خٹک اپنی جماعت بنائیں گے یا ترین کے ساتھ جائیں گے؟

پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنما اور عمران خان کے دست راست پرویز خٹک نے عمران خان سے راہیں جدا کرنے کے بعد ایک بار پھر سیاسی طور پر متحرک ہو گئے ہیں اور خیبرپختونخوا میں نئی پارٹی یا نیا دھڑا بنانے کیلئے کوششیں تیز کردیں۔ ذرائع کاکہناہے کہ تحریک انصاف خیبرپختونخوا کے سابق صدرپرویز خٹک سے اسلام آباد میں سابق ارکان اسمبلی کی ملاقاتیں ہوئی ہیں ،پرویز خٹک کی جانب سے ایک بڑا گروپ تشکیل دینے کی کوششیں جاری ہیں۔ذرائع کاکہنا ہے کہ پرویز خٹک کو پہلے سے ہی 30 سے 40 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔ جہاں ایک طرف پرویز خٹک اپنا الگ دھرا بنانے کیلئے کوشاں ہیں وہیں کئی بڑی سیاسی پارٹیوں کے بھی پرویز خٹک سے رابطے جاری ہیں۔ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا میں جلد ہی نئی پارٹی یا نیا دھڑا بنائے جانے کا امکان ہے اس حوالے سے پی ٹی آئی کے اہم صوبائی رہنما نے پرویز خٹک کے رابطوں کی تصدیق کی ہے۔
اسی وجہ سے خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کو خیرباد کہنے والے کسی رہنما نے تاحال جہانگیر ترین کی نئی جماعت’استحکامِ پاکستان پارٹی‘ میں شمولیت کا اعلان نہیں کیا۔ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے بعض سابق صوبائی وزرا سمیت سابق ارکان قومی اسمبلی تحریک انصاف پارٹی سے علیحدگی کا اعلان کر چکے ہیں مگر ابھی تک انہوں نے کسی دوسری سیاسی پارٹی میں شمولیت کا فیصلہ نہیں کیا۔ تاہم نئی جماعت ’استحکام پاکستان پارٹی‘ کی تشکیل کے بعد جہانگیر ترین کے پی ٹی آئی کے رہنماؤں سے رابطے بھی تیز ہو گئے ہیں۔
تاہم سوال یہ ہے کہ مستقبل قریب میں خیبرپختونخوا میں کون سے رہنما جہانگیر ترین کے ساتھ شامل ہوں گے؟ تحریک انصاف کے ایک سابق رکن صوبائی اسمبلی نے بتایا کہ ’جہانگیر ترین گروپ کی جانب سے پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت کے ساتھ رابطے جاری ہیں جبکہ پارٹی چھوڑنے والوں سے بھی بات چیت چل رہی ہے۔‘انہوں نے مزید کہا کہ ’جہانگیر ترین، پرویز خٹک اور اسد قیصر سمیت مالاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن کے کچھ رہنماؤں کے ساتھ رابطے میں ہیں، ممکن ہے کچھ دنوں میں باقاعدہ اعلان ہو جائے۔‘
سابق صوبائی وزیر شوکت یوسف زئی نے موقف اپنایا کہ ’مجھ سے کسی نے رابطہ نہیں کیا کیونکہ میرے بارے میں سب جانتے ہیں کہ میں نے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کو بنایا ہے اور میری جگہ صرف اسی پارٹی میں ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’ہم جمہوری لوگ ہیں، سیاست دانوں کے آپس میں رابطے رہتے ہیں مگر اس حوالے سے ابھی تک کسی نے بات نہیں کی اور نہ ہی کریں گے۔سابق صوبائی وزیر ضیا اللہ بنگش اور فیصل امین گنڈاپور نے بھی وضاحت کی کہ کسی نے ان سے رابطہ نہیں کیا اور نہ ہی وہ عمران خان کے علاوہ کسی اور کو لیڈر مانتے ہیں۔وزیر ضیا اللہ بنگش نے بتایا کہ ’اگر مجھے عمران خان کو چھوڑنا پڑا تو میں سیاست ہی چھوڑ دوں گا۔
سینیئر صحافی اور پشاور پریس کلب کے صدر ارشد عزیز ملک کے مطابق جہانگیر ترین کو خیبر پختونخوا کے لیے پرویز خٹک جیسے سینیئر اور مضبوط رہنما کی ضرورت ہے، اسی لیے شاید ان دونوں کی بات چیت چل رہی ہو مگر فی الحال پرویز خٹک نے پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ پرویز خٹک کے گروپ میں 20 سے 25 رہنما موجود ہیں جو ان کے فیصلے پر لبیک کہتے ہوئے ان کے ساتھ چلے جائیں گے۔ ’جہانگیر ترین سینیئر رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں کیونکہ انہیں الیکٹیبلز چاہییں۔ اگر کسی غیر معروف رہنما کو ٹکٹ دیا گیا تو اسے بدترین شکست ہوگی کیونکہ خیبر پختونخوا میں جہانگیر ترین کا ووٹ بینک نہیں ہے۔
کیا پرویز خٹک الگ پارٹی بنا رہے ہیں؟ اس سوال لا جواب دیتے ہوئے سینیئر صحافی ارشد عزیز ملک نے کہا کہ اگر پرویز خٹک کے مذاکرات کسی اور جماعت سے کامیاب نہ ہوئے تو وہ اپنی الگ پارٹی بھی بنا سکتے ہیں اور الیکشن کے قریب پرویز خٹک کی پارٹی پھر جہانگیر ترین کی جماعت میں ضم ہو جائے گی۔تحریک انصاف کے سینیئر رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سابق سینیئر وزرا اور اہم عہدوں پر رہنے والے پی ٹی آئی کے رہنما پرویز خٹک کے ساتھ رابطے میں ہیں، ہو سکتا ہے کہ یہ اپنی الگ پارٹی قائم کر لیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق صوبائی وزیر عاطف خان، تیمور سلیم جھگڑا اور دیگر سابق صوبائی ارکان اور وزرا پارٹی کو چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔’تاہم سابق گورنر شاہ فرمان اور ہزارہ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے کے چند رہنما پارٹی سے اُڑان بھرنے کے لیے تیار ہیں جو جون کے آخر تک اعلان کریں گے۔واضح رہے کہ خیبر پختونخوا میں مسلم لیگ ق کی جانب سے بھی تحریک انصاف
14 ہزار 460 ارب روپے کا بجٹ پیش، نئے ٹیکسز سے گریز
کے رہنماؤں سے رابطے کیے جا رہے ہیں۔
