عمران خان NRO لے کر امریکہ جانا چاہتے ہیں یا برطانیہ؟

اگر عمران خان انقلاب کے نام پر بغاوت کے منصوبے میں کامیاب ہو جاتے تو وہ فوج اور اپنے مخالفین کے ساتھ وہ سلوک کرتے جیسا کہ ترکیہ میں فوجی بغاوت کی ناکامی کے بعد دیکھنے میں آیا مگر آج ، عمران خان اس خوف میں مبتلا ہیں کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ اب عمران خان این آر او کے متمنی ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ انہیں امریکہ یا برطانیہ جلاوطن کردیا جائے . لیکن اگر انہیں امریکہ یا برطانیہ بھیجا گیا تو وہ بیرون ملک جاکر پاکستان اور پاک فوج کو بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیں گے۔
ان خیالات کا اظہار سینئر کالم نگار اور پاکستان کے اعزازی سفیر مرزا اشتیاق بیگ نے اپنی ایک تحریر میں کیا ہے، وہ لکھتے ہیں کہ 2016 میں ترک فوج کے ایک دھڑے نے جب اردوان حکومت کیخلاف بغاوت کی کوشش کی تو صدر طیب اردوان کی حمایت میں ترک عوام سڑکوں پر نکل آئے اور فوج کی بغاوت ناکام بنا دی۔ بعد ازاں انقلاب کی اس ناکام کوشش میں شامل افراد کو بغاوت کے الزام میں عبرت کا نشانہ بنادیا گیا۔
عمران خان اکثر پارٹی کے اجلاس میں اس کی مثال دیتے تھے، یہی وجہ ہے کہ عمران خان اقتدار سے محروم ہونے کے بعد ترک ماڈل پر عمل پیرا تھے اور مسلح افواج اور اس کی قیادت کو مسلسل تنقید اور منفی پروپیگنڈے کا نشانہ بنا کر آزادی کے نام پر لوگوں کو بغاوت پر اُکسا رہے تھے، سانحہ 9 مئی کے بعد یہ بات کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ اس روز بغاوت کی کوشش عمران خان کا ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا جس کا مقصد انقلاب کے نام پر فوج میں دراڑ ڈال کر، بدامنی پھیلاکر اقتدار پر قبضہ کرنا تھا۔
مرزا اشتیاق بیگ کہتے ہیں کہ عمران خان کے ذہن میں حال ہی میں ریٹائر ہونے والی ایک عسکری شخصیت نے یہ غلط فہمی پیدا کی کہ فوج میں ان کےحامیوں کی بڑی تعداد موجود ہے اور وہ جب انقلاب کے نام پر سڑکوں پر آئیں گے تو ادارے کے سربراہ کے خلاف بغاوت ہوجائے گی لیکن عمران خان کی یہ خواہش اور خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا اور بغاوت کے منصوبے کی ناکامی پر عمران خان کی مثال اس ہارے ہوئے شخص کی طرح ہے جو بغاوت کی ناکامی کے بعد حالات کے رحم و کرم پر ہے اور اس انتظار میں ہے کہ اُس سمیت دیگر منصوبہ سازوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائیگا۔ ایسی صورتحال میں پی ٹی آئی کی سینئر قیادت اور عمران خان کے قریبی ساتھی ایک ایک کرکے ان کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ ناکام بغاوت کی پاداش میں ان پر بھی مقدمے قائم ہوں۔ چنانچہ پی ٹی آئی جس طرح بنائی گئی، اسی تیزی سے ٹوٹ رہی ہے۔ 9 ؍مئی سے قبل عمران خان اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ عوام کی اکثریت ان کے ساتھ ہے اور فوج میں بھی وہ بہت مقبول ہیں۔ وہ خود کو ترکی کے صدرطیب اردوان سمجھنے لگے تھے۔ اپنی گرفتاری سے پہلے عمران خان نے ترک صدر طیب اردوان کی طرح ریکارڈ شدہ ویڈیو بنا رکھی تھی، جس میں لوگوں کو انقلاب کے نام پر گھروں سے نکلنے کی ترغیب اور بغاوت پر اکسایا گیا تھا اور یہ ویڈیو ان کی گرفتاری کے بعد سوشل میڈیا پر وائرل کی گئی۔ مگر عمران خان اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے۔
اشتیاق بیگ کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں امریکہ وہ واحد ملک ہے جو عمران خان کے ناکام انقلاب کے بعد انکی حمایت کررہا ہے جس میں اقوام متحدہ میں امریکہ کے سابق سفیر زلمے خلیل زاد پیش پیش ہیں۔ اس کی ایک وجہ عمران خان کا اپنے دور حکومت میں امریکی خواہش پر سی پیک منصوبے پر عملدرآمد روکنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج عمران خان کے حق میں زیادہ تر بیانات امریکہ سے آرہے ہیں اور کوئی دوسرا ملک ان کے حق میں آواز اٹھانے کو تیار نہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ امریکہ میں کیپٹل ہل پر حملہ کرنے والے منصوبہ ساز ٹرمپ کے حامی امریکی ملیشیا کے سربراہ کو گزشتہ دنوں ’’بغاوت کی سازش‘‘ کے جرم میں 18سال قید کی سزا سنائی گئی مگر آج وہی امریکی کانگریس کے رکن، عمران خان کی حمایت میں بڑھ چڑھ کر بیانات دے رہے ہیں اور انہیں انسانی حقوق یاد آ رہے ہیں۔
مرزا اشتیاق بیگ کہتے ہیں کہ عمران خان کو معلوم ہونا چاہئے کہ انقلاب اور بغاوت ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ کامیاب بغاوت انقلاب اور ناکام انقلاب بغاوت کے زمرے میں آتا ہے، اگر بغاوت ناکام ہوجائے تو بغاوت کی منصوبہ بندی کرنے والوں کو عبرتناک انجام سے دوچار ہونا پڑتا ہے، تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے جس میں باغیوں کو گولیوں سے اڑادینے اور سر قلم کردینے جیسے عبرتناک انجام سے دوچار ہونا پڑا۔ فوج کے خلاف بغاوت ایک فوجی جرم ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عمران خان اور ان کے حواریوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائےجائیں تاکہ بغاوت میں ملوث اصل
خزانہ خالی، حکومت بجٹ میں ریلیف کیسے دے گی؟
کرداروں کا چہرہ بے نقاب ہو سکے۔
