لاہور میں چھتوں پر پرندے رکھنے پر دفعہ 144 کا نفاذ کیوں؟

لاہور ائیرپورٹ پر پرندوں کی وجہ سے جہازوں کو پیش آنے والے حادثات میں اضافے کو روکنے کے لیے ہوائی اڈے کی قریبی آبادیوں میں گھروں کی چھتوں پر پرندے رکھنے پر دفعہ 144 کے تحت پابندی لگا دی گئی ہے اور کبوتروں کے پنجرے ہٹوانے کے لئے فوری آپریشن کلین اپ شروع کر دیا گیا ہے۔
علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیر پورٹ کے ذرائع کے مطابق رواں برس لاہور ایئرپورٹ پر مختلف ایئرلائنز کے جہازوں سے پرندے ٹکرانے کے 30 واقعات ہو چکے ہیں جن سے بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہوا، ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور ایئرپورٹ کے آس پاس کی آبادیوں میں چیلوں، کووں اور کبوتروں کی بڑی تعداد میں موجودگی اسلیے ذیادہ خطرناک ہے کہ کوئی بڑا حادثہ ہو گیا تو جانی نقصان بھی ہو سکتا ہے۔
لاہور ایئرپورٹ کے سٹیشن مینیجر چوہدری نزیر کا کہنا ہے کہ اس خطرے کے پیش نظر حکام نےبایئرپورٹ کے ارد گرد کی آبادیوں میں گھروں کی چھتوں پر پرندے رکھنے پر دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے کبوتروں کی اٹاریوں کو ہٹوا دیا ہے اور چیلوں اور کووں کو مارنے کے لیے شوٹرز کی تعداد میں اضافہ کر دیا ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور ایئرپورٹ کے آس پاس کی آبادیوں میں چھتوں پر رکھے گئے پرندوں خصوصا کبوتروں کو ہٹانے کے لئے خصوصی آپریشن اسسٹنٹ کمشنر کینٹ ذیشان ندیم کی سربراہی میں کیا گیا، ذیشان ندیم نے بتایا کہ اس آپریشن کی دو وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ علامہ اقبال ایئرپورٹ سے اُڑنے والے جہاز ان پرندوں کے سبب خطرے میں ہیں۔ دوسرا چھ ستمبر کو لاہور میں یوم دفاع کے موقعے پر ایئر شو ہونا ہے جس میں ایئر فورس کے جہاز اسی ایئر پورٹ سے اڑنے ہیں۔ ذیشان نے بتایا کہ اس آپریشن سے پہلے جب پاکستان ایئر فورس سے ہماری ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ اگر ایک چھوٹی سی چڑیا بھی جہاز سے ٹکرا جائے تو جہاز کو کم از کم 20 سے 30 ہزار ڈالرز کا نقصان پہنچتا ہے۔ ذیشان کا کہنا تھا کہ اس بار یوم دفاع پر ہونے والا ایئر شو تین برس کے بعد ہو رہا ہے۔
یاد رہے کہ ایئر فورس کے جہازوں کی رفتار عام جہازوں سے بہت زیادہ ہوتی ہے اور اگر ان سے کوئی پرندہ ٹکرا جائے تو اس کا
سیلاب کے دوران دہشت گرد حملوں کا خطرہ کیوں بڑھ گیا؟
نقصان بھی عام جہاز کے نقصان سے کہیں زیادہ ہوتا ہے، ذیشان کہتے ہیں کہ ہم نے آپریشن میں صدر کینٹ، ضرار شہید روڈ اور بہار شاہ کے علاقے کو ٹارگٹ کیا، باقی ارد گرد کے علاقوں کے لیے ہم نے لاہور کینٹ، اور ڈی ایچ اے اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کر دی ہے کہ وہ اپنے علاقوں کو چیک کروائیں اور دفعہ 144 کے نفاذ کو یقینی بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یوم دفاع کے سلسلے میں ایئر پورٹ کے پانچ کلومیٹر کے ریڈیئس میں 27 اگست سے 10 ستمبر تک دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے اسی سیکشن کی 144 پر عمل درآمد کے لیے ہم نے آپریشن بھی کیا، انکا کہنا تھا کہ ہم نے صرف کبوتروں کے خاتمے پر فوکس نہیں کیا بلکہ ریستورانوں اور شادی ہالوں کو بھی واضح وارننگ دی ہے کہ وہاں بچا ہوا کھانا ہوٹل کی چھت پر پھینکنے سے گریز کیا جائے جو میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ اس کھانے کے لالچ میں چیلیں اور کوے بھی وہاں آ جاتے ہیں اور فضا میں پرواز کرنا شروع کر دیتے ہیں جس سے جہاز خطرے کا شکار ہو جاتے ہیں۔
لاہور ائیر پورٹ کے مینیجر چوہدری نزیر کے مطابق اس وقت پرندوں کو ہٹانا اس لئے بھی ضروری تھا کہ پرندے مون سون کے موسم میں زیادہ باہر نکل کر پرواز کرتے ہیں کیونکہ بارشوں میں ذیادہ کیڑے مکوڑے باہر نکلتے ہیں جنہیں کھانے کے لیے وہ متحرک ہو جاتے ہیں، ویسے بھی بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لاہور ایئرپورٹ شہر کے بیچ و بیچ بنا ہوا ہے، جس کے ارد گرد عسکری ولاز کے علاوہ ہوٹلز بھی موجود ہیں جس کی وجہ سے پرندے بڑی تعداد میں یہاں اپنے مسکن بنا لیتے ہیں۔ لاہور ایئر پورٹ کے اسٹیشن مینیجر چودھری نذیر نے بتایا کہ ایئرپورٹ کے ارد گرد پرندوں کو مارنے کے لیے ہم نے 26 نشانہ باز رکھے ہوئے ہیں جو فلائٹس آنے سے پہلے پرندوں کا شکار کرنے کے علاوہ انہیں ڈرانے کے لیے فائر کریکرز چلاتے ہیں یا پریشر ہارنز بجاتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اب پرندے بھی ان کے عادی ہو گئے ہیں اور ان چیزوں سے نہیں ڈرتے۔
