خیبر پختونخواہ میں عمرانڈوز کی گرفتاری کی تیاریاں مکمل

عمران خان کی جیل بھرو تحریک سے قبل ہی خیبرپختونخوا میں سابق کابینہ اراکین سمیت اہم رہنمائوں کی گرفتاریوں کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے جس کیلئے تیاریاں بھی شروع کر دی گئی ہیں جبکہ سابق وزرا کو بیرون ملک فرار ہونے سے روکنے کیلئے اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں جلد ہی مطلوب افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کیلئے کابینہ سے منظوری لے لی جائے گی۔ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا میں بعض اہم سیاسی شخصیات کی ممکنہ گرفتاریوں کے پیش نظر انہیں بیرون ممالک جانے سے روکنے کی غرض سے کارروائی شروع کر نے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ تاہم صوبائی محکمہ داخلہ کی جانب سے اس سلسلے میں باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔

 

ذرائع نے بتایا کہ سابق صوبائی کابینہ میں شامل بعض سابق وزیروں اور دیگر سابق اعلیٰ سرکاری افسران کے خلاف سنگین نوعیت کے مقدمات کی وجہ سے ان کی گرفتاری کا امکان ہے۔ جبکہ نیب خیبرپختونخوا کی جانب سے بھی چند اعلیٰ افسران اور سابق کابینہ میں شامل شخصیات کو علیحدہ علیحدہ طور پر طلب کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ جبکہ ایف آئی اے کی جانب سے بھی چند افسران سمیت سیاسی شخصیات کو طلب کرنے کی اطلاعات ہیں۔ذرائع کے مطابق سابق وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر شوکت ترین کی ممکنہ گرفتاری کی خبریں سامنے آنے کے بعد خیبرپختونخوا میں بھی پی ٹی آئی رہنمائوں کو خدشات لاحق ہو گئے ہیں۔ وفاق میں پی ٹی آئی کی حکومت تبدیل ہونے کے بعد پنجاب سے تحریک انصاف کے بیشتر رہنمائوں کو گرفتار کیا گیا۔ جن میں اکثریت دوبارہ چھوٹ گئی۔ تاہم خیبرپختونخوا سے اعظم سواتی کے علاوہ کسی اور کی گرفتاری سامنے نہیں آئی ہے۔

 

ذرائع کے مطابق آئندہ چند روز میں خیبرپختونخوا سے بڑی گرفتاریاں متوقع ہیں۔ جس کیلئے تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ گزشتہ برس اپریل میں عمران خان کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹایا گیا تھا اور پی ڈی ایم کی حکومت آئی تھی۔ جس کے بعد عمران خان سمیت پی ٹی آئی رہنمائوں کے خلاف کیس سامنے آنا شروع ہو گئے۔ اب تک پنجاب میں شہباز گل، فواد چوہدری اور شیخ رشید کو گرفتار کیا گیا ہے۔ جبکہ خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے سینیٹر اعظم سواتی کو بھی گرفتار کیا گیا۔ فواد چوہدری، شہباز گل اور اعظم سواتی ضمانت پر رہا کر دیے گئے ہیں۔ تاہم اب سینیٹر شوکت ترین کا آئی ایم ایف کے معاملہ پر تیمور جھگڑا سےفون کال پر ہونے والی گفتگو کی بنیاد پر گرفتار ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

 

اسی طرح ذرائع کے مطابق صوبائی کابینہ میں شامل کئی دیگر رہنمائوں کی بھی گرفتاری کا امکان ہے اور آئندہ چند روز میں ایک اہم رہنما کی گرفتاری عمل میں لائی جاسکتی ہے۔ دوسری جانب سابق صوبائی وزیر تیمور سلیم جھگڑا نے کہا ہے کہ وہ آئی ایم ایف ڈیل پر وفاق کو لکھے گئے خط کے ایک ایک لفظ پر قائم ہیں۔ انہوں نے آئی ایم ایف ڈیل کے حوالے سے وفاق کو جو خط لکھا تھا۔ وہ اپنے موقف پر قائم ہیں اور یہ خط انہوں نے وفاق کو اس صوبے کے لئے لکھا تھا۔ جبکہ عوام نے تحریک انصاف کو مینڈیٹ دیا تھا اور صوبے کے حق کے لئے بات کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔وفاق کو لکھے گئے خط کے ایک ایک لفظ پر قائم ہوں ۔انہوں نے مزید کہا کہ سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی ہے۔ اس ایف آئی آر میں ان کا نام شامل تو ہے۔ لیکن ابھی تک ایف آئی اے سے کوئی سمن وغیرہ موصول نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ وہ گرفتاری سے ڈرلنے والے نہیں۔ اگر انہیں ایف آئی اے کی جانب سے کوئی مراسلہ یا نوٹس ملا تو وہ عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں۔

 

خیبرپختونخوا کی نگران حکومت شفاف انتخابات کے انعقاد پر توجہ دے۔ کیونکہ 90 دن میں الیکشن کرانا نگران حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ادھر قانونی ماہرین کے مطابق سینیٹر شوکت ترین کے خلاف جو مقدمہ درج کیا گیا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ریاست کے خلاف سازش کی گئی۔ تاہم اس میں تیمور سلیم جھگڑا بھی شریک تھے اور وہ ان کی ہدایات پر کام کر رہے تھے۔ لہذا تیمور سلیم جھگڑا کو اس سے بری الذمہ نہیں کہا جا سکتا اور ان کے خلاف بھی ایف آئی آر کے تحت کارروائی کی جاسکتی ہے۔واضح رہے کہ حکومت پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدہ ہونے سے قبل صوبائی حکومتوں سے بجٹ سرپلس رکھنے کی درخواست کی گئی تھی۔ جس میں خیبرپختونخوا اور پنجاب حکومت نے بھی حامی بھری تھی۔ تاہم بعد میں سینیٹر شوکت ترین کی تیمور سلیم جھگڑا اور محسن لغاری کے ساتھ آڈیو کال لیک ہو گئی۔ جس میں آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ جبکہ تیمور سلیم جھگڑا نے شوکت ترین کی ہدایات کے مطابق خط لکھنے کی حامی بھری تھی۔ اس آڈیو کو جواز بنا کر اب وفاقی تحقیقاتی ادارے نے سینیٹر شوکت ترین کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔

برطانوی شخص کا 2 لاکھ چاکلیٹس چوری کرنے کا اعتراف

Back to top button