کیا شہباز شریف سازشی عمران کا مقابلہ کر پائیں گے؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ عمران خان کو ہٹا کر وزیر اعظم بننے والے شہباز شریف کو نہایت دانشمندی سے آگے بڑھتے ہوئے یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ کسی عام سیاستدان سے برسرِ پیکار نہیں کیونکہ ان کا مخالف کپتان ایک سفاک سازشی ہے جو کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کے لئے لکھے گئے اپنے تازہ تجزیے حامد میر کہتے ہیں کہ رات 12 بجے کلینڈر پر 10 اپریل کی تاریخ آنے کے کچھ ہی دیر بعد عمران خان پاکستانی تاریخ کے وہ پہلے وزیر اعظم بن گئے جو پارلیمنٹ کے ہاتھوں تحریکِ عدم اعتماد کے نتیجے میں عہدے سے ہٹائے گئے۔ اس سے پہلے عمران نے کئی دن میکاولی جیسے حربے اپناتے ہوئے تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ کو روکے رکھا۔ لیکن 3 اپریل کو جب یہ واضح ہو گیا کہ پاکستان کے قانون ساز انہیں عہدے سے ہٹانے میں کامیاب ہونے والے ہیں اور ان کے پاس مطلوبہ اکثریت موجود ہے،

تو عمران نے قومی اسمبلی کو تحلیل کر دیا جسے پہلی ‘سویلین کو’ قرار دیا۔ چند روز بعد سپریم کورٹ نے اس حرکت کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسمبلی کو بحال کر دیا اور تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کا حکم دیا، یوں بالآخر عمران خان کی حکومت ڈھے گئی اور ان کا قصہتمام ہوا۔

حامد میر کہتے ہیں کہ اگر پہلے کسی کو شک تھا بھی تو اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ عمران خان طاقت سے چپکے رہنے کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ قومی اسمبلی میں اکثریت کھونے کے باوجود انہوں نے اقتدار میں رہنے کے لئے ہر حربہ استعمال کیا لیکن وہ بھول گے کہ انہوں نے کلیدی اہمیت کے حامل بہت سارے سٹیک ہولڈرز، بشمول ان کی اپنی جماعت کے ارکان، کو ناراض کر دیا تھا۔ ان کے اقتدار سے علیحدہ ہونے سے انکار نے ایک پورا آئینی بحران کھڑا کر دیا۔

اور جب سپریم کورٹ نے ان کی اس کوشش میں ساتھ دینے سے انکار کر دیا تو انہوں نے اپنی پارٹی کے 120 ارکان کو اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کے بجائے حکم دیا کہ وہ بھی قومی اسمبلی سے استعفا دے دیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جمہوری عمل سے کتنی نفرت کرتے ہیں۔ اس سارے عمل کے دوران وہ ایک حربہ اور بھی استعمال کرتے رہے تاکہ ان کے نقاد عوامی ساکھ کھو دیں: انہوں نے امریکہ پر اپنے خلاف سازش کرنے کا الزام عائد کیا لیخن اسے ثابت کرنے کے لئے کوئی شواہد سامنے نہ لا پائے۔

اگلے چند ماہ میں جب عمران خان شہباز شریف کی نئی حکومت کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کریں گے، تو وہ عوام میں بکنے والے اپنے اس بیرونی سازش کے بیانیے کو انتہا پر لے جا سکتے ہیں۔ تاہم اب شاید ان کے اس بیانیے میں وہ وزن نہ رہے چونکہ فوجی ترجمان نے واضح کر دیا ہے کہ نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے اعلامیے میں بیرونی سازش کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

حامد میر بتاتے ہیں کہ جس دن عمران خان کو اقتدار سے علیحدہ کیا گیا، انہوں نے ایک ‘آزادی کی جنگ’ کا اعلان کیا۔ وہ 13 اپریل سے احتجاجی ریلیوں کا آغاز کر چکے ہیں۔ عمران خان اور ان کے ساتھی اداروں میں اصلاحات اور کرپشن کے خاتمے کے لیے کیے گے اپنے وعدوں کی ناکامی پر بات نہیں کرتے۔ وہ دگرگوں معیشت پر بھی بات کرنے سے گریزاں رہتے ہیں جس کی ذمہ داری براہِ راست عمران خان کی غلط پالیسیوں اور ان کی نااہلی پر عائد ہوتی ہے۔

وہ دیوانوں کی طرح بس ایک ہی دعویٰ بار بار دہراتے چلے جاتے ہیں اور وہ یہ کہ میرے تمام مخالفین غدار ہیں، اور وہ سب حکومت تبدیل کرنے کی امریکی سازش کا حصہ ہیں۔ عمران کا دعویٰ ہے کہ انہیں اس سازش کا علم 7 مارچ کو ایک پاکستانی سفیر کے خط سے ہوا۔ اس سفیر نے مبینہ طور پر امریکی سفارت کار ڈانلڈ لو کی پاکستانی حکومت کو دی گئی ایک دھمکی کا ذکر کیا تھا۔ لیکن یہ ایک مضحکہ خیز بات ہے۔ بقول حامد میر، میں نے تو اس سے بہت پہلے جنوری میں لکھا تھا کہ عمران خان کی حکومت ایک بڑے بحران کا شکار ہونے جا رہی ہے جس کے ذمہ دار بھی وہ خود ہیں، ان کے دشمنوں کو انہیں گرانے کے لئے کسی بیرونی امداد کی ضرورت نہیں تھی۔

وزیر اعظم بننے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں شہباز شریف نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ وہ جلد از جلد نیشنل سکیورٹی کمیٹی کا ایک اجلاس بلائیں گے۔ وہ اس پاکستانی سفیر سمیت تمام متعلقہ حکام سے بیرونی سازش کا ثبوت سامنے لانے کو کہیں گے۔ شہباز کا کہنا ہے کہ اگر الزامات درست ثابت ہوئے تو وہ عہدہ چھوڑ دیں گے۔ شہباز کے اس اعلان نے بھی عمران کے سازشی بیانیے کو بڑی گزند پہنچائی ہے۔

سکیورٹی ادارے کئی روز پہلے ہی اس حوالے سے اپنی تحقیقات مکمل کر چکے ہیں اور عمران کو بتا دیا گیا ہے کہ انہیں کسی بیرونی سازش کے شواہد نہیں ملے۔ لیکن اس کے باوجود عمران نے خود کو اقتدار میں رکھنے کی خاطر آرمی چیف سے ایک ڈیل کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے پیشکش کی کہ فوج اگر ان کی معاونت کرے تو جنرل باجوہ جب تک چاہیں، ملک کے آرمی چیف رہ سکتے ہیں۔ لیکن جنرل باجوہ نے انکار کر دیا۔ اب تو فوجی ترجمان نے بھی واضح کر دیا ہے کہ جنرل باجوہ نہ تو عہدے میں توسیع لینا چاہتے ہیں اور نہ ہی ایسی کوئی آفر قبول کریں گے۔

حامد میر کہتے ہیں سیاسی ماہرین عمران کے بیرونی سازش کے دعووں کو بری طرح پنکچر کر چکے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ جب سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ادوار میں چین سے پاکستان میں بھاری سرمایہ کاری کروائی گئی تو CIA نے ان کے خلاف سازش کیوں نہیں کی؟ وہ کہتے ہیں کہ امریکہ کا World Bank اور IMF پر گہرا اثر و رسوخ ہے۔ اگر CIA مارچ میں عمران حکومت گرانے جا رہی تھی تو فروری میں IMF نے پاکستان کو 1 ارب ڈالر سے زائد اور اسی ماہ ورلڈ بینک نے قریب 53 کروڑ ڈالر کیوں فراہم کیے؟ اگر عمران خان کو امریکی دھمکی 7 مارچ کو موصول ہو گئی تھی، تو انہوں نے اسلام آباد میں 21 مارچ کو ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس میں ایک امریکی عہدیدار کو بطور مہمان دعوت کیوں دی؟

نواز شریف کی گرفتاری کیلئے درخواست سماعت کیلئے مقرر

بقول حامد میر، ایک جانب عمران بیرونی سازش کا راگ الاپ رہے ہیں، دوسری جانب انہیں برطانوی سیاستدان زیک گولڈسمتھ سے حمایت مانگنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے، جو کہ ان کی سابقہ اہلیہ کے بھائی ہیں۔ جب 2016 میں زیک گولڈ سمتھ ایک پاکستانی نژاد برطانوی شہری کے خلاف لندن کے میئر کا الیکشن لڑ رہے تھے تو عمران خان نے گولڈ سمتھ کا ساتھ دیا تھا۔ گولڈ سمتھ صادق خان سے الیکشن میں شکست کھا گئے اور بعد میں صادق خان نے الزام عائد کیا تھا کہ زیک گولڈ سمتھ نے ان کے خلاف اسلامو فوبک حربے استعمال کیے تھے۔

لہذا شہباز شریف کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ کسی عام سیاستدان سے برسرِ پیکار نہیں بلکہ ان کا مخالف ایک سفاک سازشی ہے جو کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ ان حالات میں صرف امید ہی کی جا سکتی ہے کہ وہ اس چیلنج کا مقابلہ کامیابی سے کر پائیں گے۔

Will Shahbaz Sharif be able to compete with Imran? video

Related Articles

Back to top button