کیا انڈین معاشی ماڈل پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچا پائے گا؟

پاکستان میں ڈالر بے قابو ہو گیا ہے، ڈالر کی آئے روز بڑھتی قیمت جہاں ملک کے قرضے میں مزید اضافہ کر رہی ہے، وہیں پاکستانی کرنسی کی ساکھ بری طرح متاثر ہونے سے دیوالیہ ہونے کے خدشات بڑھ رہے ہیں، پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر صرف 3.7 ارب ڈالر رہ گئے ہیں، جو ملکی درآمدی ضرورت کے صرف تین ہفتے ہی بمشکل نکال سکتے ہیں۔

اشیائے خوردونوش اور دوائیوں کے علاوہ ایل سی کھلنا بند ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے کراچی کی بندرگاہ پر ہزاروں کی تعداد میں کنٹینرز پھنس گئے ہیں، ان حالات میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان دیوالیہ ہونے کے خطرے سے باہر کیسے نکل سکتا ہے اور کون کون سے ممالک ہیں جو اس صورت حال سے باہر آئے ہیں اور انہوں نے اس کے لیے کیا کچھ کیا ہے؟

اس سلسلے میں سب سے بڑی مثال تو ہمارے ہمسایہ ملک انڈیا کی ہے، جو 1991 میں اسی قسم کی صورت حال سے گزر چکا ہے، جس کا سامنا آج پاکستان کو ہے، آج انڈیا کے زرمبادلہ کے ذخائر 607 ارب ڈالر ہیں جبکہ 1991 میں یہ صرف 9.22 ارب ڈالر رہ گئے تھے

انڈیا کے پاس بھی اپنی درآمدات کے لیے سرکاری خزانے میں پیسے ختم ہو چکے تھے، انڈیا کا بجٹ خسارہ اس کے جی ڈی پی کے آٹھ فیصد سے اوپر جا چکا تھا جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی جی ڈی پی کے 2.5 فیصد تھا۔

زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے کے لیے ایک قدم یہ اٹھایا گیا کہ انڈیا کے پاس جو سونے کے ذخائر تھے انہیں بینک آف انگلینڈ کے پاس گروی رکھا گیا جس سے انڈیا کو 400 ملین ڈالر ملے، جبکہ اس سے پہلے انتخابی مہم کے دوران ہی سٹیٹ بینک آف انڈیا نے یونین بینک آف سوئٹزرلینڈ کو 20 ٹن سونا فروخت کر دیا تھا، اس کے علاوہ انڈیا نے آئی ایم ایف سے دو ارب ڈالر کا قرضہ لیا۔

اس وقت بھارتی حکومت نے سب سے زیادہ توجہ برآمدات بڑھانے پر مرکوز کی اور اس مقصد کے لیے نئی تجارتی پالیسی کا اعلان کیا جس کے تحت لائسنس راج کا خاتمہ کر دیا گیا یا اسے بہت حد تک محدود کر دیا گیا، یعنی جو بندہ صنعت لگانا چاہے وہ سرمایہ لائے اور لگائے، اسے ہر قسم کے اجازت ناموں اور سرخ فیتے سے آزاد کر دیا گیا۔

اس کے ساتھ ہی غیر ضروری درآمدات پر پابندی لگا دی گئی اور ملکی سرمایہ کاروں کو کہا گیا کہ وہ یہ مصنوعات اپنے ملک میں پیدا کریں، ان کے لیے کسٹم ڈیوٹیوں اور دیگر ٹیکسوں میں چھوٹ دی گئی، نئی حکومت نے پہلے سال کے بجٹ میں ہی ملک کے لیے نئی صنعتی پالیسی متعارف کروائی جو گیم چینجر ثابت ہوئی، غیر ملکی سرمایہ کاری کی اس حد تک حوصلہ افزائی کی گئی کہ پہلے انڈیا میں کسی بھی منصوبے میں غیر ملکی کی سرمایہ کاری کی منظوری کی حد 40 فیصد تھی جسے بڑھا کر 51 فیصد کر دیا گیا۔

سابق گورنر سٹیٹ بینک ڈاکٹر عشرت حسین نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو آج انہی حالات کا سامنا ہے، جن سے انڈیا 1991 تک نبرد آزما رہا ہے، جب تک انڈیا نے سوشلسٹ اکانومی ماڈل کی بجائے آزاد تجارت، ڈی ریگولیشن اور پرائیویٹائزیشن کی پالیسیاں اختیار نہیں کی تھیں تب تک انڈیا کی اکانومی بھی زبوں حالی کا شکار ہی رہی تھی۔

1991 میں متعارف کروائی گئی اصلاحات کی وجہ سے بھارت کے زرمبادلہ کے ذخائر 2000 میں 81 ارب ڈالر تھے جو آج چھ سو ارب ڈالر سے بھی اوپر ہیں کیونکہ ان کی برآمدات 16 ارب ڈالر سے بڑھ کر 240 ارب ڈالر ہو چکی ہیں۔

ڈاکٹر عشرت حسین کے مطابق 3.2 ٹرلین ڈالر کے حجم کے ساتھ انڈیا آج دنیا کی چھٹی بڑی معیشت بن چکی ہے اور اس کی فی کس آمدنی 2500 ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جو اس کی آزادی کے وقت سے 30 گنا زائد ہے، اسی طرح اس کی زرعی پیداوار جو کہ 1950 میں صرف 50 ملین ٹن تھی وہ آج 316 ملین ٹن تک پہنچ چکی ہے۔ انڈیا کی گاڑیوں، فارما سوٹیکلز، ٹیکسٹائل، صنعتی مشنری میں ہونے والی پیداوار اگلے پانچ سالوں میں ایک ٹرلین ڈالر کی حد کو عبور کرنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

انڈیا میں کاروبار عروج پر ہونے کی ایک وجہ وہاں پر بڑھتے ہوئے ارب پتی افراد کی تعداد کو بھی قرار دیا جاتا ہے، جن کی تعداد 2010 میں 55 تھی اور آج 140 ہے، انڈیا میں بڑھتے ہوئے کاروباری مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے دنیا کی 500 بڑی کمپنیوں میں سے تقریباً تمام ہی انڈیا میں داخل ہو چکی ہیں، جو مقامی انڈین کمپنیوں سے مل کر جوائنٹ وینچرز کر رہی ہیں۔

ڈاکٹر عشرت حسین کہتے ہیں کہ اس لیے پاکستان کو بھی اس صورت حال سے نکلنے کے لیے انڈین ماڈل اپنانا ہوگا اور پاکستان کو آزاد تجارتی پالیسیوں کی طرف لے کر جانا ہوگا، پاکستان کے لیے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا اور اسے اب اپنی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہوگا، کب تک آئی ایم ایف سمیت عالمی اداروں کے آگے گھٹنے ٹیکتے رہیں گے؟

پاکستانی کرکٹ ٹیم میں شادیوں کا سیزن آب و تاب سے جاری

Back to top button