جیل میں بیٹھ کر عمران خان کی الیکشن کمیشن کو دھمکیاں

رسی جل گئی لیکن بل نہ گیا۔۔۔ اپنے ماضی کے جذباتی اور غیر سیاسی فیصلوں کی وجہ سے اقتدار کی کرسی سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچنے والے عمران خان کی رعونت اور تکبر اب بھی آسمان کو چھوتا دکھائی دیتا ہے۔ لگتا ہے کہ اقتدار سے بے دخلی کے بعد سابق وزیر اعظم سٹھیا گئے ہیں۔ تازہ پیشرفت کے مطابق عمران خان نے توہین الیکشن کمیشن میں فرد جرم کی کارروائی کے دوران الیکشن کمیشن اراکین کو ہی دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان نے الیکشن کمیشن کی قیادت کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ آپ کون ہوتے ہیں مجھ پر فرد جرم عائد کرنے والے‘ میں تم سب کی شکلیں پہنچانتا ہوں اور مجھے تم سب کے نام بھی معلوم ہیں، اقتدار میں آکر تم سب پر آرٹیکل 6 کے تحت بغاوت کے مقدمات بناؤں گا ‘تم جس کےکہنے پر سب کچھ کر رہے ہو وہ تمہیں بچا بھی نہیں سکے گا۔میں جانتا ہوں تم لوگوں نے 90؍ دن میں الیکشن کیوں نہیں کرائے۔ عمران خان کی دھمکیوں پر کمیشن ارکان نے کوئی جواب نہیں دیا اور خاموش رہے۔ تاہم ان میں سے ایک نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا کہ پی ٹی آئی چیئرمین ایک اور توہین کیس کیلئے مواد فراہم کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ عمران خان الیکشن کمیشن اراکین کو یہ دھمکیاں اُس وقت دیں جب اڈیالہ جیل میں ہونے والی ان کیمرا کارروائی کے دوران ان پر فرد جرم عائد کی جا رہی تھی۔ذرائع کے مطابق فواد چوہدری نے عمران خان کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی لیکن عمران خان نے اس پر سرد مہری کا مظاہرہ کیا۔
اڈیالہ جیل میں عمران خان کے خلاف توہین الیکشن کمیشن اور توہین چیف الیکشن کمشنر کیس میں فرد جرم عائدکیے جانے کی اندورنی کہانی سامنے آگئی ۔ ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان فرد جرم عائد کیے جانےکے دوران شدید غصے میں آگئے۔ کارروائی میں حصہ لینے والے ایک افسر کا کہنا تھا کہ عمران خان یا تو ابتداء سے ہی لاعلم تھے کہ الیکشن کمیشن کی عدالت میں ان پر فرد جرم عائد کی جانے والی ہے یا پھر وہ جان بوجھ کر شروع سے لاعلم بن رہے تھے کیونکہ وہ خاموش رہے۔ تاہم بعد میں انہوں نے الیکشن کمیشن کے ارکان کو دھمکیاں دینا شروع کر دیا۔ سندھ سے الیکشن کمیشن کے رکن نثار احمد درانی نے الیکشن کمیشن کی طرف سے عدالتی کارروائی کی سربراہی کی۔ ذرائع کے مطابق عمران خان نے ارکان کی اتھارٹی پر سوالات اٹھائے اور کہا کہ آپ کون ہوتے ہیں مجھ پر فرد جرم عائد کرنے والے۔ اس کے بعد انہوں نے دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔
خیال رہے کہ عمران خان کے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ پر الزامات کے بعد 20 جون 2023 کو الیکشن کمیشن کے ممبران نثار درانی، شاہ محمد جتوئی، بابر حسن بھروانہ اور جسٹس ریٹائرڈ اکرام اللہ خان پر مشتمل چار رکنی بینچ نے توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا۔بانی پی ٹی آئی کی جانب سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں اپیلیں دائر کی گئی تھیں مگر کوئی ریلیف نہیں ملا۔ الیکشن کمیشن کے نوٹس پر ملزمان کی جانب سے کوئی جواب جمع نہیں کروایا گیا جس کے بعد دو اگست 2023 کو دوبارہ نوٹس جاری کردیا گیا۔
تاہم سابق وفاقی وزیر اسد عمر الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہوتے رہے تو ان کی معافی منظور کرلی گئی۔ سابق وزیر فواد چوہدری نے معافی مانگی تھی جو منظور نہیں ہوئی۔پانچ اگست کو جب بانی پی ٹی آئی عمران خان کو توشہ خانہ فوجداری مقدمہ میں گرفتار کرلیا گیا اور پھر سیکورٹی خطرات کے پیش نظر ان کو کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا، تو الیکشن کمیشن نے توہین الیکشن کمیشن کا جیل ٹرائل شروع کردیا تھا۔یاد رہے فواد چوہدری کی توہین الیکشن کمیشن کیس میں جیل ٹرائل کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل بھی زیر سماعت ہے۔
دوسری جانب توہین الیکشن کمیشن میں سزا کے بارے میں سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کا کہنا ہے کہ ’’الیکشن کمیشن ایک بااختیار ادارہ ہے۔ اس کے پاس آرٹیکل 204 کے تحت وہی اختیارات ہیں۔ جو کسی بھی ہائیکورٹ کو حاصل ہوتے ہیں۔ الیکشن کمیشن توہین کے زمرے میں کارروائی کرسکتا ہے۔ اب اس کیلئے چیئرمین اجلاس کے بعد فیصلہ کر سکتے ہیں کہ انہیں ایک برس کی سزا ہوسکتی ہے یا پھر تین برس سزا تجویز کرتے ہیں۔ البتہ ابھی عمران خان اور فواد چوہدری کے پاس سپریم کورٹ جانے کا آپشن موجود ہے۔سپریم کورٹ اس درخواست کو سنے گی یا نہیں۔ وہ اس کی صوابدید ہے‘‘۔ ایک سوال پر کنور دلشاد کا کہنا تھا ’’الیکشن ایکٹ سیکشن 10 کے تحت الیکشن کمیشن، توہین کمیشن میں تین برس تک سزا دینے کا مجاز ہے۔
دوسری جانب قانونی ماہرین کے مطابق ’الیکشن کمیشن کے پاس توہین عدالت پر سزا دینے کا اختیار موجود ہے۔ الیکشن کمیشن کے سامنے جو ایشو ہوتا ہے۔ اس کے مطابق ہی وہ قانونی کارروائی کا اختیار رکھتا ہے۔ دوسری جانب اگر فوجداری مقدمہ ہے تو وہ الگ چلے گا۔ وہ تو کرمنل آفینس میں آتا ہے۔ اس کی کارروائی تو الگ سے ہوگی۔ فواد چوہدری اور عمران خان سپریم کورٹ جاسکتے ہیں۔ لیکن یہ تو سپریم کورٹ طے کرے گی کہ ان کی درخواست قابل سماعت ہے یا نہیں۔تاہم یک حقیقت ہے کہ آپ عدالت میں یہ نہیں کہہ سکتے کہ توہین عدالت کی کارروائی ہوتی ہے تو یہ آپ کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ایسے نہیں ہوتا۔ توہین عدالت جرم ہے اور اس کی سزا ہے۔ اسی طرح فوجداری کیس الگ سے کرمنل ایکٹ کے تحت چلے گا۔ ایک شخص قتل کرتا ہے، اسے سزا ہوتی ہے تو وہ اس سزا کے خلاف یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ اس کے بنیادی حقوق کے خلاف ہے اور اسے سزا نہیں ہوسکتی۔ اس لئے عمران خان اور فواد چودھری کو توہین الیکشن کمیشن کے کیس میں عدلیہ سے ریلیف ملنے کے امکانات کم ہیں۔ ویسے بھی الیکشن کمیشن کا اپنا لا ہے اور انہوں نے اس کے مطابق چلنا ہے۔ وہ بااختیار ادارہ ہے۔ اس کی الگ ریمڈی ہے۔ کرمنل کیس میں الگ انویسٹی گیشن ہوگی۔ چالان جمع ہوگا۔ تفتیش ہوگی۔ دلائل ہوں گے‘‘ اور فیصلہ سنایا جائے گا جس
کے تحت توہین کے مرتکب ملزمان کو تین برس تک سزا ہو سکتی ہے۔
