عمران کے بیٹوں کا انٹرویو ایئر ٹائم خرید کر چلوایا گیا؟

تحریک انصاف کی جانب سے پاکستان میں عمران خان کی رہائی کے لیے کوئی مؤثر تحریک چلانے میں ناکامی کے بعد کرکٹرز اور کرکٹ کے میدان کو اس مقصد کے لیے استعمال کرنے کے لیے جمائمہ گولڈ سمتھ کے خاندان نے لارڈز میں پاکستان اور انگلینڈ کے میچ کی لائیو براڈکاسٹنگ کرنے والے ادارے سکائی سپورٹس سے ایئر ٹائم خرید کر عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو نشر کروایا۔

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید نے اپنے تجزیے میں بتایا ہے کہ کرکٹ میچ کے دوران عمران خان کے بیٹوں کا سیاسی انٹرویو نشر ہونا دنیائے کرکٹ کی تاریخ میں ایک نئی روایت قرار دیا جا رہا ہے۔ تو ہم ان کے خیال میں اس انٹرویو سے عمران کو فائدے کی بجائے نقصان ہوگا اور انہیں قید رکھنے والی حکومت اور بھی زیادہ سختی کرے گی۔ یاد رہے کہ اس انٹرویو میں پاکستانی فیصلہ سازوں پر کھل کر الزامات عائد کیے گئے اور یہ بھی کہا گیا کہ عمران کو قید تنہائی میں رکھ کر جان سے مارنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم انٹرویو لینے والے سابق برطانوی کرکٹر نے یہ حقیقت نہیں بتائی کہ عمران خان سزا یافتہ مجرم ہیں اور جیل میں قید کاٹ رہے ہیں۔

نصرت جاوید کے مطابق گزشتہ دنوں لارڈز میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچ کے پہلے روز لنچ بریک کے دوران سکائی سپورٹس نے معمول کے مطابق پہلے سیشن کے کھیل پر تجزیہ پیش کرنے کے بجائے عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو نشر کیا۔ ان کے بقول سکائی سپورٹس کی جانب سے میچ کے انتہائی اہم وقفے کو اس مقصد کے لیے استعمال کرنا حیران کن تھا، تاہم عمران خان کے حامیوں نے اس انٹرویو کا بھرپور خیر مقدم کیا اور اسے بانی تحریک انصاف کے معاملے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر عمران خان کے حامیوں کی جانب سے یہ دعوے بھی کیے گئے کہ جب ان کے بیٹوں کا انٹرویو عالمی سطح کے کرکٹ براڈکاسٹر پر نشر ہوگیا ہے تو اس کے نتیجے میں پاکستان کی حکومت پر دباؤ بڑھے گا اور وہ عدالتی فیصلے کے مطابق عمران کو جیل سے نجی ہسپتال منتقل کرنے پر مجبور ہوجائے گی۔ تاہم بظاہر ایسا نہیں ہو پایا۔

نصرت جاوید کہتے ہیں کہ چند روز قبل سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے عمران کے طبی مسائل کے تفصیلی جائزے کے لیے انہیں سرکاری ہسپتال کے بجائے ان کی ترجیح کے نجی ہسپتال الشفا منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس فیصلے پر قانونی ماہرین کی جانب سے مختلف اعتراضات سامنے آسکتے تھے، تاہم انہوں نے ان اعتراضات کو نظر انداز کرتے ہوئے یہ توقع کی کہ حکومت سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد کرے گی۔ تاہم 20 اور 21 اگست کی درمیانی شب عمران خان کو ان کی ترجیح کے نجی ہسپتال منتقل کرنے کے بجائے اسلام آباد کے سرکاری پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز یعنی پمز ہسپتال لے جایا گیا، جہاں کچھ وقت گزارنے کے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔

اس صورتحال نے تحریک انصاف کی جانب سے عدالتی حکم پر عمل نہ ہونے کے الزامات کو مزید تقویت دی۔
نصرت کے مطابق عمران کی بہن کی جانب سے حکومت کے خلاف توہین عدالت کی درخواست بھی دائر کی گئی ہے جبکہ حکومت نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کررکھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قانونی معاملات کی باریکیوں سے مکمل واقفیت نہ ہونے کے باوجود انہیں امید تھی کہ سپریم کورٹ اپنے حکم پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے حکومت کو واضح ہدایات دے سکتی ہے۔

اسی پس منظر میں لارڈز ٹیسٹ کے دوران عمران خان کے بیٹوں کا سکائی سپورٹس پر انٹرویو نشر ہونا نصرت جاوید کے لیے باعث تشویش بن گیا۔ ان کے مطابق انہوں نے اپنے ذاتی مشاہدات اور ملک کی سیاسی تاریخ کے تجربے کی بنیاد پر یہ خدشہ ظاہر کیا کہ اس نوعیت کی عالمی میڈیا مہم عمران خان کی جیل سے ہسپتال منتقلی کے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھی اس حوالے سے اپنا خدشہ بیان کیا، جسے ان کے مطابق ایک لاکھ سے زائد افراد نے دیکھا۔ تاہم ان کے مؤقف کے جواب میں عمران خان کے حامیوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ بعض افراد نے الزام عائد کیا کہ عالمی دباؤ کے ذریعے عمران خان کی جیل سے ہسپتال منتقلی رکوانے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس مقصد کے لیے حکومت کے ناقد صحافیوں کو بھی استعمال کیا جارہا ہے۔

نصرت جاوید نے اس تنقید کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اس قسم کے الزامات کی عادت ہوچکی ہے، تاہم ان کے نزدیک پاکستان کی سیاسی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ حکومتیں حساس معاملات میں بیرونی دباؤ قبول کرنے کے بجائے بعض اوقات اس کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف عالمی سطح پر کسی معاملے کو اجاگر کردینا ہمیشہ مطلوبہ سیاسی یا حکومتی نتیجے کی ضمانت نہیں ہوتا۔ اپنے مؤقف کی وضاحت کے لیے نصرت جاوید نے ذوالفقار علی بھٹو کے دور اور ان کی اہلیہ بیگم نصرت بھٹو کی مثال بھی پیش کی۔ ان کے مطابق وہ نوجوان رپورٹر کی حیثیت سے بھٹو کی پھانسی رکوانے کے لیے ہونے والی عالمی کوششوں کے عینی شاہد رہے، تاہم اس وقت عالمی دباؤ ذوالفقار علی بھٹو کی جان بچانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

انہوں نے بتایا کہ بھٹو کی پھانسی کے بعد بیگم نصرت بھٹو طویل عرصے تک کراچی میں نظر بند رہیں اور بعدازاں ان کی صحت کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہوئے۔ اس دوران وہ لندن میں موجود تھے جہاں بھٹو خاندان کے بعض حامی بیگم نصرت بھٹو کے علاج کے لیے بیرون ملک منتقلی کی کوشش کررہے تھے، لیکن کوئی مؤثر پیش رفت نہیں ہو رہی تھی۔ نصرت جاوید کے مطابق اسی دوران بھٹو خاندان کے دیرینہ دوست اور معروف دندان ساز ڈاکٹر ظفر نیازی نے خاموشی سے اس معاملے کو عالمی سطح پر اٹھانے کی کوشش شروع کی۔ انہوں نے امریکہ کے بعض اہم سینیٹرز کو خطوط لکھے، بیگم نصرت بھٹو کی ایکسرے رپورٹس اور طبی دستاویزات حاصل کیں اور ان کی بنیاد پر ان کے بیرون ملک علاج کے لیے کوششیں کیں۔

ان کے بقول اس مہم کا انداز انتہائی محتاط تھا اور اس میں میڈیا میں شور شرابے کے بجائے پس پردہ سفارتی اور سیاسی روابط استعمال کیے گئے۔ بالآخر ان کوششوں کے نتیجے میں جنرل ضیاء الحق کی حکومت بیگم نصرت بھٹو کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دینے پر آمادہ ہوئی۔ نصرت جاوید کے مطابق اس تجربے سے یہ سبق ملتا ہے کہ حکومتوں سے حساس معاملات میں ریلیف حاصل کرنے کے لیے صرف عوامی یا عالمی دباؤ کافی نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات خاموش سفارتی کوششیں زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتی ہیں۔ ان کے خیال میں کوئی بھی حکومت خواہ کتنی ہی کمزور کیوں نہ ہو، ایسے معاملے میں یہ تاثر دینے سے گریز کرتی ہے کہ اس نے بیرونی دباؤ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔ لہذا سکائی نیوز پر عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو نشر ہونے سے تحریک انصاف کے بانی کو فائدے کی بجائے نقصان زیادہ ہوگا۔

Back to top button