شاہ محمود قریشی کس ڈیل پر جیل سے باہر آئے؟

تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی لگ بھگ ایک ماہ اڈیالہ جیل راولپنڈی میں گزار کر لاہور ہائی کورٹ پنڈی بینچ کے حکم پر رہا ہوگئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شاہ محمود قریشی عمران خان کو ہٹا کر پارٹی کو لیڈ کرنے کی یقین دہانی پر ہی جیل سے باہر آئے ہیں ورنہ پریس کانفرنس کرنے والوں میں شاہ محمود قریشی پہلے نمبر پر ہوتے ۔

ادھر اڈیالہ جیل ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ایک ماہ کے دوران شاہ محمود قریشی کے ساتھ متعدد اہم لوگوں نے ملاقاتیں کیں۔ یہ ملاقاتیں ان کے سیل میں ہوتی رہیں اور جیل میں موجود دفاتر میں بھی ہوئیں۔ ان سے ملاقاتیں کرنے والے کون لوگ تھے؟ اس بارے تفصیلات معلوم نہیں۔ لیکن بہرحال یہ بات طے ہے کہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کرنے والے اکثر لوگ پہلے بھی تحریک انصاف کے رہنمائوں سے ملاقاتیں کر چکے ہیں۔

سینئر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شاہ محمود نے اپنی رہائی کے وقت کہا کہ، انصاف کا جھنڈا ان کے ہاتھ میں ہے۔ دراصل وہ کہنا چاہتے ہیں کہ تحریک انصاف کی قیادت ان کے ہاتھ میں ہے۔ جیل میں بعض لوگوں نے انہیں یہ گارنٹیاں دی ہیں کہ باہر آکر وہ تحریک انصاف کو لیڈ کریں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے پریس کانفرنس نہیں کی۔ اس وقت جیل میں متعدد کارکنان کے علاوہ سینئر لیڈر شپ میں صرف شہریار آفریدی ہیں۔ جو ڈیتھ سیل نمبر ایک میں قید ہیں۔ ان کے بارے کہا جارہا ہے کہ ان کی طبعیت خراب ہے۔

سینٹرل جیل راولپنڈی یعنی اڈیالہ جیل کے ذرائع نے بتایا کہ، شاہ محمود قریشی اور شہریار آفریدی سے ڈھکی چھپی ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ جب کہ تحریک انصاف کے بعض لوگوں نے بھی شاہ محمود قریشی سے ملاقاتیں کی ہیں۔

شاہ محمود قریشی پر تحریک انصاف چھوڑ جانے والے رہنمائوں کے علاوہ کسی نے پریس کانفرنس کرنے پر دباؤ نہیں ڈالا۔ بلکہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ جیل میں نرم رویہ رکھا گیا۔ انہیں کسی نے تنگ نہیں کیا، انہوں نے جیل میں ٹھیک وقت گزارا۔ جبکہ شہر یار آفریدی جیل میں تنگ ہیں۔ اڈیالہ جیل میں قیدیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ صرف تین سیل جنہیں ڈیتھ سیل کہا جاتا ہے، ان میں سے آفریدی ایک نمبر سیل میں قید ہیں۔ یہ اسپیشل سیلز دہشت گردوں کے لیے مختص تھے۔ جب انہیں ہائی سیکورٹی جیل ساہیوال بھجوایا گیا، تو اس وقت سے یہ سیلز خالی پڑے ہیں۔

ایک ماہ بعد جیل سے رہا ہونے کے بعد پی ٹی آئی وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے عمران خان سے زمان پارک میں ملاقات کی جو ایک گھنٹے تک جاری رہی۔ ملاقات کے بعد آفیشل بیان جاری کیا گیا نہ ہی پریس کانفرنس کی گئی تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں دونوں کے مابین تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ذرائع کے مطابق سابق وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے عمران خان کو موجودہ صورتحال سے نکلنے کے لِیے کچھ آپشنز دیے ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے پارٹی چیئرمین کو کہا کہ آپ وقتی طور پر پیچھے ہٹ جائیں۔ بیرون ملک چلے جائیں یا اگر بیرون ملک نہیں جانا تو یہاں ہی رہیں مگر لب کشائی بند کردیں۔ ہمیں معاملات طے کر لینے دیں۔ معافی تلافی ہو لینے دیں۔ جب سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا تو آپ واپس تحریک انصاف کو سنبھال لیجئے گا۔ پی ٹی آئی پر مشکل وقت آیا ہے۔ جذباتی ہونے کی بجائے دانشمندانہ فیصلہ کریں۔جس پر عمران خان برہم ہوگئے اور دونوں رہنماؤں کے مابین تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔

ذرائع نےدعویٰ کیا کہ شاہ محمود قریشی نے عمران خان سے کہا کہ ریٹائرڈ افراد سابق وزیر اعظم عمران خان کو گمراہ کر رہے ہیں  جو ان حالات میں پی ٹی آئی کی مدد بھی نہیں کرسکتے۔ اس پر عمران خان نے ناراضگی کا اظہار کیا اور بعد ازاں شاہ محمود قریشی زمان پارک سے کراچی روانہ ہوگئے۔

ڈان نیوز کی خبر کے مطابق پارٹی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان مقابلے یا محاذآرائی کی سیاست پر قائم رہے تو پارٹی مزید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوسکتی ہے۔ پی ٹی آئی کو دوبارہ میدان میں آنے کے لیے کچھ وقت کی ضرورت ہے جو صرف اس صورت میں ممکن ہے جب عمران خان پارٹی اور سیاست سے الگ ہوجائیں۔

دوسری جانب اسلام آباد کے سینئر صحافیوں کا کہنا ہے کہ شاہ محمود قریشی ڈیل کے ذریعے ہی باہر آئے ہیں۔ ورنہ انہیں دوبارہ گرفتار کرکے جیل میں ڈالنا کوئی مشکل نہ تھا۔ اس وقت تحریک انصاف کے چیئرمین کے سر پر نااہلی کی تلوار لٹک رہی ہے۔ جب کہ وہ شاہ محمود کو اپنی نااہلی کی صورت میں پارٹی سنبھالنے عندیہ بھی دے چکے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے اسی وجہ سے پریس کانفرنس نہیں کی۔ ورنہ شاہ محمود قریشی سب سے پہلے پریس کانفرنس کرکے باہر آجاتے۔ یہ بات درست نہیں ہے کہ انہیں کوئی پارٹی لینے کو تیار نہیں ہے، بلکہ وہ خود تحریک انصاف کو لیڈ کرنے کے دیرینہ خواب کی تعبیر پوری ہوتے دیکھ رہے ہیں۔

پی ٹی آئی رہنما رہا ہوتے ہی5ویں بار گرفتار

Back to top button