سہیل وڑائچ نے نظام کی تباہی کی پیش گوئی کیوں کر دی؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے دعوی کیا ہے کہ ملکی سیاست انگڑائی لے رہی ہے اور سیاسی نظام تباہی کی جانب بڑھتا نظر آتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب ہر روز کچھ نہ کچھ ایسا ہورہا ہے جس سے یہ تاثر مضبوط ہورہا ہے کہ حکومت سمٹتی جارہی ہے۔ پاک بھارت جنگ میں فتح، امریکا سے دوستی اور مشرق وسطیٰ میں ثالثی کے کردار سے حکومت کو ملنے والا وقتی سیاسی ریلیف بھی اب ختم ہوچکا ہے، حالات فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں اور تحریک انصاف کے مشکل دن ختم ہونے کو ہیں۔
روزنامہ جنگ کے لیے سہیل وڑائچ نے ’’کاکروچ اور کیڑی‘‘ کے عنوان سے اپنے تجزیے میں ملکی سیاست کو حشرات الارض کی علامتوں کے ذریعے بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی سیاست میں جسے کاکروچ کہا جارہا ہے، اردو اور پنجابی میں اسے لال بیگ کہتے ہیں، جبکہ چیونٹی کو پنجابی میں ’کیڑی‘ کہا جاتا ہے۔ ان کے بقول پاکستان میں بھی نوجوان نسل کی بغاوت یا ’’کاکروچ سیاست‘‘ کے آغاز کے خدشات ظاہر کیے جارہے ہیں، تاہم پاکستان کی سیاسی تاریخ اس سے مختلف مزاج رکھتی ہے۔
سہیل وڑائچ کے مطابق کاکروچ اور چیونٹی دونوں چھ ٹانگوں والے حشرات ہیں لیکن ان کے طرزِ زندگی میں بنیادی فرق ہے۔ کاکروچ کونوں کھدروں میں چھپ کر رہتا ہے اور اسے اپنی بقا کا فن آتا ہے۔ وہ موقع پرست اور انفرادیت پسند ہوتا ہے اور خطرہ محسوس ہوتے ہی اپنی جان بچانے کے لیے چھپ جاتا ہے، اسے اس بات سے زیادہ غرض نہیں ہوتی کہ دوسرے کاکروچوں کے ساتھ کیا ہوا۔ اس کے برعکس چیونٹی ایک منظم، محنتی اور اجتماعی مخلوق ہے، جو خاندان کی صورت میں رہتی ہے، اپنے کام تقسیم کرتی ہے اور خطرے کی صورت میں اپنے ساتھیوں کو فوراً خبردار کرتی ہے۔
سہیل وڑائچ نے محمد علی جناح اور جواہر لال نہرو کی سیاسی جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نہرو نوجوان تھے جبکہ جناح عمر رسیدہ، لیکن پاکستان کا قیام جناح کی قیادت میں عمل میں آیا۔ انہوں نے مختلف فوجی ادوار کے مقابل سیاسی مزاحمت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بظاہر کمزور اور منتشر نظر آنے والے سیاسی عناصر بھی اجتماعی جدوجہد کے ذریعے طاقتور حکمرانوں کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کے بقول ’لال بیگ‘ اکیلے لڑتے ہیں جبکہ ’کیڑیاں‘ اجتماعی انداز میں مقابلہ کرتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ سیاست ہمیشہ سے سانپ اور سیڑھی کا کھیل رہی ہے اور بظاہر موجودہ دور میں طاقت کا ایسا غلبہ ہے کہ سیاست کے لیے گنجائش ہی باقی نہیں رہی۔ انکے۔مطابق گزشتہ چند برسوں کی سیاست کو اگر صفر قرار دیا جائے تو شاید حالات کی درست ترجمانی ہوگی۔
بقول سہیل وڑائچ، سیاست صفر، مزاحمت صفر، بغاوت صفر، جدوجہد صفر، انسانی حقوق کی جنگ صفر، عدالتی مداخلت صفر اور بیرون ملک سے اخلاقی امداد بھی صفر دکھائی دیتی ہے، جس سے بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ دور دور تک کسی جمہوری یا سیاسی چشمے سے میٹھا پانی نکلنے کا امکان موجود نہیں۔ تاہم ان کے مطابق یہ صورتحال حقیقت کا صرف ایک رخ ہے، کیونکہ تاریخ کا دوسرا رخ یہ بتاتا ہے کہ جب مایوسی بڑھتی ہے اور ایک گروہ یا نسل کی سیاسی مزاحمت کچلی جاتی ہے تو اس کی جگہ دوسری کھیپ سامنے آجاتی ہے۔ انہوں نے ایوب خان کے دور کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پروڈا کے ذریعے سہروردی، فیروز خان نون، کھوڑو اور دیگر بڑے سیاسی رہنماؤں کو خاموش کیا گیا، لیکن اس کے بعد ذوالفقار علی بھٹو ابھرے اور بالآخر ایوب خان کو اقتدار سے رخصت ہونا پڑا۔
ان کے مطابق تاریخ کا سبق یہی ہے کہ بظاہر حقیر اور کمزور سمجھے جانے والے عناصر بھی اجتماعی طاقت حاصل کرکے بڑے سے بڑے سیاسی ’’ہاتھی‘‘ کو گرا سکتے ہیں۔ انہوں نے اپنے استعاراتی تجزیے میں کہا کہ دنیا جتنی بھی جدید اور سائنسی ہوجائے، سیاست میں ’’طلسم‘‘ اور ہجومی نفسیات کا کردار برقرار رہتا ہے۔ انکے خیال میں اگر ’کیڑیوں‘ نے کسی مرحلے پر خود کو منظم کرلیا تو محض روایتی سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں سے معاملہ آگے بڑھ کر ایک بڑی عوامی تحریک کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔ ان کے مطابق چیونٹی کو جلدی نہیں ہوتی، وہ پہلے راستے تلاش کرتی ہے، اور جب ایک مرتبہ راستہ مل جائے تو قطار در قطار اپنے ہدف کی جانب بڑھتی چلی جاتی ہے۔
ملکی سیاسی صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے وڑائچ نے کہا کہ سیاست نے ایک مرتبہ پھر انگڑائی لینا شروع کردی ہے اور نظام کے تباہی کی جانب بڑھنے کی کہانی کے ساتھ ساتھ ہر روز کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ سامنے آرہا ہے جس سے حکومت کے سکڑنے کا تاثر مضبوط ہورہا ہے۔ ان کے مطابق پاک بھارت جنگ میں فتح، امریکا سے دوستی اور مشرق وسطیٰ میں پاکستان کے کردار سے حکومت کو جو وقتی ریلیف ملا تھا، وہ اب خاک میں مل چکا ہے اور حکومت کو دوبارہ شدید سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کو ’نونی کیڑیاں‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت اپنے بلوں میں چھپی ہوئی ہیں اور مشکل سوالات کا سامنا کرنے سے قاصر دکھائی دیتی ہیں۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی سے وابستہ ’کیڑیاں‘ بھی افسردہ ہیں کیونکہ انہیں ایک مرتبہ پھر سیاسی جدوجہد کے مرحلے میں داخل ہونا پڑ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے اندر بھی بعض حلقے یہ سمجھتے ہیں کہ اقتدار نے جماعت کو نقصان پہنچایا، جبکہ بعض دیگر اقتدار برقرار رہنے کے خواہاں ہیں کیونکہ وہ دوبارہ سیاسی مشکلات اور مزاحمت کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں۔
سہیل وڑائچ کے مطابق سیاسی صفوں میں رائے اگرچہ تقسیم ہے، تاہم پیپلز پارٹی کے بعض حلقوں کو یقین ہے کہ اب فیصلے کا وقت آچکا ہے۔ دوسری جانب تحریک انصاف کے حامیوں اور کارکنوں کو محسوس ہورہا ہے کہ ان کے مشکل دن ختم ہونے کو ہیں اور سیاسی ’’لڈو‘‘ کے کھیل میں سانپ کے ڈسنے کا موسم شاید ختم ہورہا ہے جبکہ ان کے لیے دوبارہ سیڑھیاں دستیاب ہونے کا امکان پیدا ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار کے اصل مرکز کو سارے ماحول کا ادراک ہے اور وہ جانتا ہے کہ اس کے پاس وقت کم ہے۔ ان کے مطابق طاقت کے اس مرکز کو یہ احساس بھی ہے کہ موجودہ اور اگلا سال اصلاحات کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ اگر ان برسوں میں بھی مصلحت سے کام لیا گیا اور ضروری اصلاحات نہ کی گئیں تو موجودہ دورِ عروج گزر جائے گا اور اس کے بعد اصلاحات یا تبدیلی کی خواہش شاید کبھی پوری نہ ہوسکے۔
سہیل وڑائچ نے خبردار کیا کہ موجودہ حالات کی تیزی نے سیاست کو اپنے حصار میں لے لیا ہے اور آنے والے دنوں میں فیصلہ کن مراحل سامنے آسکتے ہیں۔ ان کے مطابق زیادہ امکان یہی ہے کہ طاقتور ’مادر ملکہ‘ چیونٹیوں سے اپنی مرضی منوانے میں کامیاب ہوجائے گی، لیکن سیاسی بساط پر موجود اتحادوں اور صف بندیوں میں تبدیلی ناگزیر دکھائی دے رہی ہے۔ اگر پیپلز پارٹی اقتدار کے موجودہ گھونسلے سے نکلتی ہے تو اس کی جگہ لینے کے لیے تحریک انصاف سے وابستہ سیاسی قوتیں موجود ہو سکتی ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر اقتدار کی مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی موجودہ جوڑی ٹوٹ گئی تو حالات قابو سے باہر بھی ہو سکتے ہیں۔ سہیل وڑائچ کے مطابق سیاسی مفادات، طاقت کے مراکز، دوستوں اور مخالفین کی صف بندی میں بڑی تبدیلی آسکتی ہے؛ کچھ موجودہ دوست دشمن اور کچھ موجودہ دشمن دوست بن سکتے ہیں۔ ان کے خیال میں گرفتار سیاسی رہنماؤں اور طاقت کے مراکز کے درمیان خواہ کوئی معاہدہ ہوجائے یا کوئی ضامن سامنے آجائے، موجودہ سیاسی بحران کا بنیادی مسئلہ صرف ایسے معاہدوں سے حل ہونا مشکل ہے۔
