اطالوی سماجی کارکن نوال صوفی نے حادثے کے بارے میں تفصیلات بتائی ہیں جن میں انہوں نے کہا ہے کہ مسافر کشتی ڈوبنے سے ایک روز قبل مدد کی درخواست کر رہے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ’میں یہ گواہی دینے کے لیے تیار ہوں کہ کشتی کے مسافر کسی بھی اتھارٹی سے مدد کی اپیل کر رہے تھے کہ انہیں حادثے سے بچایا جائے لیکن یونانی حکومت نوال صوفی کے اس بیان کی تردید کر رہی ہے ۔ یونان حکومت کا تردید میں کہنا ہے کہ مسافروں نے ساحلی محافظوں سے مدد کی کوئی درخواست نہیں کی کیوں کہ وہ اٹلی جانا چاہتے تھے۔
دوسری جانب دی گارڈین کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نئی گواہی سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ کشتی کا انجن ڈوبنے سے چند دن پہلے فیل ہو گیا تھا۔ اس حوالے سے کشتی میں سوار زندہ بچ جانے والے ایک غیر ملکی شہری نے یونان کے محافظوں کی تحقیقاتی ٹیم کے سامنے بیان دیا ہے اور اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کشتی میں 700 افراد سوار تھے’ ہم نے جمعہ کی علی الصبح سفر شروع کیا اور 3 دن تک مسلسل سفر کرتے رہے اور پھر اچانک کشتی کا انجن فیل ہو گیا۔دی گارڈین کے مطابق کشتی کے ڈوبنے کی وجوہات کے بارے میں بہت سے سوالات نے جنم لیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کشتی الٹنے کی وجہ کیا تھی۔؟ تشویش کی بات یہ بھی ہے کہ بدھ کی علی الصبح ساحلی محافظوں کی جانب رسا باندھے جانے کی وجہ سے کشتی الٹ گئی۔ یونانی حکام ان الزامات کی تردید کر رہے ہیں۔
اس حوالے سے بھی متضاد بات سامنے آئی کہ پہلے تو ساحلی محافظ نے کہا کہ اس نے کشتی سے ‘محتاط فاصلہ’ برقرار رکھا ہے، لیکن جمعے کے روز ایک سرکاری ترجمان نے تصدیق کی کہ کشتی کو قابو کرنے کے لیے ایک رسا پھینکا گیا تھا۔اطلاعات کے مطابق ایک ساحلی محافظ نے وزن میں اچانک تبدیلی کی بھی بات کی ہے۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وزن میں اچانک تبدیلی کی وجہ کیا ہے؟ کیا جہاز میں خوف و ہراس تھا؟ کیا انہیں کوئی مدد فراہم کرنے کی کوشش کے دوران حادثہ ہوا؟ یا کشتی کو رسے سے باندھا گیا تھا اور اس باندھنے کے نتیجے میں کشتی ڈوب گئی؟۔ یہ سوالات تاحال حل طلب ہیں اور کوئی بھی ان کا جواب دینے پر آمادہ نظر نہیں آتا۔
واضح رہے کہ بدھ 14 جون کو یونان کے ساحل پر تارکین وطن کی کشتی کو حادثہ پیش آیا تھا جس میں 500 سے زائد افراد سوار تھے۔ ان میں سے 104 افراد کو ریسکیو کر لیا گیا تھا جن میں 12 پاکستانی بھی شامل ہیں۔ لاپتا ہونے والے افراد میں پاکستان کے 298 شہری شامل ہیں۔اب یونان میں کشتی حادثے کے بعد جاری ریسکیو آپریشن کو روک دیا گیا ہے۔ یونانی حکومت کی جانب سے لاپتا ہونے والے تمام افراد کو مردہ قرار دےد یا گیا ہے۔
