کیا اب کوئی ٹیکنوکریٹ ہمارا وزیر اعظم بننے والا ہے؟

جیو نیوز سے وابستہ معروف صحافی اور اینکر پرسن حامد میر نے کہا ہے کہ تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی جانب سے آزاد کشمیر میں دو مرتبہ الیکشن ہارنے والے ایک ٹیکنوکریٹ کو وزیراعظم بنائے جانے کے بعد اب پاکستان میں بھی کسی ٹیکنوکریٹ وزیر اعظم کی آمد آمد ہے۔ ان کے بقول آزاد کشمیر کبھی پاکستانی سیاست کی تجربہ گاہ سمجھا جاتا تھا لیکن اب یہ تجربہ گاہ ایک ایسے سرکس میں تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے جہاں مختلف سیاسی مداری بے ہنگم انداز میں اپنے اپنے کرتب دکھا رہے ہیں۔

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں حامد میر نے کہتے ہیں کہ کسی زمانے میں آزاد کشمیر کو پاکستانی سیاست کی لیبارٹری کہا جاتا تھا، جہاں نت نئے سیاسی تجربات کیے جاتے اور بعد ازاں ان تجربات کو پاکستانی سیاست میں دہرایا جاتا تھا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ لیبارٹری اب ایک سرکس بنتی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق ستم ظریفی یہ ہے کہ ان مداریوں کے کسی بھی کرتب میں ہاتھ کی صفائی نظر نہیں آتی، بلکہ پرانے سیاسی تجربات کو نئے کرتب کے طور پر فخریہ انداز میں پیش کیا جاتا ہے اور جب انہیں داد نہیں ملتی تو وہ برا مناتے ہیں۔

حامد میر کے مطابق آزاد کشمیر میں وزیراعظم کے حالیہ انتخاب کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے آزاد کشمیر میں اپنی جماعت کے صدر اور سابق سپیکر شاہ غلام قادر کو نظرانداز کرتے ہوئے افتخار گیلانی کو وزیراعظم منتخب کرایا، جو مسلسل دو مرتبہ انتخابات ہار چکے ہیں۔ افتخار گیلانی 2026ء کا الیکشن ہارنے کے بعد ٹیکنوکریٹ کی نشست پر اسمبلی میں پہنچے اور اسی نشست پر رکن اسمبلی بنتے ہی بعض بااختیار حلقوں نے انہیں وزارت عظمیٰ کے امیدواروں کی فہرست میں شامل کر لیا۔ افتخار گیلانی کے حق میں سب سے بڑی دلیل یہ دی گئی کہ وہ انتہائی پڑھے لکھے شخص ہیں۔ تاہم حامد میر کے مطابق اگر یہی دلیل درست مان لی جائے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان کے اپنے حلقے کے عوام نے اتنے لائق فائق امیدوار کے حق میں فیصلہ کیوں نہیں دیا۔

انہوں نے شاہ غلام قادر کے سیاسی پس منظر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کے بانی رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ غلام قادر نے سردار سکندر حیات اور راجہ فاروق حیدر کے ہمراہ 2010ء میں مسلم کانفرنس چھوڑ کر مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کی تھی۔ سردار سکندر حیات بعد میں مسلم کانفرنس میں واپس چلے گئے، تاہم راجہ فاروق حیدر اور شاہ غلام قادر مسلم لیگ (ن) کے ساتھ کھڑے رہے۔ حامد میر کے مطابق آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات میں شاہ غلام قادر نے پارٹی صدر کی حیثیت سے بھرپور محنت کی۔ وہ 1998ء میں پہلی مرتبہ مہاجر نشست پر آزاد کشمیر اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے، تاہم بعد ازاں انہوں نے وادی نیلم میں اپنی سیاسی بنیاد مضبوط کی اور 2016ء میں پہلی مرتبہ وادی نیلم سے جنرل نشست پر انتخاب لڑ کر کامیابی حاصل کی۔

تجزیہ کار کے مطابق 2026ء کے انتخابات میں شاہ غلام قادر کو جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا تھا، تاہم انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے صدر کی حیثیت سے پورے آزاد کشمیر میں انتخابی مہم چلائی، اپنی نشست بھی جیتی اور جماعت کو بھی بڑی کامیابی دلائی۔ حامد میر نے مسلم لیگ (ن) کے اندر موجود اس مؤقف کا بھی ذکر کیا کہ آزاد کشمیر میں پارٹی کی حالیہ کامیابی کے پیچھے شاہ غلام قادر سے زیادہ مریم نواز کا کردار ہے۔ ان کے مطابق مریم نواز خود بھی یہ کہہ چکی ہیں کہ آزاد کشمیر کے عوام نے پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی کارکردگی کو ووٹ دیا ہے۔ تاہم حامد میر نے سوال اٹھایا کہ اگر مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر میں اتنی ہی مقبول تھی تو تمام تر ریاستی طاقت کے استعمال کے باوجود پونچھ کی سات نشستوں پر تاحال انتخابات کیوں نہیں ہو سکے؟

حامد میر کے مطابق پارٹی کی طرف سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ افتخار گیلانی کو وزیراعظم بنانے کا فیصلہ نواز شریف نے کیا کیونکہ وہ آزاد کشمیر میں ایک نیا چہرہ متعارف کرانا چاہتے تھے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اگر نواز شریف کو یہ نیا چہرہ اتنا ہی پسند تھا تو انہوں نے خود افتخار گیلانی کے ساتھ بیٹھ کر آزاد کشمیر کے لیے اس نئے چہرے کا اعلان کیوں نہیں کیا؟ حامد میر نے دعویٰ کیا کہ ان کی معلومات کے مطابق افتخار گیلانی کو وزیراعظم بنانے کا فیصلہ نواز شریف کا نہیں تھا۔ ان کے مطابق جب شاہ غلام قادر کو یہ اطلاع ملی کہ ٹیکنوکریٹ نشست پر رکن اسمبلی بننے والے افتخار گیلانی کو وزیراعظم بنایا جا رہا ہے تو انہوں نے نواز شریف کو ایک وائس میسج بھیجا، جس میں مؤدبانہ انداز میں کہا کہ اگر مسلسل دو مرتبہ الیکشن ہارنے والے شخص کو آزاد کشمیر کا وزیراعظم بنایا گیا تو وہ اس فیصلے کو قبول نہیں کریں گے اور مسلم لیگ (ن) کا عہدہ چھوڑنے پر مجبور ہوں گے، تاہم پارٹی کارکن کی حیثیت سے کام کرتے رہیں گے۔

حامد میر کے مطابق اس وائس میسج کے بعد نواز شریف نے شاہ غلام قادر کو فون کیا اور ان سے پوچھا کہ انہیں کس نے بتایا ہے کہ افتخار گیلانی کو وزیراعظم بنایا جا رہا ہے۔ شاہ غلام قادر نے جواب دیا کہ وہ آزاد کشمیر میں پارٹی کے صدر ہیں اور نو منتخب ارکان انہیں بتا رہے ہیں کہ ایک ٹیکنوکریٹ کو وزیراعظم بنانے کی تیاری ہو رہی ہے۔
تجزیے کے مطابق نواز شریف نے اس اطلاع کی تردید کی اور شاہ غلام قادر سے کہا کہ وہ اپنا وائس میسج ڈیلیٹ کردیں۔ بعد ازاں نواز شریف نے ان سے آزاد کشمیر اسمبلی کے اسپیکر کے لیے نام بھی طلب کیا۔ شاہ غلام قادر نے چوہدری طارق فاروق کا نام تجویز کیا جبکہ ڈپٹی سپیکر کے لیے بھی چند نام دیے اور آخری فیصلہ نواز شریف پر چھوڑ دیا۔ حامد میر کے مطابق اس موقع پر نواز شریف نے مریم نواز کا سلام بھی شاہ غلام قادر کو پہنچایا جو اس وقت ان کے پاس ہی موجود تھیں۔

حامد میر کے بقول دو روز بعد سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب ہوگیا، جس کے بعد شاہ غلام قادر اور راجہ فاروق حیدر کو وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد طلب کیا گیا۔ تاہم اس مرتبہ انہیں نواز شریف نے نہیں بلکہ وزیراعظم شہباز شریف نے بلایا تھا۔ اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف کے علاوہ رانا ثناء اللہ، خواجہ سعد رفیق اور دیگر افراد بھی موجود تھے۔ حامد میر نے دعویٰ کیا کہ اجلاس کے دوران رانا ثناء اللہ کی جانب سے افتخار گیلانی کو آزاد کشمیر کا وزیراعظم بنانے کا فیصلہ سنایا گیا تو شاہ غلام قادر سے پہلے راجہ فاروق حیدر نے ہی اس فیصلے کو مسترد کردیا۔ بعد ازاں شاہ غلام قادر نے بھی کہا کہ انہیں وزیراعظم نہ بنایا جائے، لیکن مسلم لیگ (ن) کے منتخب ارکان میں سے کسی کو بھی وزیراعظم بنا دیا جائے، وہ اسے ووٹ دے دیں گے، تاہم وہ ایک غیر منتخب شخص کو وزیراعظم کا ووٹ نہیں دیں گے۔ شہباز شریف نے شاہ غلام قادر کو قائل کرنے کی کوشش کی، لیکن انہوں نے کسی کے ہاتھ کا دستانہ بننے سے معذرت کرلی۔

حامد میر کے مطابق آزاد کشمیر میں کسی غیر معمولی سیاسی تجربے کے ذریعے نیا چہرہ متعارف کرانے کی یہ پہلی مثال نہیں۔
انہوں نے ماضی کی مثال دیتے ہوئے لکھا کہ جنرل ایوب خان نے 1961ء میں کے ایچ خورشید کو سردار ابراہیم اور سردار عبدالقیوم کے مقابلے میں ایک نئے چہرے کے طور پر متعارف کرایا اور انہیں صدر آزاد کشمیر بنایا۔ کے ایچ خورشید نے یونیورسٹی آف لندن سے قانون کی ڈگری حاصل کر رکھی تھی، تاہم حامد میر کے مطابق یہ تجربہ چند ہی برسوں میں ناکام ہوگیا اور انہیں صدارت سے ہٹا دیا گیا۔
اسی طرح حامد میر نے بیرسٹر سلطان محمود کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کئی برس بعد انہیں بھی وزیراعظم بنا کر نیا چہرہ قرار دیا گیا، تاہم ان کے بقول انہوں نے اپنی سیاسی زندگی میں پارٹیاں تو بہت بدلیں لیکن آزاد کشمیر کے حالات تبدیل نہ ہو سکے۔
حامد میر نے تاہم کے ایچ خورشید اور بیرسٹر سلطان محمود کے معاملے اور موجودہ صورتحال میں ایک بنیادی فرق کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنما انتخابات جیت کر آئے تھے، جبکہ افتخار گیلانی گزشتہ دو انتخابات ہار چکے ہیں۔
ان کے مطابق افتخار گیلانی آزاد کشمیر کے وزیراعظم بن گئے اور شاہ غلام قادر کو منانے کے لیے ان کے گھر بھی پہنچے، لیکن ان کے وزیراعظم بننے سے پاکستانی سیاست کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے۔

حامد میر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس فیصلے کا اثر پاکستان کی سیاست پر بھی پڑ سکتا ہے اور پاکستانی سیاستدان اپنے حلقوں میں محنت کرکے عوام سے براہ راست مینڈیٹ لینے کے بجائے کسی بااثر شخصیت کو خوش کرکے اقتدار تک پہنچنے کے راستے کو ترجیح دینے لگیں گے۔ انکے۔مطابق اسی لیے اب اسلام آباد میں بھی ایک ٹیکنوکریٹ کو وزیر اعظم بنانے کی افواہیں زور پکڑ رہی ہیں۔

Back to top button