ترین کی استحکام پاکستان پارٹی کا اصل مقصدکیا ہے؟

سینئر سیاسی تجزیہ کار حماد غزنوی نے کہا ہے کہ جہانگیر ترین کی استحکام پاکستان پارٹی کوئی نئی پارٹی تو نہیں ہے، اس کا شجرہ سکندر مرزا کی ریپبلکن پارٹی اور ایوب خان کی کنونشن لیگ سے جا ملتا ہے کوئی ہوش مند یہ توقع نہیں رکھتا کہ یہ پارٹی ملک کی کشتی منجدھار سے نکال کر آسودہ ساحلوں تک لے جائے گی ایک کام البتہ یہ جماعت ضرور انجام دے سکتی ہے اور وہ ہے ایک معلق پارلے منٹ کا ظہور ممکن بنانا، تاکہ سیاسی زلزلے ایک جنبشِ ابرو کے پابندرہیں۔

اپنے ایک کالم میں حماد غزنوی لکھتے ہیں کہ ہم خود کو دہراتے ہیں، جو کر چکے ہیں وہی دوبارہ کرتے ہیں، سہ بارہ کرتے ہیں اور کرتے ہی چلے جاتے ہیں۔ سیانے کہتے ہیں خود کو دہرانے سے بہتر ہے کسی دوسرے کو دہرا لیا جائے۔کسی بھی معاشرے کو آگے بڑھنے کیلئے نئی غلطیاں کرنا ضروری ہوتا ہے جب کہ منجمد معاشرے نئی غلطی کرنے کے سرے سے اہل ہی نہیں ہوتے۔ یوں سمجھئے کہ جہانِ نو کی نمود تازہ افکار اورتازہ غلطیوں پر ہوا کرتی ہے۔ کچھ سال پہلے ہمیں بتایا گیا کہ کراچی کے ایک صاحب ہیں ان کا نام لینے پر پابندی لگا دی گئی ہے، پھر ایک جاتی عمرا کے مکین تھے جن کے بارے یہی حکم صادر ہوا، اب میڈیا چسکے لے لے کر ایک صاحب کو ’قاسم کا ابا‘ کہہ رہا ہے۔

ایسی جبری پابندیوں پر جو لوگ کل خوش تھے آج منہ بسورے پھرتے ہیں، اور کل تک جن کے منہ لٹکے ہوئے تھے آج صف بہ صف بغلیں بجاتے نظر آتے ہیں۔ یہ سب تماشا کل بھی اتنا ہی لایعنی تھا جتنا آج ہے۔ ۔ ابھی کل کی بات ہے کہ ابو ٹیریان ملٹری کورٹس کو آئین و قانون کا روشن ترین مظہر گردانتے تھے اور ابو مریم کہا کرتے تھے کہ ملٹری کورٹس کا انصاف کے نظام میں وہی مقام ہے جو موسیقی کی دنیا میں فوجی بینڈ کا ہوا کرتا ہے۔آج صورتِ احوال اس کے یک سر برعکس ہے۔ حکومتی وزراء آج کل فوجی عدالتوں کے گیسوئے تاب دار کو اور بھی تاب دار دیکھنے کے متمنی ہیں۔ تیغِ ستم وہی ہے گلے بدلتے رہتے ہیں۔ پہلے ایک گروہ کو کوڑے مارے جاتے ہیں اور دُوسرا پُر خروش تالیاں پیٹتا ہے اورپھیپھڑوں کی تمام تر توانائی بروئے کار لاتے ہوئے نعرہ زنی کرتا ہے کہ ’اور زور سے مارو‘، پھر دُوسرے گروہ کی برہنہ پشتوں پر چابک زنی کی جاتی ہے اور پہلا گروہ رقصِ انبساط میں مگن ہو جاتا ہے۔ حماد غزنوی کا کہنا ہے کہ پہلے صحافی اٹھائے جاتے تھے اور کچھ لوگ کہتے تھے یہ صحافی نہیں لفافی ہیں، اب صحافی اٹھائے جاتے ہیں اور ہم کہتے ہیں یہ صحافی تھوڑی ہیں یہ تو ’پالتو‘ ہیں، یہ تو ان کے گھر کا جھگڑا ہے، ہمارا ان سے کیا تعلق۔کون صحافی ہے کون نہیں، یہ فیصلہ کرنے میں ہم سب آزاد ہیں، لیکن آئین میں انسانی حقوق تو سب کے یکساں ہیں، خواہ آپ انہیں لفافی سمجھیں یا ’گیلا تیتر۔

 جون بھائی کہتے ہیں’ ’اک شخص کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر.کاش اس زباں دراز کا منہ نوچ لے کوئی‘‘۔کل نیب کے چیئر مین کا ایک بیان نظر سے گزرا، موصوف فرما رہے تھے اب نیب صرف میرٹ پر کیس بنائے گا۔پچھلے چیئرمین جاوید اقبال بھی کہتے تھے میں فیس نہیں کیس دیکھتا ہوں ۔ ناصر کاظمی یاد آگئے جو وحشت میں ہر فیس کو چوم لیا کرتے تھے۔ نیب کی تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی، اب یہ دیوار ثریا تک ٹیڑھی جائے گی۔ لیکن ہم باز ہی نہیں آتے۔کھاتے جاتے ہیں اور اُلٹی کرتے جاتے ہیں۔ جہاز وہی ہے، پہلے اس میں لوگ بھر بھر کے بنی گالا لائے جاتے تھے، اب وہی لوگ واپس لے جائے جا رہے ہیں، پہلے طوق پہنایا گیا تھا، اب اتارا جا رہا ہے۔ یہ استحکام پاکستان پارٹی کوئی نئی پارٹی تو نہیں ہے، اس کا شجرہ ریپبلکن پارٹی اور کنونشن لیگ سے جا ملتا ہے، اور بھی دس بارہ جماعتوں کا نام اس ضمن میں لیا جا سکتا ہے۔ پھر وہی ایلیکٹ ایبلز، پھر وہی ضمیر فروشی، پھر وہی ہانکا، پھر وہی ریوڑ، پھر وہی مشقِ لا حاصل۔ استحکام پاکستان پارٹی بنانے والے نئی غلطی کرنے کی اہلیت بھی نہیں رکھتے۔

عوام اس پارٹی سے کیا توقع باندھ سکتے ہیں ؟ کہ یہ جماعت ملک کی نیّا منجدھار سے نکال کر آسودہ ساحلوں تک لے جائے گی؟ کیا کوئی ذی ہوش یہ گمان رکھتا ہے؟ ہاں، ایک کام یہ جماعت ضرور انجام دے سکتی ہے اور وہ ہے ایک معلق پارلے منٹ کا ظہورممکن بنانا، تاکہ سیاسی زلزلے ایک جنبشِ ابرو کے پابند رہیں۔ صفر جمع صفر جمع صفر۔ حماد غزنوی کہتے ہیں کہ پچھلے ہفتے نہ چاہتے ہوئے بھی سالانہ بجٹ پر ایک نظر پڑی، وہی دہائیوں پرانا بجٹ، بس وزیرِ خزانہ بدلتا رہتا ہے۔ بجٹ کا خُلاصہ ہے ’’دے جا سخیا راہِ خدا‘‘ ۔ ہر سال پچھلے سال سے زیادہ قرض کی ضرورت ہوتی ہے، اور اب تو سو فی صد انحصار قرض پر ہے۔یعنی ملکوں ملکوں کاسہ بہ دست گھومنا ہو گا، قریہ قریہ صدا لگانا ہو گی۔انوکھی ریاست بنائی ہے جہاں غریبوں سے ٹیکس لے کر امراء کو تیرہ ارب ڈالر کی سب سبسڈی دی جاتی ہے یعنی قرض کی مے کے جام پہ جام لنڈھائے جاتے ہیں۔کاش، ہم نئی غلطیاں کرنے کی

کیا جنرل فیض حمید واقعی گھر پر نظر بند ہیں؟

صلاحیت رکھتے۔

Back to top button