کوئی ایسا راستہ

تحریر: مجیب الرحمن شامی
بشکریہ: روزنامہ پاکستان
سندھ اسمبلی نے اپنے ایک ممتاز رکن نثار کھوڑو صاحب کی پیش کردہ قرارداد کو کثرتِ رائے سے منظور کر لیا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ: یہ ایوان کسی بھی ایسی تجویز‘ منصوبے‘ سکیم یا آئینی انتظام کو‘ خواہ اسے کوئی بھی نام یا عنوان دیا جائے‘ واضح طور پر مسترد کرتا ہے‘ جس کا مقصد سندھ کو تقسیم کرنا‘ اس کی موجودہ علاقائی حدود تبدیل کرنا یا اس کے علاقے سے کوئی نیا صوبہ قائم کرنا ہو۔ ایوان اس منصوبے کو بھی مسترد کرتا ہے جس کے تحت صوبے کے کسی بھی حصے کو وفاقی انتظام یا بندوبست کے تحت رکھا جائے۔ اس قرارداد کی منظوری سے پہلے تندو تیز تقریریں کی گئیں۔ صدر آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کی تقریر میں تو جذبات کا سمندر آمڈ آیا تھا: ”ہم سب اور سندھ کا بچہ بچہ اس بات پر متفق ہے کہ ہم سندھ کو تقسیم نہیں ہونے دیں گے۔ ہم سندھ کا سودا نہیں کریں گے۔ یہ دھرتی ماں ہماری ہے اور ہم اس کی حفاظت کریں گے۔ ان کا کہنا تھا: پیپلز پارٹی اس معاملے پر متحد ہے کہ سندھ کی وحدت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔ حتیٰ کہ اگر سندھ کے لیے استعفیٰ دینا پڑے‘ اسمبلی کی اکثریت چھوڑنا پڑے یا جان کی قربانی دینا پڑے تو وہ اس سے بھی دریغ نہیں کریں گی۔ انہوں نے اپنی شناخت کا حوالہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”میں بلوچ خاندان سے ہوں، لیکن سندھ کا پانی پیا ہے، اسے تقسیم نہیں ہونے دوں گی۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید اور بے نظیر بھٹو شہید کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچاؤں گی‘‘۔ اپنے ساتھی ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے یہ تک کہہ گزریں: ”آپ بے نظیر بھٹو کو کیا جواب دو گے، قیامت کے دن وہ ہمیں گریبان سے پکڑ کر پوچھے گی کہ ہم نے سندھ کیلئے کیا کِیا ہے؟ (محترمہ کو شاید یاد نہیں رہا کہ قیامت کے روز اپنے اعمال کا حساب اپنے رب کو دینا ہے‘ کسی اور کو نہیں)۔
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے بھی پُرجوش تقریر میں واضح کیا کہ سندھ وہ صوبہ ہے جس نے سب سے پہلے پاکستان کے حق میں قرارداد منظور کی تھی‘ اپنے آپ کو اس سے جوڑا تھا۔ اس صوبے کو کسی صورت تقسیم نہیں ہونے دیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے یہ دلچسپ نکتہ بھی پیش کیا کہ 1973ء کے اصلی دستور میں کسی صوبے کی تقسیم کا کوئی تصور موجود نہیں تھا۔ جنرل ضیا الحق کے دور میں اس حوالے سے ترمیم کی گئی۔ شاہ صاحب کی بات اس حد تک تو درست ہے کہ کسی صوبے کی جغرافیائی حدود میں تبدیلی کو جنرل ضیا الحق کے دور میں متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دوتہائی اکثریت کی منظوری کے ساتھ مشروط کر دیا گیا تھا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں لیا جا سکتا کہ اس ترمیم کے ذریعے نئے صوبوں کے قیام کا تصور آئین میں داخل کیا گیا‘ اس سے پہلے یہ ناقابلِ تصور تھا۔ شاہ صاحب اگر کسی آئینی ماہر کے ساتھ بیٹھ کر مطالعہ فرمائیں تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ 1973ء میں منظور کردہ دستوری متن کے مطابق کسی صوبے کی حدود میں ردوبدل کیلئے اس اسمبلی کی اجازت درکار نہیں تھی۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کی دوتہائی اکثریت کو یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ آئین میں کوئی بھی تبدیلی کر گزرے۔ 1973ء کے دستورکا بنیادی متن اگر مدنظر رکھا جائے تو پھر یہ کہا جائے گا کہ کسی بھی صوبے کی حدود میں ردوبدل صرف قومی اسمبلی اور سینیٹ کی دوتہائی اکثریت کے ذریعے کیا جا سکتا تھا۔ جنرل ضیاء کے دور (1985ء) میں دفعہ 239 میں ترمیم کر کے نئے صوبوں کا قیام مشکل بنا ڈالا گیا۔
تاریخ کی ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ جنرل ضیا الحق کے دور (1983ء) میں دستور میں ترامیم تجویز کرنے کیلئے مولانا ظفر احمد انصاری مرحوم کے زیر قیادت جو کمیشن قائم کیا گیا تھا اور جس میں بڑے جید علما اور قانون دان شامل تھے‘ نے سفارش کی تھی کہ تمام ڈویژنوں کو صوبوں کا درجہ دے دیا جائے۔ اس رپورٹ کے مطابق بڑے اور غیر متوازن صوبوں کو چھوٹی انتظامی اکائیوں میں تقسیم کر کے وسائل کی تقسیم کو متوازن اور وفاق کو طاقتور بنایا جانا تھا۔ اس وقت چاروں صوبوں کے کل اکیس ڈویژن تھے‘ ہر ڈویژن کو صوبے کا درجہ دینے سے اتنے ہی صوبے وجود میں آ جاتے۔ جنوبی پنجاب‘ ملتان‘ ڈیرہ غازی خان اور بہاولپور میں تقسیم ہو جاتا۔ جنرل ضیا الحق اس رپورٹ کے مطابق اقدام کرنا چاہتے تھے لیکن ایم آر ڈی کی تحریک نے مہلت نہ دی اور انہیں عام انتخابات کا اعلان کرنا پڑا۔ بعدازاں انہی کے ہاتھوں دفعہ 239 میں اس طرح ترمیم سرزد ہوئی کہ نئے صوبے بنانا مشکل تر بنا دیا گیا‘ متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کی حمایت کی شرط نے منظر بدل ڈالا: ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ۔
اس بحث سے قطع نظر‘ سندھ اسمبلی کی قرارداد نے ماحول کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ اگرچہ یہ اتفاقِ رائے سے منظور نہیں ہوئی‘ ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی پر مشتمل اپوزیشن نے اس کی حمایت کرنے کے بجائے واک آؤٹ کیا تاہم یہ بات معنی خیز ہے کہ کسی اپوزیشن رکن نے واضح طور پر سندھ کی تقسیم کا مطالبہ نہیں کیا‘ وہ انتظامی یونٹس کے قیام ہی پر زور دیتے رہے۔
سندھ اسمبلی کی اس قرارداد کے بعد یہ بات ایک سو نہیں ایک ہزار فیصد عیاں ہو گئی ہے کہ پیپلز پارٹی اور اس کے جملہ ہم نوا کسی طور سندھ کی جغرافیائی حدود میں کسی نئے صوبے کے قیام کی اجازت نہیں دیں گے۔ مسلم لیگ(ن) نے ابھی تک کسی واضح مؤقف کا اعلان نہیں کیا۔ اس کے بعض وزرا دھیمے لہجے میں نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کر رہے ہیں‘ لیکن اس پر جم کر بات نہیں کر پاتے‘ قیادت نے اس پر چپ سادھ رکھی ہے یا پیپلز پارٹی کی اوٹ لے لی ہے۔ جہاں تک تحریک انصاف کا تعلق ہے‘ اس کے منشور میں نئے صوبوں کے قیام کی تجویز موجود تھی لیکن فی الوقت اس کے رہنما اس حوالے سے محتاط الفاظ میں بات کر رہے ہیں۔ شدو مد سے مخالف کی جا رہی ہے نہ حمایت۔ یہ البتہ کہا جا رہا ہے کہ اس بارے میں فیصلہ عمران خان کریں گے۔ گویا‘ عمران خان کی حمایت حاصل کرنے کیلئے کچھ نہ کچھ ان کی نذر کرنا پڑے گا۔ باخبر سمجھے جانے والے اینکر پرسن اور تجزیہ کار اصرار کر رہے ہیں کہ مقتدرہ نئے صوبوں کے قیام کا فیصلہ کر چکی ہے‘ اسے بہرحال پیش قدمی کرنا ہے۔ اس میں کہاں تک صداقت ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن یہ بات بہرحال واضح ہے کہ اگر مسلم لیگ(ن) نے نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کی تو اس کی وفاقی حکومت برقرار نہیں رہ سکے گی۔ اگر عمران خان اس سمت قدم بڑھاتے ہیں تو پھر ان کی مشکلات کو آسانیوں میں تبدیل کرنا ہو گا۔
دستور کے مطابق اقدام کرنے کیلئے پہلے دستور میں ترمیم کر کے دفعہ 239 کا ابتدائی متن بحال کرنے کی تجویز بھی پیش کی جا رہی ہے‘ ایسا ہو گیا تو سینیٹ اور قومی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت فیصلہ کن ہو گی‘ صوبائی اسمبلیوں سے منظوری کی ضرورت پیش رہے گی لیکن یہ پاپڑ بیلنے سے پہلے اس سوال کا جواب دینا ہو گا کہ کیا پاکستانی ریاست اس وقت کسی نئے تنازعے کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے؟ کسی نئے محاذِ جنگ کی متحمل ہو سکتی ہے؟ صوبائی دارالحکومتوں میں اختیارات کا ارتکاز پریشان کن ہے‘ وسائل اور اختیارات کی نچلی سطح تک تقسیم کے بغیر ریاست مستحکم نہیں ہو گی۔ ہماری جمہوریت کے پاؤں زمین پر نہیں ٹک سکیں گے۔ اس بات سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا لیکن اس کا ازالہ کرنے کیلئے ایسا راستہ تلاش کرنا ہو گا جس سے سرکشی اور انانیت کا سانپ تو مر جائے لیکن عصائے کلیمی موجود و مضبوط رہے۔
