پاکستان کے قرضوں کاحجم9سال کی کم ترین سطح پرپہنچ گیا

پاکستان کے قرضوں کے حجم میں اضافے کی رفتار 2 دہائیوں کی کم ترین سطح پر آگئی ہے،بیرونی قرضوں کا حجم 9 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔

مشیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق مالی سال 26-2025 میں قرضوں میں اضافے کی شرح 7.7 فیصد رہی، جو گزشتہ 20 برس کی کم ترین سطح ہے۔ گزشتہ 2 دہائیوں کے دوران قرضوں میں سالانہ اوسط اضافہ 16 فیصد رہا، جبکہ مالی سال 2019 میں یہ شرح 31 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔

قرض اور مجموعی ملکی پیداوار کا تناسب کم ہوکر 68 فیصد رہ گیا ہے، جو مالی سال 2023 میں 75 فیصد اور مالی سال 2019 سے 2021 کے دوران 86 سے 88 فیصد تک تھا۔

بیرونی قرض اور مجموعی ملکی پیداوار کا تناسب بھی کم ہوکر 21.5 فیصد ہوگیا ہے، جو 9 سال کی کم ترین سطح ہے۔ اس دوران اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر ساڑھے 3 سال میں 6 گنا سے زیادہ بڑھ کر مالی سال 2026 میں 18.4 ارب ڈالر ہوگئے، جو تقریباً 3 ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔

مالی سال 2026 میں بیرونی قرض مجموعی سرکاری قرض کا تقریباً 31 فیصد رہ گیا، جو مالی سال 2019 سے 2023 کے دوران 37 سے 38 فیصد تھا۔ اس طرح ملکی اور بیرونی قرض کا تناسب 69 اور 31 ہوگیا ہے، جس سے بیرونی کرنسی اور شرح مبادلہ کے خطرات میں کمی آئی ہے۔

قرضوں کے بہتر انتظام کے تحت 4.72 کھرب روپے کا قرض مدت پوری ہونے سے قبل ادا کیا گیا، جبکہ ملکی قرض کی اوسط مدت تقریباً 2.8 سال سے بڑھ کر مالی سال 2026 میں 3.8 سال سے زائد ہوگئی، جس سے قرض کی دوبارہ ادائیگی اور تجدید کے خطرات کم ہوئے ہیں۔

قرضوں پر سود کی ادائیگی کا سالانہ خرچ تقریباً 8.9 کھرب روپے سے کم ہوکر 6.9 کھرب روپے رہ گیا ہے۔ مجموعی وفاقی اور صوبائی آمدن میں سود کی ادائیگی کا حصہ مالی سال 2024 کے 61 فیصد سے کم ہوکر مالی سال 2026 میں تقریباً 35 فیصد رہ گیا۔

پاکستان مسلسل 3 مالی سال سے بنیادی بجٹ میں فاضل رقم حاصل کر رہا ہے، جبکہ مالی سال 2026 میں ٹیکس آمدن میں 11 فیصد اضافہ ہوا، جو قرضوں میں 7.7 فیصد اضافے سے زیادہ ہے۔

 

 

Back to top button