نواز شریف نے دوبارہ اسٹیبلشمنٹ کو نشانے پر کیوں لے لیا؟

سینئر صحافی و تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ نواز شریف پرانی مقتدرہ پر تنقید کرتے ہیں نئی مقتدرہ کے ساتھ چل رہے ہیں، اسی طرح پرانی عدلیہ نے ان کے خلاف فیصلے دیئے لیکن آج کی عدلیہ انہیں ریلیف دے رہی ہے۔سہیل وڑائچ کا مزید کہنا ہے کہ نواز شریف کو پرانی مقتدرہ یعنی جنرل باجوہ اور جنرل فیض سے بڑے حقیقی گلے ہیں، ان دونوں نے نواز شریف کے ساتھ بہت زیادتیاں کی تھیں، نئی مقتدرہ نواز شریف کو سپورٹ کررہی ہے اس لیے بیانیہ میں بڑا تضاد آگیا ہے۔نواز شریف نے اس تضاد سے نکلنے کیلئے انتقام نہیں حساب کا بیانیہ اپنالیا ہے۔

سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ میری رائے میں جن لوگوں نے اس وقت غلط کیا انہیں بھگتنا چاہیے، جسٹس منیر سے لے کر آج تک جن ججوں نے اور جن جرنیلوں نے مارشل لاء لگائے ہیں ان کے خلاف کم از کم علامتی فیصلے تو آنے چاہئیں، سہیل وڑائچ کا مزید کہنا تھا پاکستان میں مظلوم کا ووٹ بینک توڑنا مشکل ہوجاتا ہے۔کسی پارٹی کے ساتھ ظلم ہوتا ہے تو اس کا ووٹ بینک تادیر قائم رہتا ہے، یہ بات درست ہے نواز شریف اس وقت اکیلے لڑرہے ہیں ان کے مخالف کوئی نہیں ہے۔

سہیل وڑائچ نے کہا کہ شہری حلقوں میں بظاہر پی ٹی آئی اکثریت میں نظر آرہی ہے، پی ٹی آئی کو لیول پلیئنگ فیلڈ مل گئی تو شہروں میں جیت جائے گی تاہم پی ٹی آئی کو الیکشن میں لیول پلیئنگ فیلڈ ملنے کا کوئی امکان نہیں ہے، فی الحال لگتا ہے عمران خان کو نااہل قرار دیدیا جائے گا، پی ٹی آئی کے کارکنوں کے ملٹری ٹرائل ہوں گے، اس طرح مزید خوف اور ناامیدی پھیلائی جائے گی جس سے پی ٹی آئی کا ووٹر باہر نہیں نکلے گا۔ ریاست، عدالت اور حکومت کو الیکشن سے پہلے پی ٹی آئی کے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہوگا.

ایک سوال کے جواب میں سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ پاکستان بار اور سپریم کورٹ بار کا چیف الیکشن کمشنر پر عدم اعتماد بروقت ہے، اس وقت الیکشن میں ایک سیاسی جماعت کا وجود ہی نظر نہیں آرہا، الیکشن اسی طرح ہوا تو بہت سے سوالات کھڑے ہوجائیں گے، ریاست، عدالت اور حکومت کو پہلے پی ٹی آئی کے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہوگا، حلقہ بندیاں ہوں یا کوئی اور وجہ آٹھ فروری کے الیکشن ملتوی نہیں ہونے چاہئیں۔

دوسری جانب سینئر صحافی وتجزیہ کار عاصمہ شیرازی کا کہنا ہے کہ ن لیگ فیلڈ میں نہیں نکلی دیگر چیزوں پر تکیہ کررہی ہے‘ن لیگ نواز شریف کی واپسی کے بعد توقع کے مطابق مہم نہیں چلاسکی ہے‘ تحریک انصاف کیلئے لیول پلیئنگ فیلڈ کیا شاید فیلڈ بھی نہیں ہوگی۔عاصمہ شیرازی نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے امیدواروں کو اپنا انتخابی نشان نہیں پتا ہوگا تو کس طرح الیکشن لڑیں گے‘پی ٹی آئی کا ورچوئل جلسہ جلسہ نہیں تھا اس سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے تاہم‘پی ٹی آئی کامیابی سے یہ تاثر بنارہی ہے کہ وہ بہت مقبول ہے ۔ عاصمہ شیرازی کا کہنا تھا کہ بلوچستان اور سندھ میں انتخابی مہم کیلئے پی ٹی آئی کو کوئی نہیں روک رہا ہے‘خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی انتخابی مہم چل رہی ہے‘پنجاب میں پی ٹی آئی کی قیادت غائب ہے یا باہر نکلنے کو تیار نہیں ہے‘پی ٹی آئی کو لیول پلیئنگ فیلڈ کا مسئلہ ہے لیکن پارٹی تنظیم بھی کہیں نظر نہیں آرہی‘ عاصمہ شیرازی کا کہنا تھا کہ الیکٹ ایبلز پہلے ن لیگ کی طرف جاتے نظر آئے، اب پیپلز پارٹی نے بھی اپنے پتے کھیلنا شروع کردیئے ہیں۔ تاہم اصل

زرداری، بلاول اور آصفہ کن حلقوں سے میدان میں اترینگے؟

فیصلہ انتخابات والے دن ہی سامنے آئے گا۔

Related Articles

Back to top button