الیکشن شیڈول کا اعلان، صدر علوی پکے عمرانڈو نکلے؟

نگراں حکومت کے قیام کے بعد سے الیکشن کے انعقاد کی تاریخ کے حوالے سے سیاسی جماعتوں میں رسہ کشی تو جاری تھی تاہم اب صدر عارف علوی نے اپنے عمرانڈو پن کا اظہار کرنے اور ملک کو سیاسی و معاشی انتشار میں دھکیلنے کی کوشش کے طور پر از خود الیکشن کی تاریخ دینے کی خبریں زیر گردش ہیں۔ صدر عارف علوی کی جانب سے الیکشن کی تاریخ کے اعلان کے بعد ملک میں ایک اور آئینی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ صدر عارف علوی ملک میں عام انتخابات کی تاریخ مقرر کرنے کے لئے پُرعزم ہیں لیکن دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے الیکشن کی تاریخ کا اعلان اپنا حق قرار دیتے ہوئے انتخابات کے فوری انعقاد کے امکان کو رد کردیا ہے اور حلقہ بندیوں کی تکمیل تک الیکشن کے انعقاد کو غیر آئینی قرار دے دیا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ صدر علوی نے تاریخ دینے کا فیصلہ کرلیا تو اعلیٰ عدلیہ میں ایک رسہ کشی شروع ہوجائے گی۔ تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ سپریم کورٹ ہی کرے گی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق انتخابات کی تاریخ دینے کے صدارتی اختیار نے سیاسی تقسیم میں نئی صف بندیاں پیدا کردی ہیں۔ اس معاملے میں بلاول بھٹو زرداری اور پیپلز پارٹی میں ان کے وفادار تحریک انصاف کے موقف کے قریب آگئے ہیں۔ جبکہ آصف علی زرداری اس تقسیم کے دوسری طرف ہیں۔ عبوری وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی نگراں حکومت الیکشن کمیشن کے ساتھ کھڑی ہے ۔ جس کا دعویٰ ہے عام انتخابات کی تاریخ دینے کا اختیار اسے ہے ۔جو الیکشن ایکٹ میں دو ماہ قبل ہونے والی ترمیم کے تحت اسے حاصل ہے جبکہ الیکشن کمیشن کا موقف ہے حالیہ مردم و خانہ شماری کے تحت تازہ از سر نو حلقہ بندیاں انتخابی عمل سے قبل لازم ہیں۔

دوسری جانب پاکستان میں آئندہ عام انتخابات کی تاریخ کے معاملے پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو اور شریک چیئرمین آصف زرداری کے متضاد بیانات کا معاملہ پاکستان کے سیاسی حلقوں میں موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔

آصف علی زرداری نے بیان دیا کہ مردم شماری کے بعد الیکشن کمیشن نئی حلقہ بندیاں کرنے کا پابند ہے اور زور دیا کہ الیکشن کمیشن آئین کے مطابق الیکشن کروائے۔لیکن بلاول بھٹو نے 90 روز کے اندر انتخابات کرانے کے مطالبے پر قائم رہتے ہوئے کہا ہے کہ "میں گھر کے معاملات پر آصف زرداری کی بات کا پابند ہوں البتہ پارٹی امور میں پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) کے فیصلوں کا پابند ہوں۔”

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ آصف زرداری اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کے ساتھ اقتدار کی سیاست کرنا چاہتے ہیں جب کہ بلاول بھٹو آئین کی پاسداری کے نعرے کے ساتھ عوامی مقبولیت چاہتے ہیں۔

صحافی و تجزیہ نگار امتیاز عالم کہتے ہیں کہ آصف علی زرداری پاور پالیٹکس یعنی اقتدار کی سیاست کے لیے مشہور ہیں جب کہ بلاول بھٹو عوامی سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔ امتیاز عالم کا کہنا تھا کہ سندھ میں کچھ دباؤ بڑھا تو آصف زرداری نے مصلحت کی سیاست کرتے ہوئے انتخابات سے قبل حلقہ بندیوں کی حمایت کردی۔وہ کہتے ہیں کہ بلاول بھٹو چاہتے ہیں کہ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) مخالف بیانیہ اپنایا جائے تاکہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے ووٹر کو بھی اپنی جانب راغب کیا جا سکے۔امتیاز عالم نے کہا کہ بلاول بھٹو اور آصف زرداری کے درمیان سوچ کا یہ فرق نظر آئے گا کیوں کہ آصف زرداری اقتدار جبکہ بلاول عوام کی سیاست کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بینظیر بھٹو کے بھی اپنی والدہ سے اختلافات پیدا ہو گئے تھے اور انہوں نے لاہور میں پارٹی کا اجلاس بلا کر والدہ کو شریک چیئرپرسن کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ان کے بقول اختلاف رائے کا یہ معاملہ اب اس طرف جا رہا ہے کہ یا تو والد پارٹی کی قیادت جاری رکھیں گے یا بیٹا پیپلز پارٹی کے معاملات سنبھالے گا۔

سینئر صحافی نذیر لغاری کہتے ہیں کہ آصف زرداری اور بلاول بھٹو میں نقطۂ نظر کا اختلاف ہے جو کہ پہلے بھی بعض مواقعوں پر نظر آتا رہا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ آصف زرداری سیاسی پیچیدگیوں کو سمجھتے ہیں جبکہ بلاول بھٹو آئین کی بات کر رہے ہیں اور انتخابات کے معاملے پر دونوں الگ الگ مؤقف اپنائے ہوئے ہیں۔نذیر لغاری نے کہا کہ چند سال قبل آصف زرداری نے ایک معاملے کا حوالہ دیتے ان سے کہا تھا کہ بلاول بھٹو بینظیر کا بیٹا ہے اور وہ اس معاملے پر ان کی بات نہیں مان رہا۔نذیر لغاری کہتے ہیں کہ دونوں کے اختلافات اس نہج تک نہیں جائیں گے کہ دونوں باپ، بیٹا ایک دوسرے کے مدِمقابل آ جائیں، بلکہ افہام و تفہیم سے مسئلہ حل کر لیا جائے گا۔

دوسری طرف قومی اسمبلی کی تحلیل کو ایک ماہ ہونے کو ہے تاہم الیکشن کمیشن کی جانب سے آئندہ عام انتخابات کی تاریخ کا تاحال اعلان نہیں کیا گیا ہے۔صدر عارف علوی کی جانب سے انتخابات کی تاریخ دینے کے لیے الیکشن کمیشن کو لکھے گئے خط اور سیاسی جماعتوں کے مطالبے پر الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ انتخابات سے قبل حلقہ بندیاں کرنا لازم ہیں اور اس عمل کے مکمل ہونے پر انتخابات کروائے جائیں گے۔

امتیاز عالم نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کر رکھا ہے کہ 90 روز کے اندر انتخابات کروائے جائیں تاہم وہ کہتے ہیں کہ انتخابات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ عمران خان کی مقبولیت ہے۔امتیاز عالم کہتے ہیں کہ انتخابات کا دارو مدار اب سپریم کورٹ پر ہے تاہم 90 روز میں انتخابات مشکل دکھائی دیتے ہیں۔

نذیر لغاری نے کہا کہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ انتخابات کو پس پشت ڈالنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ تاہم وہ کہتے ہیں کہ چاہے اسٹیبلشمنٹ ہو، عدلیہ یا سیاسی جماعتیں انتخابات سے فرار ممکن نہیں اور نہ ہی اسے طویل عرصے تک التوا میں ڈالا جا سکتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ نگراں حکومت کو زیادہ عرصے

توشہ خانہ اور 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بشریٰ بی بی کی ضمانت منظور

تک رکھنے کی کوشش بھی زیادہ کارگر ہوتی دکھائی نہیں دیتی ہے۔

Back to top button