مجتبی خامنہ ای عوام کے سامنے آنے سے گریزاں کیوں؟

ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای چھ ماہ پہلے امریکی حملوں میں زخمی ہونے کے بعد سے ابھی تک عوام کے سامنے نہیں آئے۔ انکی مسلسل غیر حاضری کی بنیادی وجہ پاسداران انقلاب کی حکمت عملی ہے جسکا مقصد انہیں ممکنہ امریکی اور اسرائیلی حملوں سے محفوظ رکھنا ہے۔ یاد رہے کہ مجتبی کے والد اور سابق سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای فروری 2026 میں امریکی میزائل حملوں میں شہید ہو گئے تھے۔ مجتبی بھی تب ان کے ساتھ موجود تھے لیکن زخمی ہونے کے باوجود زندہ بچ گئے۔
ایران پر امریکی حملوں کے چھ ماہ مکمل ہونے کے بعد اب مجتبیٰ خامنہ ای ایک بار پھر تحریری پیغام کے ذریعے منظرِ عام پر آئے ہیں، مگر خود منظرِ عام پر نہیں آئے۔ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف اسلامی ممالک کو متحد ہونے کی اپیل کرنے والے مجتبیٰ خامنہ ای کے نام سے گزشتہ چند ماہ کے دوران کئی بیانات جاری ہو چکے ہیں، لیکن ان کی کوئی نئی تصویر، ویڈیو یا آواز ایرانی عوام کے سامنے نہیں آئی۔ ان کی مسلسل غیر موجودگی نے ان کی صحت، سکیورٹی اور ایران میں اصل فیصلہ سازی کے حوالے سے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے ہفتۂ وحدتِ اسلامی کے موقع پر جاری پیغام میں مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی ممالک کے رہنماؤں سے امریکہ اور اسرائیل کے مقابلے میں متحد ہونے کی اپیل کی۔ انہوں نے خطے کے رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ اپنے حقیقی دشمن کو پہچانیں اور اسکی سازشوں کا مقابلہ کریں، جبکہ ایرانی عوام سے بھی اختلافات سے گریز اور داخلی اتحاد برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ چند روز کے دوران مجتبیٰ خامنہ ای کے نام سے جاری ہونے والا یہ دوسرا پیغام ہے جس میں داخلی اتحاد پر زور دیا گیا ہے۔ تاہم ان پیغامات کے باوجود ان کی اپنی عوامی غیر موجودگی بدستور ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔ رہبرِ اعلیٰ جیسے طاقتور منصب پر فائز شخصیت کا مسلسل صرف تحریری پیغامات کے ذریعے سامنے آنا غیر معمولی صورت حال تصور کی جا رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کی صحت اور سکیورٹی کے بارے میں قیاس آرائیاں جاری ہیں۔
یاد ریے کہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے والد کی موت کے بعد ایران کی قیادت سنبھالی تھی۔ جنگ کے آغاز میں ہونے والے حملوں کے دوران وہ بھی زخمی ہوئے تھے۔ انہیں چہرے اور ٹانگوں پر شدید نوعیت کی چوٹیں آئی تھیں، تاہم ایرانی حکومت نے ان کی جسمانی حالت کے بارے میں کوئی تفصیلی طبی معلومات عوام کے سامنے پیش نہیں کیں۔ رپورٹس کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کی طویل غیر موجودگی کی ایک وجہ ان کی جسمانی حالت بھی ہو سکتی ہے۔ ان کے قریبی حلقوں کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آتا رہا ہے کہ وہ اپنی چوٹوں سے صحت یاب ہو رہے ہیں اور اہم ریاستی معاملات میں بدستور شریک ہیں۔ تاہم ان کی صحت کے بارے میں دستیاب اطلاعات کی آزادانہ عوامی سطح پر مکمل تصدیق نہیں ہو سکی، جس کے باعث ان کی اصل جسمانی حالت کے بارے میں سوالات برقرار ہیں۔
دوسری اور زیادہ اہم وجہ ان کی سکیورٹی قرار دی جا رہی ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے دوبارہ نشانہ بنائے جانے کے خدشے کے باعث مجتبیٰ خامنہ ای کا مقام، نقل و حرکت اور معمولات انتہائی خفیہ رکھے جا رہے ہیں۔ اس حکمت عملی کا مقصد مبینہ طور پر دشمن کی انٹیلی جنس کو ان کے مقام تک رسائی حاصل کرنے سے روکنا اور ایران کی قیادت کو ایک اور ممکنہ حملے سے محفوظ رکھنا ہے۔
ادھر ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای اعلیٰ سرکاری عہدیداروں سے مسلسل رابطے میں ہیں اور جنگ، معیشت، دفاع اور خارجہ پالیسی سمیت اہم معاملات پر رپورٹس وصول کرتے ہیں۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے بھی یہ دعویٰ سامنے آ چکا ہے کہ ان کی مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ طویل ملاقات ہوئی۔ تاہم اس کے باوجود یہ واضح نہیں کہ وہ روزمرہ حکومتی معاملات میں کس حد تک براہِ راست شریک ہیں اور اہم فیصلوں پر ان کا عملی اثر کتنا ہے۔
ایرانی حکومتی ذرائع کے مطابق روزمرہ حکومتی امور کا ایک بڑا حصہ سینئر حکام کے ذریعے چلایا جا رہا ہے جبکہ اہم اور تزویراتی معاملات میں آخری اختیار مجتبیٰ خامنہ ای کے پاس ہے۔ اس نظام میں پاسدارانِ انقلاب، صدر مسعود پزشکیان، پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور قومی سلامتی کے اعلیٰ عہدیدار اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ جنگ کے بعد پاسدارانِ انقلاب کے اثر و رسوخ میں اضافے کی اطلاعات نے بھی ایران میں طاقت کے توازن کے بارے میں بحث چھیڑ دی ہے۔
بعض تجزیہ کاروں کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کی مسلسل غیر موجودگی کے باعث ایران میں فیصلہ سازی پہلے کے مقابلے میں زیادہ اجتماعی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ اگر رہبرِ اعلیٰ طویل عرصے تک عوامی سطح پر سامنے نہیں آتے تو طاقتور ریاستی اداروں اور مختلف سیاسی و عسکری دھڑوں کے درمیان اثر و رسوخ کی کشمکش بڑھنے کا امکان موجود ہے۔ ایسے میں ایک بنیادی سوال یہ ہوگا کہ رہبرِ اعلیٰ کی ہدایات اور ریاستی اداروں کے اجتماعی فیصلوں میں فرق کیسے طے کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب جنگ کے بعد ایران کو شدید اقتصادی اور سیاسی چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ امریکی پابندیاں، جنگی اخراجات، تیل کی برآمدات پر دباؤ اور کرنسی کی قدر میں کمی نے ایرانی معیشت کے مسائل میں اضافہ کیا ہے۔ ایرانی قیادت کے لیے ایک طرف دفاعی صلاحیت بحال کرنا ضروری ہے تو دوسری طرف عوام کو درپیش معاشی مشکلات پر قابو پانا بھی ناگزیر ہے، کیونکہ طویل معاشی بحران داخلی بے چینی اور احتجاج کو دوبارہ جنم دے سکتا ہے۔
ایسے میں مجتبیٰ خامنہ ای کی مسلسل خاموشی اور عوامی غیر موجودگی محض ایک ذاتی یا طبی معاملہ نہیں رہی بلکہ یہ ایران کی حکمرانی، طاقت کے توازن اور مستقبل کی سیاسی سمت سے جڑا اہم سوال بن چکی ہے۔ ایرانی حکومت کا مؤقف ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ، باخبر اور فیصلہ سازی میں شریک ہیں، جبکہ ان کے نام سے تحریری پیغامات بھی مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔ لیکن جب تک ایران کا نیا رہبرِ اعلیٰ خود عوام کے سامنے آ کر اپنی آواز میں بات نہیں کرتے، ان کی صحت، عملی اختیار اور ایران میں اصل طاقت کے مرکز سے متعلق سوالات برقرار رہیں گے۔
