عمران نے اسمبلیاں باجوہ نہیں، کسی اور کے مشورے پر توڑیں

سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے مشورے پر اسمبلیاں تحلیل کرنے کی بونگی مار کر عمران خان نے  سیاسی تجزیہ کاروں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے کہ عمران خان نے آخر ایک ریٹائرڈ جنرل کے مشورے پر اسمبلیاں کیوں تحلیل کیں؟ تاہم سینئر صحافی اور تجزیہ کار سلیم صافی عمران خان کے اس دعوے کو کسی اور نظر سے دیکھتے ہیں۔ سلیم صافی کا کہنا ہے کہ عمران خان کا فوجی قیادت کے مشورے پر پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی اسمبلیاں توڑنے کا دعویٰ حقیقت پر مبنی ہے کیونکہ عمران خان نے ‏ایک جنرل کے مشورے پر پارٹی کا اعلان کیا۔ دوسرے جنرل نے 2010 میں لوگوں کو شمولیت بالجبر پرمجبور کرکے ان کی پارٹی بنائی۔ تیسرے جنرل نے ان سے دھرنے کروائے۔ چوتھے جنرل نے ان سے لاک ڈاون کروایا۔ جنرل باجوہ، جنرل فیض اور جنرل آصف غفور نے انہیں اقتدار دلوایا اور پھر ان کی حکومت چلوائی۔

سلیم صافی کا مزید کہنا ہے کہ عمران خان  نے کبھی کوئی بڑا سیاسی فیصلہ کسی جنرل کے حکم کے بغیر نہیں کیا۔ اس لئے شاید وہ ٹھیک کہتے ہیں کہ انہوں نے جنرل کے مشورے پر اسمبلیاں توڑیں لیکن شاید وہ ایک جنرل کے نام کو دوسرے جنرل کے نام سے کنفیوژ کرگئے کیونکہ جنرل باجوہ تو نومبر2022 میں ریٹائرڈ ہوگئے تھے اور صوبائی اسمبلیاں عمران نے 3 ماہ بعد جنوری 2023 میں توڑیں۔ اس لئے عمران خان تصحیح کرکے جنرل کے لفظ کے ساتھ اصل جنرل کا نام بھی بتادیں جن کے کہنے پر انہوں نے اسمبلیاں تحلیل کیں تو مسئلہ حل ہوجائے گا۔ سلیم صافی مزید کہتے ہیں کہ اگر عمران خان متعلقہ جنرل کا نام بتانے سے شرماتے یا گھبراتے ہیں تو ان کا کوئی سہولت کار صحافی، مشورہ دینے والے اصل اورسہولت کار جنرل کا نام بتادیں۔ اتناتو بتادیں کہ جنرل حاضرسروس ہے یا ریٹائرڈ؟۔ اگست 2022 کے بعد تو جنرل باجوہ کی ان سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ کہیں کوئی موکل تو جنرل باجوہ کے روپ میں مشورہ دینے نہیں آیا تھا؟

 سلیم صافی عمران خان کے دعوے پر تبصرہ کرتے ہوئے مزیدکہتے ہیں عمران خان پہلے کہتے رہے ہیں کہ باجوہ نے ان کی حکومت گرائی اور اب کہتے ہیں باجوہ کے کہنے پر اپنی حکومت گرائی۔سلیم صافی اپنی ٹوئٹر پوسٹ میں مزید لکھا کہ انتظار کیجئے ایک دن عمران خان کہیں گے کہ میں نے امریکہ کے کہنے پر اپنی حکومت گرائی بلکہ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ میں نے زرداری یا محسن نقوی کے کہنے پر اپنی حکومت گرائی۔دوسری طرف سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے دو صوبوں کی اسمبلیوں کی تحلیل کے معاملے پر کیا جانے والا دعویٰ سوشل میڈیا پر بھی موضوعِ بحث ہے۔

خیال رہے کہ قامی ٹی وی چینل ‘اے آر وائی’ نیوز پر نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے کہنے پر انہوں نے پنجاب اور خیبر پختونخوا کی حکومتیں تحلیل کی تھیں۔اس سے قبل عمران خان جنرل باجوہ کو اپنی مرکزی حکومت کے خاتمے کا ذمے دار ٹھہراتے رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے جنرل باجوہ کے کہنے پر صوبائی حکومتوں کی تحلیل کا بیان دے کر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔سوشل میڈیا پر عمران خان کے اس دعوے پر سوالات کیے جا رہے ہیں کہ جس شخص کو مرکز میں اپنی حکومت کے خاتمے کا ذمے دار کہتے رہے بھلا اس کے کہنے پر صوبائی حکومتوں کا خاتمہ کیوں کیا گیا؟

واضح رہے کہ عمران خان کے حکم پر رواں برس جنوری میں تحریکِ انصاف کی پنجاب اور خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومتیں تحلیل کر دی گئی تھیں۔ اس وقت دونوں صوبوں میں نگراں حکومتیں قائم ہیں جب کہ سپریم کورٹ نے پنجاب میں انتخابات کے لیے 14 مئی کی تاریخ مقرر کر رکھی ہے۔سوشل میڈیا صارف ڈاکٹر فریا ،عمران خان کے دعوے کو نرالی منطق کہتی ہیں۔ انہوں نے ایک ٹوئٹر پوسٹ میں لکھا کہ ایک طرف باجوہ کو میر جعفر کہتے تھے اور دوسری طرف ان کے کہنے پر پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیاں توڑ رہے تھے۔

واضح رہے کہ پاکستان کے ایوانِ زیریں نے نو اپریل 2022 کو اس وقت کے وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد منظور کرتے ہوئے ان کی حکومت ختم کر دی تھی۔ابتدا میں عمران خان کی جانب سے اپنی حکومت کے خاتمے کا ذمے دار امریکہ کو قرار دیا جاتا رہا جس کی امریکہ نے بارہا تردید کی ہے۔اب سابق وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ مرکز میں حکومت کے خاتمے کے بعد وہ نئے انتخابات چاہتے تھے جس کے لیے انہوں نے موجودہ صدر ڈاکٹر عارف علوی کی موجودگی میں جنرل باجوہ سے ملاقات کی اور انہوں نے کہا کہ اگر آپ انتخابات چاہتے ہیں تو صوبوں میں موجود اپنی حکومتیں تحلیل کر دیں تو انہوں نے حکومت گرا دی۔

دوسری جانب تحریکِ انصاف نے اپنے ردِ عمل میں کہا ہے کہ لوگوں کو ایک مرتبہ پھر گمراہ کیا جا رہا ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے اسمبلیوں کی تحلیل سے متعلق حکمراں اتحاد پی ڈی ایم کے رہنماؤں کےماضی میں دیے جانے والےتمام بیانات کے تناظر میں بات کی تھی اور یہ حقیقت میں ویسا نہیں جیسا میڈیا میں بعض ادراے اسے پیش کیا ہے۔صحافی حامد میر نےعمران خان کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حیرت ہے کسی نے باجوہ کے کہنے پر جونیئر جج سپریم کورٹ میں بٹھا دیے اور کسی نے باجوہ کے کہنے پر پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلی توڑ دی۔واضح رہے کہ وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے حال ہی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران سپریم کورٹ میں جونیئر ججز کی تعیناتی کی حمایت پر قوم سے معافی مانگی تھی۔

کیا واقعی پاک بھارت جنگ کا کوئی خطرہ موجود ہے؟

Back to top button